Episode 11
پہلا نگہبان

قید خانے کی کوٹھری چھوٹی تھی اور ٹھنڈی تھی۔ دیواروں سے نمی کی بو آ رہی تھی، اور اونچی کھڑکی سے صرف ایک چھوٹی سی روشنی اندر آتی تھی۔ مہران اور ساحل کی کلائیاں اب کھلی تھیں، مگر لوہے کا دروازہ باہر سے بند تھا۔ باہر راہداری میں ایک سپاہی ٹہل رہا تھا، اور ہر تھوڑی دیر بعد اس کے قدموں کی آواز آتی تھی۔
ساحل دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ اس نے آہستہ کہا، “مہران، یہاں تو جن بھی نہیں آتے ہوں گے۔ اتنا سناٹا ہے کہ میری اپنی سانس بھی مجھے ڈرا رہی ہے۔” پھر اس نے مسکرا کر کہا، “اگر کوئی جن آ بھی گیا تو میں اسے اپنا قصہ سنا کر بھگا دوں گا۔”
مہران نے اس کا ہاتھ دبایا۔ “ڈر مت۔ سبز تھیلی کے پاس ہے، اور تھیلی محفوظ ہے۔ جب تک تھیلی محفوظ ہے، امید بھی محفوظ ہے۔” اس نے دل میں اپنے ابا کا چہرہ یاد کیا۔ پتھر کا چہرہ، دربار میں کھڑا، جیسے وہ اب بھی اپنے بیٹے کو دیکھ رہے ہوں۔ اس نے دل میں کہا، “ابا، میں ابھی ہارا نہیں ہوں۔”
اسی وقت اونچی کھڑکی سے ایک سبز پرندہ اندر آیا۔ سبز تھا۔ وہ سیدھا مہران کے کندھے پر بیٹھا اور اس نے سرگوشی میں وہ الفاظ دہرائے جو اس نے سپاہیوں سے سنے تھے۔ “آدھی رات... گھنٹی... زار... چابی... باورچی خانے کا دروازہ...”
سبز نے فوراً زار کی آواز کی نقل اتاری، اتنی سچی کہ ساحل اچھل پڑا۔ “قہر شاہ تمہارا انتظار کر رہا ہے!” ساحل نے جلدی سے اس کی چونچ پر انگلی رکھ دی۔ “چپ، سبز! اگر سپاہی نے سن لیا تو وہ سمجھے گا کہ زار یہیں ہے۔”
رات گہری ہوئی تو کوٹھری کا دروازہ تھوڑا سا کھلا۔ بی بی گل اندر آئی۔ اس کے ہاتھ میں سوکھی روٹی کا ایک ٹکڑا تھا۔ وہ وہی بوڑھی عورت تھی جسے مہران نے خزانے میں پانی دیا تھا۔ اس نے روٹی مہران کی طرف بڑھائی اور بہت آہستہ کہا، “بیٹا، یہی ہے۔ زیادہ نہیں ہے، مگر یہ تمہاری ہے۔”
مہران نے روٹی لی، اسے دو برابر حصوں میں توڑا، اور ایک حصہ بی بی گل کی طرف واپس بڑھا دیا۔ “آپ نے صبح سے کچھ نہیں کھایا ہوگا،” اس نے کہا۔ “پہلے آپ کھا لیں۔” بی بی گل کی آنکھیں بھر آئیں۔ اس نے روٹی کا ٹکڑا لیا اور پھر دروازے کی طرف دیکھا۔ اس نے سرگوشی کی، “آدھی رات کی گھنٹی پر مور گائے گا۔ اس وقت سب سپاہی اوپر دیکھیں گے۔ دروازے کی چٹخنی میں نے ڈھیلی چھوڑ دی ہے۔ دیر مت کرنا۔” یہ کہہ کر وہ چلی گئی، اور دروازہ پھر بند ہو گیا، مگر اس بار چٹخنی پوری طرح نہیں لگی تھی۔
مہران نے ساحل کی طرف دیکھا اور مسکرایا۔ “دیکھا؟ سخاوت کبھی ضائع نہیں جاتی۔ ایک گھونٹ پانی نے آج ہمارے لیے دروازہ کھول دیا۔” ساحل نے روٹی کا اپنا حصہ کھایا اور کہا، “تو اگلی بار میں بھی کسی کو پانی دوں گا۔ بلکہ میں تو ابھی سے پانی دینے والا بن گیا ہوں۔”
آدھی رات کی گھنٹی بجی۔ دور سے، خزانے کے ہال سے، پتھر کے مور کا گیت آیا۔ ایک صاف، نرم سر، جیسا گزشتہ رات آیا تھا۔ راہداری میں سپاہی رک گیا۔ اس نے اوپر دیکھا اور کہا، “پھر وہی آواز!” اسی لمحے مہران نے دروازہ دھکیلا۔ چٹخنی کھل گئی۔ دونوں دوست دبے پاؤں باہر نکلے۔ سبز ان کے آگے اڑا، جیسے وہ راستہ جانتا ہو۔
وہ خزانے کے ہال تک پہنچے۔ ہال میں سب سپاہی مور کی طرف دیکھ رہے تھے۔ کوئی بھی دروازے کی طرف نہیں دیکھ رہا تھا۔ سبز چپکے سے پنجرے کے پیچھے گیا۔ اس نے مور کی بند دم کے پروں میں چونچ ڈالی اور تھیلی نکال لی۔ وہ تھیلی لے کر مہران کے پاس آیا۔ مہران نے تھیلی کھولی۔ پانچوں ٹکڑے اس میں تھے۔ ایک ٹکڑا ابھی بھی ہلکی سی روشنی سے چمک رہا تھا۔ مہران نے تھیلی سینے سے لگا لی اور دل میں کہا، “شکریہ، سبز۔ تم نے پھر ہماری جان بچا لی۔”
اسی وقت کھڑکی کے باہر شاہین کی آواز آئی۔ وہ چکر کاٹ رہا تھا اور چیخ رہا تھا، جیسے وہ کہہ رہا ہو کہ راستہ اس طرف ہے۔ مہران اور ساحل باورچی خانے کی سیڑھیوں کی طرف بھاگے۔ وہاں ایک پرانا پانی کا راستہ تھا، جو قلعے کی دیوار کے نیچے سے باہر نکلتا تھا۔ دونوں اس میں سے گزرے۔ پانی ٹھنڈا تھا اور راستہ تنگ تھا، مگر آگے روشنی نظر آ رہی تھی۔ ساحل نے کہا، “مہران، اگر یہاں کوئی جن ہوا تو میں اس سے کہوں گا کہ وہ پہلے تم سے ملے۔” مہران ہنس پڑا، “اور جن بھی تمہاری باتیں سن کر بھاگ جائے گا۔”
باہر، دیوار کے پیچھے، طوفان کھڑا تھا۔ وہ مہران کی سیٹی کی آواز پر کان کھڑے کر کے کھڑا تھا۔ جیسے ہی مہران باہر آیا، طوفان نے خوشی سے پاؤں زمین پر مارا۔ مہران نے اس کی گردن پر ہاتھ پھیرا۔ “شکریہ، میرے دوست۔ تم نے ہمارا انتظار کیا۔” دونوں دوست گھوڑے پر سوار ہوئے اور سڑک کی طرف چل پڑے۔ شاہین آسمان میں ان کے آگے اڑ رہا تھا، اور سبز ساحل کی پگڑی پر بیٹھا تھا۔
سڑک پر، ٹوٹے ہوئے پل کے پاس، ایک بوڑھا آدمی بیٹھا تھا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں، اس کے کپڑے پرانے تھے، اور اس کے ہاتھ میں ایک لکڑی کی لاٹھی تھی۔ اس نے آواز سنی تو سر اٹھایا۔ “کوئی مسافر ہے؟” اس نے کہا۔ “مجھے پیاس لگی ہے۔ کیا کسی کے پاس ایک گھونٹ پانی ہے؟”
مہران گھوڑے سے اترا۔ اس کے پاس پانی کی مشک میں صرف چند گھونٹ بچے تھے، اور روٹی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا تھا۔ یہی ان کا آخری کھانا تھا، اور آگے کا راستہ لمبا تھا۔ ساحل نے اس کی طرف دیکھا۔ مہران نے ایک لمحہ بھی نہیں سوچا۔ اس نے مشک بوڑھے کو دے دی اور روٹی بھی اس کے ہاتھ میں رکھ دی۔ “پہلے آپ پی لیں، بابا،” اس نے کہا۔ “راستہ سب کا ایک جیسا ہے۔”
بوڑھے نے آہستہ آہستہ پانی پیا۔ پھر اس نے روٹی کھائی۔ پھر اس نے اپنی بند آنکھیں کھولیں۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی روشنی تھی، جیسے وہ دیکھ سکتا ہو، مگر کسی اور طرح سے۔ اس نے مسکرا کر کہا، “مہران، زرن آباد کے سردار کے بیٹے، تم نے آج پھر وہی کیا جو تمہارے خاندان کا وطیرہ ہے۔ تم نے اپنے حصے سے دیا، جب تمہارے پاس بہت کم تھا۔”
مہران حیران رہ گیا۔ “آپ مجھے کیسے جانتے ہیں؟” بوڑھے نے کہا، “میں انگوٹھی امانت کا پہلا نگہبان ہوں۔ بہت سال پہلے یہ انگوٹھی میرے پاس تھی۔ پھر میں نے اسے تمہارے دادا کے حوالے کیا، اور ان سے تمہارے ابا تک پہنچی۔ انگوٹھی صرف اس کے پاس رہتی ہے جو لالچ کے بغیر دیتا ہے۔ تم نے پانچوں ٹکڑے اسی طرح جمع کیے ہیں۔ اب انہیں میرے ہاتھ میں رکھ دو۔”
مہران نے تھیلی کھولی اور پانچوں ٹکڑے بوڑھے کی ہتھیلی پر رکھ دیے۔ بوڑھے نے اپنی دونوں ہتھیلیاں بند کر لیں۔ پہلے کچھ نہیں ہوا۔ پھر اس کی ہتھیلیوں سے سنہری روشنی نکلنے لگی۔ روشنی اتنی نرم تھی کہ ساحل کی آنکھیں بھی چندھیا گئیں۔ جب بوڑھے نے ہاتھ کھولے تو اس میں ایک پوری انگوٹھی تھی۔ کوئی جوڑ نظر نہیں آتا تھا، کوئی دراڑ نہیں تھی۔ انگوٹھی پوری تھی، جیسی وہ کبھی ٹوٹی ہی نہیں تھی۔
بوڑھے نے انگوٹھی مہران کو واپس دی۔ “یہ لو، بیٹا۔ مگر یاد رکھو، انگوٹھی کی طاقت اس کے استعمال میں نہیں، اس کے چھوڑ دینے میں ہے۔ قہر شاہ اسے لینا چاہتا ہے۔ تم اسے اس وقت تک محفوظ رکھو جب تک تم اپنے ابا کے سامنے نہ کھڑے ہو۔ وہیں فیصلہ ہوگا۔” یہ کہہ کر بوڑھا اٹھا، اپنی لاٹھی اٹھائی، اور ٹوٹے ہوئے پل کی طرف چل پڑا۔ چند قدم بعد وہ دھند میں غائب ہو گیا، جیسے وہ کبھی وہاں تھا ہی نہیں۔
مہران نے انگوٹھی کو دیکھا۔ وہ گرم تھی اور ہلکی سی چمک رہی تھی۔ ساحل نے خوشی سے کہا، “مہران، ہم نے کر دکھایا! انگوٹھی پوری ہو گئی! اب ابا...” اس نے بات ادھوری چھوڑ دی، کیونکہ اسی لمحے قلعے کی طرف سے ایک بھاری گھنٹی بجی۔ یہ آدھی رات کی گھنٹی نہیں تھی۔ یہ خطرے کی گھنٹی تھی۔
شاہین آسمان سے چیخا اور نیچے آیا۔ سبز نے زار کی آواز دہرائی، “قیدی بھاگ گئے! قیدی بھاگ گئے!” مہران نے پیچھے دیکھا۔ قلعے کی دیواروں پر مشعلیں جلنے لگیں۔ اور پھر زمین ہلکی سی کانپی۔ قلعے کے نیچے، پتھر کے سپاہیوں کی قطاروں میں، ایک ایک کر کے آنکھیں کھلنے لگیں۔ پتھر کی فوج جاگ رہی تھی۔
مہران نے انگوٹھی مٹھی میں بند کی، طوفان پر سوار ہوا، اور زرن آباد کی سڑک کی طرف دیکھا۔ آگے گھر تھا، ابا تھے، امی تھیں، نور تھی۔ پیچھے قہر شاہ کی جاگتی ہوئی فوج تھی۔ اس نے ساحل سے کہا، “اب دوڑ کا وقت ہے۔ اور یاد رکھو، ابھی کھیل ختم نہیں ہوا۔” طوفان نے سر اٹھایا اور اندھیری سڑک پر دوڑ پڑا، جب کہ پیچھے قلعے کی گھنٹی بجتی رہی۔