Episode 1
پتھر کا سردار

زرن آباد کی صبح ہمیشہ سردار امان خان کے دسترخوان سے شروع ہوتی تھی۔
شہر کے بڑے چوک میں، پرانے برگد کے نیچے، لمبا دسترخوان بچھا ہوتا۔ مسافر ہو یا مزدور، فقیر ہو یا تاجر — جو آئے، بلا پوچھے کھانا کھائے۔ سردار خود کھڑے ہو کر سب کو کھلاتے، اور جب کوئی شکر گزار ہونے لگتا تو ہنس کر کہتے: "یہ میرا نہیں، اس شہر کا رزق ہے۔ میں تو بس بانٹنے والا ہوں۔"
اس صبح بھی دسترخوان بھرا ہوا تھا۔ کانپتے ہوئے ایک بوڑھے مسافر کو دیکھ کر سردار نے اپنے کندھوں کی گرم شال اتار کر اس کے کندھوں پر ڈال دی۔ ایک بیوہ عورت اپنے مرحوم شوہر کے قرض کا رو رو کر ذکر کر رہی تھی تو سردار نے خزانچی کو اشارہ کیا — قرض اسی وقت ختم۔ لوگ دعائیں دیتے ہوئے اٹھ رہے تھے۔
یہ سب دیکھ رہا تھا ان کا بیٹا — مہران۔
انیس سال کا مہران اپنے والد کی طرح لمبا، مگر آنکھوں میں ایک عجیب سی بے چینی لیے پھرتا تھا، جیسے اسے کہیں جانا ہو اور راستہ معلوم نہ ہو۔ اس صبح وہ گھوڑوں کے اصطبل کے پاس تیر اندازی کی مشق کر رہا تھا۔ اس کا کالا گھوڑا طوفان قریب کھڑا کان ہلائے اسے دیکھ رہا تھا، جیسے ہر تیر کا حساب رکھتا ہو۔ باز شاہین اوپر نیلے آسمان میں چکر کاٹ رہا تھا، اور سبز طوطا — سردار کا پالتو سبْز — قریبی ٹہنی پر بیٹھا مہران کی نقل اتار رہا تھا: "نشانہ ٹھیک! نشانہ ٹھیک!"
"ابا کہتے ہیں طاقت وہ نہیں جو لے لے، طاقت وہ ہے جو دے دے،" مہران نے ایک بوڑھے مسافر کو اپنا ناشتہ دیتے ہوئے سوچا۔ مسافر نے دعا دی: "اللہ تیرے باپ کا سایہ سلامت رکھے، بیٹا۔"
اسی شام، سایہ سلامت نہ رہا۔
سورج ڈوبتے ہی شہر کے دروازے پر دھول کا بادل اٹھا۔ کالے پہاڑوں کی سمت سے ایک قافلہ آ رہا تھا — مگر یہ تاجروں کا قافلہ نہیں تھا۔ آگے آگے سیاہ زرہ پہنے سپاہی، اور درمیان میں ایک بلند ہاتھی، جس پر کوہِ سیاہ کا جادوگر بادشاہ قہار شاہ بیٹھا تھا۔ اس کے ساتھ اس کا وزیرِ خاص، زار — لومڑی جیسی آنکھوں والا شخص، جو سنتا کم اور سونگھتا زیادہ تھا۔
دربار میں قہار شاہ نے آتے ہی مطلب کی بات کی: "سردار، تمہارے خاندان کے پاس زمانے سے ایک انگوٹھی ہے — انگوٹھیِ امانت۔ وہ مجھے چاہیے۔ بدلے میں سونا لے لو، جاگیر لے لو۔"
سردار امان خان آہستہ سے کھڑے ہوئے۔ "بادشاہ سلامت، امانت کبھی بیچی نہیں جاتی۔ یہ انگوٹھی سونا نہیں، وعدہ ہے۔ میرے پرکھوں نے قسم کھائی تھی کہ یہ اس کے پاس رہے گی جو اس کا اہل ہو۔"
قہار شاہ کی آنکھوں میں آگ بھڑکی۔ "اہل؟" وہ ہنسا۔ "تو پھر سنو — جو چیز محبت سے نہ ملے، وہ جادو سے چھین لی جاتی ہے!"
اس نے اپنا سیاہ عصا زمین پر مارا۔ دربار کی فضا میں ایک عجیب سی سردی دوڑ گئی۔ سردار نے مہران کی طرف دیکھا — بس ایک نظر — اور پھر ان کا جسم جہاں کھڑا تھا، وہیں ساکت ہو گیا۔ پہلے پاؤں، پھر گھٹنے، پھر سینہ… چند لمحوں میں زرن آباد کا سخی سردار اپنے ہی دربار میں پتھر کا مجسمہ بن چکا تھا۔ ماں زینب بی بی کی چیخ گونجی۔ نور باپ کے پتھریلے ہاتھ سے لپٹ کر رونے لگی۔
مہران تلوار کھینچ کر آگے بڑھا، مگر قہار شاہ نے انگوٹھی سردار کی انگلی سے اتار کر اسے دیکھا اور طنز سے مسکرایا: "یہ وعدہ؟ یہ لو تمہارا وعدہ!" اس نے انگوٹھی پتھر کے فرش پر دے ماری۔
انگوٹھی پانچ ٹکڑوں میں بکھر گئی۔
مگر یہ عام ٹوٹنا نہیں تھا۔ پانچوں ٹکڑے روشنی کے ذروں کی طرح ہوا میں اڑے، قہار شاہ کے ہاتھ کی پہنچ سے دور، اور جادوئی ہوا کے ساتھ پانچ مختلف سمتوں میں غائب ہو گئے۔ قہار شاہ غصے سے چیخا، پھر اچانک ٹھنڈی ہنسی ہنسا: "رہنے دو! سن لو، لڑکے — تمہارا باپ اسی وقت گوشت پوست کا بنے گا جب یہ انگوٹھی دوبارہ مکمل ہو گی۔ مگر یاد رکھنا، ہر ٹکڑا ایسی سرزمین میں گرا ہے جہاں ایک امتحان منتظر ہے۔ اور امتحان وہی پاس کرتا ہے جس کا دل…" وہ رکا، زار کی طرف دیکھا اور بولا، "چلو، زار۔ وقت خود اس لڑکے کو ہرا دے گا۔"
اس رات حویلی میں آنسوؤں کے بعد ایک عجیب خاموشی تھی۔ زینب بی بی نے اپنے آنسو خود پونچھے، شوہر کی تلوار اٹھائی اور مہران کے ہاتھ میں دی: "تمہارا باپ ہمیشہ کہتا تھا — مشکل میں سخاوت ہی سب سے بڑی تلوار ہے۔ جاؤ، مہران۔ پتھر کے باپ کو واپس لانا ہے تو پہلے وہ بننا ہو گا جو وہ تھا۔"
تب ہی سبْز طوطا، جو کھڑکی پر خاموش بیٹھا سب سن رہا تھا، اچانک بول پڑا — قہار شاہ کی آواز کی ہو بہو نقل میں: "امتحان وہی پاس کرتا ہے جس کا دل… بے غرض ہو! بے غرض ہو!" مہران چونکا۔ جادوگر نے جملہ ادھورا چھوڑا تھا، مگر طوطے نے کہیں سے اس کا آخری حصہ سن لیا تھا۔ یہی سراغ تھا: ٹکڑے اسی کو ملیں گے جو بے لوث دے گا۔
فجر سے پہلے مہران تیار تھا۔ طوفان پر زین چڑھ چکی تھی۔ شاہین نے آسمان کی طرف پہلا چکر لگایا۔ سبْز مہران کے کندھے پر آ بیٹھا: "میں بھی چلوں گا! میں بھی چلوں گا!" اور دروازے پر ساحل کھڑا تھا — اس کا بچپن کا دوست، گھوڑوں والے کا بیٹا، ہاتھ میں اپنا سامان باندھے: "اکیلے جانے کا سوچا بھی کیسے؟ شہر کا راستہ ہو یا جادوگر کا پہاڑ — ساحل پیچھے نہیں رہتا۔ بس یہ بتا دو، اونچائی سے مجھے ڈر لگتا ہے، راستے میں اڑنا تو نہیں پڑے گا؟"
مہران پہلی بار اس رات مسکرایا۔
مگر جب وہ شہر کے پرانے دروازے سے نکل رہے تھے، ایک بوڑھے نابینا فقیر نے — وہی، جسے مہران نے کبھی دسترخوان پر کھانا کھلایا تھا — اچانک اس کی کلائی پکڑ لی۔ اس کی کمزور آواز کانپ رہی تھی:
"بیٹا، پہلا ٹکڑا وہاں گرا ہے جہاں دریا الٹی بہتی ہے۔ مگر خبر دار… اس وادی میں جو دیتا ہے، پہلے وہی لُٹتا ہے!"