Episode 9
نام کے بدلے نام

“مہم۔”
اس نے میرا نام لیا — اور میری زبان میرے منہ میں پتھر بن گئی۔
وقت رک گیا۔ میں چاندی بنی جھیل کے کنارے کھڑی تھی، میرے ایک طرف زاویار کا ہاتھ میرے ہاتھ میں، دوسری طرف بلال تھرماس اٹھائے — اور میرے سامنے وہ کھڑا تھا، چراغ سے دگنا لمبا، اس کی آنکھوں میں صرف گہرائی، جیسے رات کے آسمان میں دیکھو اور ستارے غائب ہوں۔
شیشے کے پار بڑی مہم چلائی: “اسے جواب مت دینا! نام کا جواب نام ہوتا ہے — جو اسے پہچانے، وہ اس کا ہو جاتا ہے!”
مگر میرے ہونٹ پہلے ہی ہل رہے تھے۔
میں نے انہیں روکا۔ دانتوں سے ہونٹ دبا لیے، اتنی زور سے کہ خون کا ذائقہ آیا۔ نہیں۔ میں اسے اپنا نام نہیں دوں گی۔ اس نے میرا نام لیا ہے — چھینا ہے — مگر میں جواب نہیں دوں گی۔
وہ ایک قدم آگے بڑھا۔ پانی اس کے کوٹ سے ڈر کر پیچھے ہٹ رہا تھا۔ اس کی آواز آئی — گہرے پانی جیسی، پرانی:
“مجھے گھر چاہیے۔ نام دو۔”
“مت کرنا، مہم!” زاویار نے میرا ہاتھ بھینچا۔ “وہ تمہیں باندھ لے گا!”
مگر میں سوچ رہی تھی۔ تیزی سے سوچ رہی تھی، جیسے امتحان کے آخری پانچ منٹ ہوں۔ بڑی مہم نے کیا کہا تھا؟ نام میں نے مانگا نہیں تھا — میں نے دیا ہے۔ اور جھیل کو تحفوں کا حساب رکھنا نہیں آتا۔ جسے تم نام دو گے... وہ تمہارا ہو جائے گا۔ ہمیشہ کے لیے۔
یعنی — اگر میں اسے نام دوں، تو وہ میرا ہو جائے گا۔
مگر اس نے پہلے میرا نام لیا تھا۔ تو بندھن دونوں طرف ہوگا۔ میں اس کی، وہ میرا۔
“چھوٹی!” شیشہ اب ٹوٹ رہا تھا — باریک دراڑیں اس پر پھیل رہی تھیں، کیونکہ چراغ کا نام اس کی ہڈیوں میں اتر چکا تھا۔ بڑی مہم کی آواز دراڑوں کے پار سے آئی: “قیمت سوچ لو! نام دینے والی خود بھی بندھ جاتی ہے!”
میں جانتی تھی۔ میں سب جانتی تھی۔
پھر بھی میں نے قدم آگے بڑھایا۔
کیونکہ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا تھا۔ وہ گہرائی — وہ خالی آسمان۔ سو سال پہلے وہ گرا تھا، اور اس کا آسمان بدل گیا تھا۔ ستارے اپنی جگہ چھوڑ گئے تھے۔ وہ گھر مانگ رہا تھا — اور گھر مانگنے والا دشمن نہیں ہوتا۔ کھویا ہوا ہوتا ہے۔
اور میں نے ترس کھایا تھا۔ بالکل ویسے جیسے بڑی مہم نے چراغ پر کھایا تھا۔
“سنو،” میں نے کہا۔ میری آواز کانپ رہی تھی، مگر صاف تھی۔ “تمہیں نام چاہیے۔ تو لو۔”
میں نے گہری سانس لی۔
“تمہارا نام آسمان ہے۔”
سناٹا۔
“کیونکہ آسمان وہ ہے جو کبھی نہیں گرتا،” میں نے کہا۔ “تم جہاں جاؤ گے، تمہارا آسمان تمہارے ساتھ ہوگا۔ کوئی اسے تم سے چھین نہیں سکے گا۔ یہ میرا تحفہ ہے — مانگا ہوا نہیں، دیا ہوا۔”
وہ ساکت کھڑا رہا۔ پھر — آہستہ آہستہ — وہ گھٹنوں پر جھکا۔ اتنا بڑا وجود، میرے سامنے جھکا ہوا۔ اس کی بے رنگ آنکھوں میں پہلی بار کچھ آیا — رنگ نہیں، مگر روشنی۔ ہلکی سی، جیسے دور کوئی چراغ جلا ہو۔
“آسمان،” اس نے کہا۔ اس کے منہ میں یہ نام عجیب لگا — پرانا اور نیا، ایک ساتھ۔ “نام کے بدلے نام، مہم۔”
میرا دل رک گیا۔
“تم نے مجھے میرا آسمان دیا،” اس نے کہا۔ “اب تم میرا آسمان ہو۔”
بندھن مکمل ہو گیا۔ میں نے اس کے چہرے پر محسوس کیا — ایک ڈوری، میرے دل سے اس کے دل تک۔ وہ میرا تھا۔ اور میں اس کی۔
جھیل کے نیچے روشنیاں — درجنوں نیلی روشنیاں، ستارے کے مسافر — اوپر اٹھیں اور جھک گئیں۔ ان کے سردار کو نام مل گیا تھا۔ ان کا قافلہ اب کسی کا تھا۔
چراغ شیشے کے اس پار سے نکلا — دیوار اب مکمل ٹوٹ چکی تھی۔ وہ میرے پاس آیا، اس کی آنکھوں میں مٹی جیسا بھورا رنگ، بالکل انسان جیسی۔ اس نے میرا ہاتھ پکڑا۔
“تم نے کیا کر دیا، مہم؟” اس نے سرگوشی کی۔ “اب وہ تمہارا ہے... اور تم اس کی۔”
“اور کوئی راستہ نہیں تھا،” میں نے کہا۔ مگر میری آواز میں وہ یقین نہیں تھا جو میں دکھانا چاہتی تھی۔
بڑی مہم اب آزاد تھی — شیشہ ٹوٹ چکا تھا۔ وہ میرے پاس آئی اور میرے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ اس کا چہرہ سفید تھا۔
“چھوٹی،” اس نے آہستہ کہا۔ “جب ستارہ کسی کا ہوتا ہے، تو اس کا زوال بھی اسی کا ہوتا ہے۔” اس نے رکا۔ “سو سال پہلے وہ کیوں گرا تھا... یہ تو پوچھا ہی نہیں تم نے۔”
میں نے آسمان کی طرف دیکھا۔ وہ اب بھی گھٹنوں پر تھا، میرا نام — میرا دیا ہوا نام — دہرا رہا تھا، جیسے کوئی دعا یاد کر رہا ہو۔
“وہ کیوں گرا تھا؟” میں نے پوچھا۔
بڑی مہم نے جھیل کے سب سے گہرے حصے کی طرف دیکھا — وہاں، جہاں چاندی کی روشنی بھی نہیں پہنچتی تھی۔
“کیونکہ وہ بھاگ رہا تھا،” اس نے کہا۔
اور جھیل کے سب سے گہرے حصے میں، جہاں روشنی کبھی نہیں پہنچی، دو آنکھیں کھل گئیں — ایسی آنکھیں جن میں ستارے نہیں تھے۔
صرف بھوک تھی۔