Episode 10
پتھر کے مور کا گیت

دروازہ ان کے پیچھے بند ہوا تو اندھیرا اتنا گہرا ہو گیا کہ مہران کو اپنی سانس کی آواز بھی سنائی دینے لگی۔ اس کے دل میں ابّا کا چہرہ آ گیا — پتھر کا چہرہ، دربار میں کھڑا، جیسے وہ اب بھی اپنے بیٹے کو دیکھ رہے ہوں۔ مہران نے تھیلی کو سینے سے لگایا۔ اس میں چار ٹکڑے تھے، اور پانچواں ٹکڑا کہیں اسی پہاڑ کے اندر تھا۔ اس نے دل میں کہا، “ابّا، میں آ گیا ہوں۔”
ساحل نے اس کا بازو پکڑ لیا۔ اس کی آواز کانپ رہی تھی۔ “مہران، ہم اندر بند ہو گئے ہیں۔ باہر جانے کا دروازہ بند ہے۔ اب ہم کیا کریں گے؟”
“آگے جائیں گے،” مہران نے آہستہ کہا۔ “امی کہتی تھیں، مشکل میں سخاوت ہی سب سے بڑی تلوار ہے۔ ابھی وہی وقت ہے۔”
سبز ساحل کی پگڑی میں چھپا ہوا تھا۔ اس نے گھنٹی کی آواز کی نقل اتاری، بہت آہستہ، جیسے وہ خود بھی ڈر رہا ہو۔ ساحل نے فوراً اس کی چونچ پر انگلی رکھ دی۔ “چپ، سبز! ابھی نہیں۔”
آگے مشعلیں جل رہی تھیں۔ وہ ایک بڑے ہال میں پہنچے، جہاں خراج گنا جا رہا تھا۔ ایک بوڑھا نگہبان ایک بڑی کتاب کے پیچھے بیٹھا تھا۔ اس کی داڑھی سفید تھی، اس کی آنکھیں تھکی ہوئی تھیں، اور وہ ہر چیز ایک لمبی فہرست میں لکھ رہا تھا۔ سپاہی بوریاں گن رہے تھے، کپڑے ناپ رہے تھے، تانبے کے برتن بجا کر دیکھ رہے تھے۔ ہر چیز پر قہر شاہ کا نام لکھا جا رہا تھا، جیسے سارا ملک اسی کا ہو۔
کاکا رحیم کی گاڑی ان کے سامنے تھی۔ ایک سپاہی نے بوریاں گنیں اور سر ہلایا۔ “ایک بوری کم ہے!” اس نے زور سے کہا۔ “قہر شاہ کو سب چاہیے۔ کم بوری کا مطلب ہے، گاؤں کو دوگنا دینا ہوگا۔ ورنہ خچر یہیں رہے گا۔”
کاکا رحیم کے ہاتھ کانپنے لگے۔ آمنہ نے دادا کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر وہ روئی نہیں۔ مہران نے دیکھا کہ اس بچی نے صبح اپنی روٹی آدھی کر کے دادا کو دی تھی۔ اب اسی بچی کے سامنے اس کے دادا کی عزت خطرے میں تھی۔
ساحل نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا۔ اس نے ایک چھوٹا سا چاندی کا سکہ نکالا۔ “امی نے سفر سے پہلے یہ سکہ میری جیب میں رکھا تھا،” اس نے سرگوشی کی۔ “کہا تھا، یہ تمہاری خوش قسمتی ہے۔ اسے کبھی ضائع مت کرنا۔” اس نے ایک لمحہ سکہ کو دیکھا، پھر مہران کی طرف دیکھا، اور آہستہ سے نگہبان کی میز کی طرف بڑھا۔ اس نے سکہ کتاب کے کنارے پر رکھ دیا اور سر جھکا لیا، جیسے وہ ایک عام مزدور ہو۔ “حضور، یہ بوری کی کمی پوری کر دے گا۔”
نگہبان نے سکہ اٹھایا، اسے روشنی میں دیکھا، اور کتاب میں کچھ لکھ دیا۔ “پورا ہوا،” اس نے کہا۔ سپاہی نے خچر کو چھوڑ دیا۔ کاکا رحیم نے ساحل کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ اس نے کچھ کہا نہیں، مگر اس کی نظر میں دعا تھی۔ پھر اس نے جان بوجھ کر سپاہی سے کہا، “حضور، گاڑی کا پہیہ پھر ڈھیلا ہو گیا ہے، ذرا دیکھیں تو!” سپاہی غصے سے گاڑی کی طرف مڑا۔
اسی لمحے مہران نے وہ راستہ دیکھ لیا جس کا کاکا رحیم نے ذکر کیا تھا۔ بوریوں کے ڈھیر کے پیچھے، ایک پردے کے پیچھے، ایک چھوٹا سا نیچا دروازہ تھا۔ اس پر کوئی سپاہی نہیں تھا۔ کوئی تالا نہیں تھا۔ مہران نے ساحل کا ہاتھ پکڑا، اور دونوں چپکے سے اس دروازے میں چلے گئے۔ سبز ان کے پیچھے اڑ کر اندر آیا۔
اندر خزانہ تھا۔
مہران نے زندگی میں اتنا سونا کبھی نہیں دیکھا تھا۔ سونے کے ڈھیر، چاندی کے برتن، ریشم کے کپڑے، اور اناج کی بوریاں — اتنی کہ پورا شہر کئی مہینے کھا سکتا تھا۔ مگر اس سونے میں کوئی روشنی نہیں تھی۔ یہ سب کسی نہ کسی کے گھر سے چھینا گیا تھا۔ ایک کونے میں بچوں کے چھوٹے سے کھلونے پڑے تھے۔ ایک کونے میں دلہن کی سرخ چادر تھی۔ مہران کا دل بھر آیا۔ اس نے دل میں کہا، “یہ خزانہ نہیں ہے۔ یہ لوگوں کے آنسو ہیں۔”
ایک کونے میں ایک بوڑھی عورت جھاڑو دے رہی تھی۔ اس کا نام بی بی گل تھا۔ اس کے پاؤں میں ایک ہلکی سی زنجیر تھی، اور اس کے ہونٹ خشک تھے۔ اس نے مہران کو دیکھا تو ڈر گئی۔ “تم کون ہو؟” اس نے سرگوشی کی۔ “یہاں کوئی نہیں آتا، سوائے نگہبان کے۔”
“ہم مزدور ہیں،” مہران نے کہا۔ “راستہ بھول گئے۔” پھر اس نے دیکھا کہ بوڑھی عورت کے ہاتھ کانپ رہے ہیں۔ “آپ کو پیاس لگی ہے؟”
بی بی گل نے شرما کر سر جھکا لیا۔ “صبح سے پانی نہیں ملا۔ نگہبان کہتا ہے، خزانے کے نوکروں کو پانی بعد میں ملتا ہے۔”
مہران کے پاس پانی کی ایک چھوٹی سی مشک بچی تھی۔ اس میں صرف چند گھونٹ پانی تھا۔ ساحل نے اس کی طرف دیکھا۔ ان دونوں کو بھی پیاس لگی تھی، اور آگے کا راستہ لمبا تھا۔ مہران نے ایک لمحہ سوچا۔ پھر اس نے مشک بی بی گل کو دے دی۔ “پہلے آپ پی لیں،” اس نے کہا۔
بی بی گل نے آہستہ آہستہ پانی پیا، جیسے ہر قطرہ قیمتی ہو۔ پھر اس نے مشک واپس کی اور مہران کے سر پر ہاتھ رکھا۔ “اللہ تمہیں سلامت رکھے، بیٹا۔ اس پہاڑ میں کوئی کسی کو پانی نہیں دیتا۔” پھر اس نے ایک ٹوٹے ہوئے مٹی کے کٹورے کی طرف اشارہ کیا، جو ایک شیلف پر رکھا تھا۔ “وہ دیکھو۔ قہر شاہ نے ایک ٹکڑے کو حقیر سمجھ کر اس کٹورے میں پھینک دیا تھا۔ سونے کے ڈھیر میں اس کی چمک چھپ گئی۔ مگر میں جانتی ہوں، وہ ٹکڑا عام نہیں ہے۔ جس نے آج کچھ دیا ہو، وہی اسے چھو سکتا ہے۔”
مہران نے کٹورا اٹھایا۔ اس میں ایک چھوٹا سا ٹکڑا پڑا تھا، دھندلا اور سرمئی، جیسے کوئی عام پتھر ہو۔ مہران نے اسے ہاتھ میں لیا۔ پہلے کچھ نہیں ہوا۔ پھر ٹکڑا گرم ہونے لگا۔ اس میں سنہری روشنی جاگی، اور وہ نرم سی آواز کے ساتھ گونجنے لگا، جیسے وہ اپنے چار ساتھیوں کو پکار رہا ہو۔ مہران نے تھیلی کھولی۔ چاروں ٹکڑے بھی چمکنے لگے۔ پانچوں ٹکڑے ایک ساتھ تھے — پہلی بار۔
“مہران!” ساحل نے خوشی سے سرگوشی کی۔ “پانچوں مل گئے!”
مہران کی آنکھیں بھر آئیں۔ اس نے ٹکڑے کو سینے سے لگایا۔ “ابّا،” اس نے دل میں کہا، “انگوٹھی پوری ہونے کے قریب ہے۔”
اسی لمحے خزانے کے دروازے کے اوپر سے ایک آواز آئی۔
ایک صاف، نرم، خوبصورت سر۔ پتھر کے مور نے گانا شروع کر دیا تھا۔ ایک ہی سر، مگر اتنا صاف کہ پورا ہال چونک گیا۔ نگہبان نے قلم چھوڑ دیا۔ سپاہیوں نے اوپر دیکھا۔ پنجرے میں مور نے اپنی دم ہلائی، اور اس کی ایک آنکھ میں پرانی روشنی جاگ اٹھی۔
اور پھر ایک کوّا چھت کی کڑی سے نیچے آیا۔
کوّا زمین پر گرا، اور اگلے ہی لمحے وہاں زار کھڑا تھا۔ اس کی آنکھیں ٹھنڈی تھیں، اور اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔ “تو چار ٹکڑوں والا لڑکا اب پانچ ٹکڑوں والا لڑکا بن گیا،” اس نے کہا۔ “قہر شاہ تمہارا انتظار کر رہا ہے۔”
سپاہی دوڑ پڑے۔ مہران نے ایک لمحے میں فیصلہ کیا۔ اس نے تھیلی سبز کی طرف بڑھائی اور سرگوشی کی، “سبز، مور کے پاس! جلدی!” سبز نے تھیلی اپنی چونچ میں لی اور اوپر اڑ گیا۔ وہ پنجرے کے پیچھے چھپ گیا، مور کی بند دم کے پروں میں، جہاں کوئی اسے دیکھ نہیں سکتا تھا۔
سپاہیوں نے مہران اور ساحل کو پکڑ لیا۔ ان کے ہاتھ باندھ دیے گئے۔ مہران کی تلوار لے لی گئی۔ زار نے مہران کی جیبیں تلاش کیں، اس کی چادر جھاڑی، اور ہنس پڑا۔ “خالی ہاتھ؟” اس نے کہا۔ “کوئی بات نہیں۔ قہر شاہ کو لڑکا چاہیے، ٹکڑے بعد میں مل جائیں گے۔”
مہران کو ایک اندھیرے راستے کی طرف لے جایا جا رہا تھا۔ ساحل اس کے پیچھے تھا۔ مہران نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ پنجرے میں مور کی ایک آنکھ کھلی تھی۔ اس کے پروں کے درمیان، سبز بالکل خاموش بیٹھا تھا۔ تھیلی محفوظ تھی۔
“ساحل،” مہران نے سرگوشی کی، “ابھی کھیل ختم نہیں ہوا۔”
پھر ایک بھاری دروازہ ان کے پیچھے بند ہو گیا، اور گھنٹی تیسری بار بجی — اس بار قہر شاہ کے لیے۔