Episode 12
آخری سخاوت

رات کا آخری پہر تھا، اور طوفان اندھیرے میں اس طرح دوڑ رہا تھا جیسے خود ہوا نے اسے اپنے پروں پر اٹھا رکھا ہو۔ مہران کی بند مٹھی میں انگوٹھی گرم تھی، اور اس کی ہلکی سی چمک اس کی انگلیوں کے درمیان سے باہر جھانک رہی تھی۔ پیچھے، کوہ سیاہ کی طرف، پتھر کی فوج کے قدموں کی آواز اب بھی سنائی دے رہی تھی — بھاری، سست، مگر رکنے والی نہیں۔ ساحل مہران کے پیچھے بیٹھا تھا، اس نے مہران کی کمر مضبوطی سے پکڑ رکھی تھی، اور ہر تھوڑی دیر بعد وہ پیچھے دیکھتا تھا، جیسے وہ یقین کرنا چاہتا ہو کہ فوج اب بھی اتنی ہی دور ہے۔
شاہین آسمان میں ان کے آگے اڑ رہا تھا، کبھی نیچے آتا، کبھی اوپر جاتا، جیسے وہ راستہ کھینچ رہا ہو۔ سبز ساحل کی پگڑی پر بیٹھا تھا اور ہر تھوڑی دیر بعد مہران کی آواز دہرا دیتا تھا۔ “اب دوڑ کا وقت ہے... اب دوڑ کا وقت ہے...” پھر وہ اپنی آواز میں کہتا، “جلدی، مہران، جلدی!”
مشرق کی طرف آسمان ہلکا ہلکا سرخ ہونے لگا۔ فجر کی پہلی روشنی پہاڑوں کے پیچھے سے اٹھی، اور اسی روشنی میں زرن آباد کی فصیل نظر آنے لگی۔ مہران کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔ کتنے دنوں کے بعد وہ گھر لوٹ رہا تھا! کتنے راستوں، کتنی وادیوں، کتنے امتحانوں کے بعد!
فصیل پر ایک چھوٹی سی شکل کھڑی تھی۔ نور تھی۔ وہ صبح سے وہیں کھڑی اپنے بھائی کا انتظار کر رہی تھی۔ جیسے ہی اس نے طوفان کو دیکھا، وہ چلائی، “امی! وہ آ گئے! مہران آ گیا!” وہ سیڑھیاں دوڑتی ہوئی نیچے آئی اور دروازے کی طرف بھاگی۔ زینب بی بی دروازے پر کھڑی تھیں، ان کے ہاتھ دعا میں اٹھے ہوئے تھے۔ جب مہران گھوڑے سے اترا تو نور اس سے لپٹ گئی۔ “بھائی، آپ آ گئے! آپ واقعی آ گئے!”
مہران نے اس کا سر چوما، مگر اس کی آنکھیں دربار کی طرف تھیں۔ “امی، ابھی وقت نہیں ہے۔ قہر شاہ پیچھے ہے، اور اس کی فوج جاگ چکی ہے۔ مجھے ابا کے پاس جانا ہے۔” زینب بی بی نے اس کا ہاتھ تھاما۔ ان کی آواز پرسکون تھی، مگر ان کی انگلیاں کانپ رہی تھیں۔ “جاؤ، بیٹا۔ تمہارے ابا تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔”
دربار میں وہی سناٹا تھا جو مہران نے چھوڑا تھا۔ بیچ میں سردار امان خان کھڑے تھے — پتھر کے، خاموش، مگر آج بھی ایسے لگ رہے تھے جیسے وہ اب بھی اپنے شہر کی حفاظت کر رہے ہوں۔ ان کے ہاتھ میں تلوار کی مٹھی تھی، اور ان کی آنکھیں دروازے کی طرف تھیں۔ مہران ان کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔ اس نے اپنے ابا کے سرد پتھر والے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔ “ابا، میں آ گیا ہوں۔ انگوٹھی پوری ہے۔ میں نے وعدہ نبھایا ہے۔” اس کی آواز ٹوٹ گئی۔ “مگر اب مجھے نہیں معلوم کہ آگے کیا کرنا ہے۔”
اسی لمحے زمین ہلکی سی کانپی۔ باہر سے گھنٹی کی آواز آئی، اور پھر ایک گہری، کڑوی آواز دربار میں گونجی۔ “مہران!” قہر شاہ دروازے میں کھڑا تھا۔ اس کا سیاہ چوغہ ہوا میں لہر رہا تھا، اور اس کے پیچھے پتھر کے سپاہیوں کی قطاریں فصیل تک پھیلی ہوئی تھیں۔ اس کے کندھے پر ایک کوا بیٹھا تھا — زار۔ “انگوٹھی مجھے دے دو، لڑکے۔ تم نے اچھا کھیل کھیلا، مگر کھیل ختم ہوا۔ انگوٹھی میری ہے، اور اب ہر قافلہ مجھے خراج دے گا۔”
مہران کھڑا ہو گیا۔ اس نے انگوٹھی مٹھی میں بند کر لی۔ اس کے پیچھے زینب بی بی، نور اور ساحل کھڑے تھے۔ باہر شاہین چیخ رہا تھا، اور طوفان دروازے کے باہر بے چین پاؤں مار رہا تھا۔ قہر شاہ نے اپنا ہاتھ بڑھایا۔ “سوچو مت۔ ایک انگوٹھی کے بدلے میں تمہارا شہر بچ سکتا ہے۔”
مہران کے کانوں میں پہلے نگہبان کی آواز گونجی: انگوٹھی کی طاقت اس کے استعمال میں نہیں، اس کے چھوڑ دینے میں ہے۔ اس نے انگوٹھی کو دیکھا۔ وہ اس کے ہاتھ میں چمک رہی تھی، جیسے وہ اس کے فیصلے کا انتظار کر رہی ہو۔ اس نے آہستہ سے اپنا ہاتھ کھولا۔ “نہیں، قہر شاہ،” اس نے کہا۔ “یہ انگوٹھی کسی کی نہیں ہے۔ یہ امانت ہے۔ اور امانت کا مطلب یہ ہے کہ اسے اپنے لیے نہیں، سب کے لیے دیا جائے۔”
قہر شاہ ہنس پڑا۔ “تو دے دو مجھے!”
“میں دیتا ہوں،” مہران نے کہا۔ “مگر تمہیں نہیں۔ میں اسے ان سب کو دیتا ہوں جنہیں تم نے پتھر بنایا ہے۔” یہ کہہ کر اس نے انگوٹھی کو اپنے ابا کے پتھر والے ہاتھ کی طرف نہیں، بلکہ آسمان کی طرف اٹھایا — اور اسے چھوڑ دیا۔ انگوٹھی اس کے ہاتھ سے نکلی، ہوا میں رکی، اور پھر اس سے ایسی روشنی نکلی جیسی صبح کی پہلی کرنوں سے بھی زیادہ روشن تھی۔
روشنی دربار سے باہر نکلی، فصیل سے گزری، اور پورے شہر میں پھیل گئی۔ پتھر کے سپاہیوں نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا — ان کی انگلیاں نرم ہونے لگیں۔ ان کے کندھوں سے پتھر کی کھال اترنے لگی۔ ایک سپاہی نے اپنی تلوار زمین پر پھینک دی اور اپنے بیٹے کا نام پکارا۔ دوسرے نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر زمین کو چوم لیا۔ وہ برسوں سے پتھر تھے، اور اب وہ پھر انسان تھے — زندہ، سانس لیتے ہوئے، روتے ہوئے۔
روشنی اور آگے بڑھی۔ دور، کوہ سیاہ کے قلعے میں، پتھر کا مور اپنے پنجرے میں ہلا۔ اس کے پروں سے پتھر گرا، اور اس نے پہلی بار اپنے اصل رنگوں میں پر پھیلائے۔ اس نے گیت گایا — وہی گیت جو اس نے آدھی رات کو گایا تھا — اور پھر وہ اڑ گیا، آزاد، صبح کے آسمان کی طرف۔ جنگل میں پتھر کے پرندے بھی جاگ اٹھے، اور ان کی چونچوں سے پتھر گرنے لگا۔
قہر شاہ نے اپنے سینے کو پکڑ لیا۔ اس کے اندر کچھ ٹوٹ رہا تھا۔ برسوں سے اس کے سینے میں ایک پتھر کا دل دھڑک رہا تھا، اور اب وہ دل چٹخ رہا تھا۔ اس کے چوغے سے کالا دھواں نکلنے لگا۔ اس کا تاج سر سے گر گیا۔ وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا، اور جب اس نے سر اٹھایا تو وہ کوئی جادوگر بادشاہ نہیں تھا — ایک بوڑھا، تھکا ہوا آدمی تھا، جس کی آنکھوں میں اب کوئی آگ نہیں تھی۔ “میری طاقت... میری طاقت کہاں گئی؟” اس نے سرگوشی کی۔
“جہاں لالچ کی طاقت ہمیشہ جاتی ہے،” مہران نے کہا۔ “کسی کے دینے سے۔”
زار نے یہ دیکھا تو وہ چیخا اور کوے کی شکل میں انگوٹھی کی طرف جھپٹا۔ مگر روشنی نے اسے بھی پکڑ لیا۔ اس کے کالے پروں سے چمک نکلی، اور وہ دروازے سے باہر اڑ گیا، چیختا ہوا، آسمان میں غائب ہو گیا۔ سبز نے اس کی آواز کی نقل اتاری، اتنی سچی کہ ساحل ہنس پڑا۔ “زار بھاگ گیا! زار بھاگ گیا!”
پھر روشنی دربار میں واپس آئی اور سردار امان خان کے گرد جمع ہو گئی۔ مہران نے سانس روک لی۔ پتھر میں دراڑیں پڑنے لگیں، جیسے کوئی انڈا ٹوٹ رہا ہو۔ پہلے انگلیاں نرم ہوئیں، پھر ہاتھ، پھر چہرہ۔ سردار کی آنکھوں میں روشنی لوٹی۔ ان کی چھاتی اٹھی — ایک لمبی، گہری سانس۔ پھر ان کی آنکھیں کھلیں۔
“مہران...” سردار نے آہستہ کہا۔ “میرا بیٹا۔”
مہران ان سے لپٹ گیا۔ زینب بی بی نے اپنے شوہر کا ہاتھ تھاما اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ نور نے اپنے ابا کی تلوار کی مٹھی کو چھوا، پھر ان سے لپٹ گئی۔ ساحل دروازے پر کھڑا اپنی آنکھیں پونچھ رہا تھا، اور کہہ رہا تھا، “میں نہیں رو رہا۔ میری آنکھوں میں دھول پڑ گئی ہے۔” شاہین کھڑکی سے اندر آیا اور سردار کے کندھے پر بیٹھ گیا، جیسے وہ بھی گھر لوٹ آیا ہو۔
سردار امان خان نے انگوٹھی کو دیکھا — وہ اب مہران کے ہاتھ میں نہیں تھی، وہ روشنی بن کر سب میں بٹ چکی تھی۔ انہوں نے مسکرا کر کہا، “تم نے میری سب سے بڑی بات یاد رکھی، بیٹے۔ سخاوت ہی سب سے بڑی تلوار ہے۔”
اس شام زرن آباد میں وہ دسترخوان پھر بچھا جو برسوں سے خالی تھا۔ سردار امان خان اپنے بیٹے کے ساتھ بیٹھے، اور شہر کے ہر مسافر، ہر بچے، ہر بوڑھے نے کھانا کھایا۔ بی بی گل کو سب سے عزت والی جگہ پر بٹھایا گیا، اور جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کیا چاہتی ہیں، تو انہوں نے صرف اتنا کہا، “بس یہی — کہ کوئی بھوکا نہ سوئے۔” ساحل نے تین پلیٹیں کھائیں اور کہا کہ یہ اس کی جیت کی دعوت ہے۔ طوفان کو شکر کھلایا گیا، اور شاہین سردار کی تلوار کی مٹھی پر بیٹھ کر سارے شہر کو دیکھ رہا تھا۔
جب چاند نکلا تو سبز مہران کے کندھے پر بیٹھا اور اس نے وہ الفاظ دہرائے جو اس نے سب سے پہلے سنے تھے — وہ الفاظ جو اس سفر کی شروعات تھے۔ “سخاوت کبھی ضائع نہیں جاتی... سخاوت کبھی ضائع نہیں جاتی۔” پھر اس نے اپنا سر مہران کے گال سے لگایا اور سو گیا، اور زرن آباد کی فجر ایک نئی صبح کے ساتھ جاگ اٹھی۔