← نیلی جھیل کا جادو · All episodes

Episode 10

آسمان کی شرط

آسمان کی شرط

آسمان گھٹنوں پر جھکا رہا۔

اتنا بڑا وجود — جس کی آنکھوں میں کبھی ستارے تھے اور اب صرف گہرائی تھی — میرے سامنے جھکا ہوا تھا، اور اس کے منہ پر میرا دیا ہوا نام تھا۔ ”آسمان۔“ نام کے بدلے نام۔ وہ میرا تھا۔ اور میں اس کی۔

جھیل کے نیچے درجنوں نیلی روشنیاں اوپر اٹھیں اور جھک گئیں۔ ستارے کے مسافر۔ ان کے سردار کو نام مل گیا تھا۔ ان کا قافلہ اب کسی کا تھا۔

چراغ میرے پاس آیا۔ اس کی آنکھوں میں اب مٹی جیسا بھورا رنگ تھا، بالکل انسان جیسا۔ اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور سرگوشی کی، ”تم نے کیا کر دیا، مہم؟ اب وہ تمہارا ہے... اور تم اس کی۔“

”اور کوئی راستہ نہیں تھا،“ میں نے کہا۔ مگر میری آواز میں وہ یقین نہیں تھا جو میں دکھانا چاہتی تھی۔

شیشے کے اس پار بڑی مہم کھڑی تھی۔ دیوار اب مکمل ٹوٹ چکی تھی — چراغ کا نام اس کی ہڈیوں میں اتر چکا تھا۔ وہ آگے بڑھی اور میرے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ اس کا ہاتھ کانپ رہا تھا۔

”چھوٹی،“ اس نے کہا، ”تم نے تحفہ دیا ہے۔ اور جھیل کو تحفوں کا حساب رکھنا نہیں آتا — یہ سچ ہے۔ مگر جھیل کو ایک اور چیز کا حساب رکھنا آتا ہے۔“

”کیا؟“

”جاگنے کا۔“

اسی لمحے جھیل ہلی۔

پہلے تو صرف ایک لہر تھی — چاندی کے پانی پر ایک شکن، جیسے کوئی سوئی ہوئی چیز نے کروٹ بدلی ہو۔ پھر پانی کنارے سے پیچھے ہٹنے لگا۔ نہیں — پیچھے نہیں، اوپر اٹھنے لگا۔ ایک دیوار کی طرح، ہمارے گرد، اتنی اونچی کہ چاند اس کے پار دھندلا نظر آنے لگا۔

بلال نے تھرماس گرا دیا۔ ”یہ... یہ کیا کر رہی ہے؟“

زاویار نے میرا ہاتھ اور زور سے پکڑ لیا۔ ”مہم، پیچھے ہٹو!“

مگر میں ہل نہ سکی۔ کیونکہ پانی کی دیوار میں ایک چہرہ بن رہا تھا — میرا اپنا چہرہ، مگر بڑا، پرانا، آنکھوں میں سو سال کی نیند۔

جھیل بولی۔ اس کی آواز پانی جیسی تھی، اور میری بڑی والی آواز جیسی۔

”نام تو دے دیا، مہم۔ اب قیمت دو۔“

میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ ”ک... کون سی قیمت؟ میں نے تو تحفہ دیا تھا!“

”تحفہ اس کو دیا،“ جھیل نے کہا، اور پانی کی دیوار میں آسمان کی شکل ابھری — گھٹنوں پر جھکا ہوا۔ ”مگر جگایا مجھے۔ سو سال کی نیند سے جگایا۔ جاگنے کی قیمت الگ ہوتی ہے۔“

آسمان اٹھا۔ اس کے چہرے پر پہلی بار خوف تھا — میرے لیے خوف۔ ”نہیں،“ اس نے جھیل سے کہا۔ ”قیمت میں دوں گا۔ میں سویا تھا، میں جاگا ہوں۔ اس بچی کو چھوڑ دو۔“

”تمہارے پاس دینے کو کچھ نہیں بچا،“ جھیل نے جواب دیا۔ ”تمہیں نام مل گیا۔ نام والا قیدی نہیں ہوتا، مہمان ہوتا ہے۔ اور مہمان سے قیمت نہیں لی جاتی۔“ پانی کی دیوار میری طرف جھکی۔ ”قیمت نام دینے والی دے گی۔“

بڑی مہم چیخی، ”نہیں! چھوٹی، پیچھے ہٹ!“

مگر پانی میرے ٹخنوں تک آ چکا تھا۔ ٹھنڈا — اتنا ٹھنڈا کہ میری ہڈیوں تک اتر گیا۔

”کیا چاہیے تمہیں؟“ میں نے پوچھا۔ میری آواز اب کانپ نہیں رہی تھی۔ عجیب بات تھی — خوف کے اس پار ایک عجیب سکون تھا، جیسے امتحان کے پرچے کا آخری سوال ہو اور وقت ختم ہونے والا ہو۔

”گھر،“ جھیل نے کہا۔ ”اس کو تم نے آسمان دیا — ایسی چیز جو کبھی نہیں گرتی۔ مگر آسمان خالی ہے، مہم۔ گھر بھرا ہوتا ہے۔ مجھے گھر چاہیے۔ اپنی یادوں میں سے اپنا سب سے خوش دن نکال کر دو — وہ دن جب تم نے خود کو سب سے زیادہ گھر میں محسوس کیا تھا۔ میں اسے پی لوں گی، اور پھر میں سو جاؤں گی۔ ہمیشہ کے لیے۔“

میرے ذہن میں فوراً ایک تصویر ابھری — امی کے ہاتھ کی خوشبو، ابو کی ہنسی، چھوٹا سا صحن، بارش کی پہلی بوندیں۔ میرا آٹھواں جنم دن۔

”مت کرنا!“ چراغ چلایا۔ وہ آگے بڑھا، پانی میں گھسا۔ ”قیمت میں دوں گا! میرے پاس بھی یادیں ہیں — سو سال کی نیند سے پہلے کی، آسمان پار کرنے کی!“

جھیل ہنسی — پانی کی ہنسی، گہری اور اداس۔ ”تمہاری یادیں ستاروں کی ہیں، بچے۔ مجھے گھر چاہیے، آسمان نہیں۔ اور ویسے بھی...“ پانی کی دیوار میں ایک اور شکل ابھری — بڑی مہم کی۔ ”تحفے کا نام واپس نہیں لیا جا سکتا۔ مگر تحفہ دینے والی کی قیمت کوئی اور نہیں دے سکتا۔ یہ قانون ہے۔ پرانا قانون۔“

بڑی مہم کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ ”چھوٹی، سنو۔ میں نے بھی ایک بار قیمت دی تھی۔ اسی لیے میں یہاں ہوں — اسی لیے میں بڑی ہوں اور تم ابھی چھوٹی ہو۔ قیمت دینے والا وقت میں آگے بڑھ جاتا ہے۔ میں نے اپنا بچپن جھیل کو دے دیا تھا، اور...“ اس نے رکا۔ ”اور میں نے تمہیں کبھی نہیں بتایا کہ میں نے کیا کھویا تھا۔“

”کیا کھویا تھا؟“ میں نے سرگوشی کی۔

”اپنا نام۔“

سناٹا چھا گیا۔ صرف پانی کی سرسراہٹ تھی۔

”میں نے جھیل کو اپنا نام دے دیا تھا،“ بڑی مہم نے کہا۔ ”اسی لیے وہ مجھے میرے نام سے بلا سکتی ہے۔ اسی لیے وہ تمہیں بھی بلا سکتی ہے — کیونکہ تمہارا نام بھی میرا نام ہے۔“ اس نے میری طرف دیکھا۔ ”اور اب وہ تم سے تمہارا گھر مانگ رہی ہے۔“

پانی اب میرے گھٹنوں تک تھا۔

میں نے آنکھیں بند کیں۔ آٹھواں جنم دن۔ امی کے ہاتھ۔ ابو کی ہنسی۔ بارش۔

پھر میں نے آنکھیں کھولیں۔

”نہیں،“ میں نے کہا۔

جھیل کی دیوار لرز اٹھی۔ ”نہیں؟“

”تم نے کہا تھا — تحفہ دینے والی کی قیمت کوئی اور نہیں دے سکتا۔“ میں نے گہری سانس لی۔ ”تو سنو۔ میں تمہیں اپنا سب سے خوش دن نہیں دوں گی۔ میں تمہیں کچھ اور دوں گی۔“

”کیا؟“

میں نے آسمان کی طرف دیکھا — میرے آسمان کی طرف، جو میرے لیے خوفزدہ کھڑا تھا۔ پھر میں نے جھیل سے کہا:

”میں تمہیں نام دینا سکھاؤں گی۔“

پوری جھیل ساکت ہو گئی۔ چاند، پانی، روشنیاں — سب رک گئے۔

”کیا کہا؟“ جھیل کی آواز بدلی ہوئی تھی۔

”تمہیں صرف قیمت لینا آتی ہے،“ میں نے کہا۔ ”تمہیں نہیں آتا کہ کوئی تمہیں بھی نام دے سکتا ہے۔ تمہیں نہیں آتا کہ تحفہ کیا ہوتا ہے۔ میں یہیں رہوں گی — ایک رات، ہر سال — اور تمہیں سکھاؤں گی۔ اور اس کے بدلے...“

”اس کے بدلے کیا؟“

”اس کے بدلے تم میرے گھر کو ہاتھ نہیں لگاؤ گی۔ نہ میری یادوں کو۔ نہ میرے لوگوں کو۔“

پانی کی دیوار دھیرے دھیرے نیچے آنے لگی۔ جھیل سوچ رہی تھی۔ سو سال سوئی ہوئی چیز پہلی بار کچھ نیا سوچ رہی تھی۔

پھر — پانی کے بیچ میں سے ایک چھوٹی سی لہر اٹھی، اور میرے قدموں میں کچھ رکھ گئی۔

ایک چھوٹا سا نیلا پتھر۔ دل کی شکل کا۔

”یہ کیا ہے؟“ میں نے پوچھا۔

آسمان نے اسے دیکھا اور اس کی آنکھوں میں روشنی لوٹ آئی — پہلی بار، اصلی روشنی۔ ”یہ... یہ جھیل کا دل ہے، مہم۔ وہ تمہیں اپنا دل دے رہی ہے۔“ اس نے میری طرف دیکھا۔ ”جانتا ہو تم اس کا مطلب؟“

”کیا؟“

”جس کے پاس جھیل کا دل ہو،“ آسمان نے آہستہ کہا، ”جھیل اس کی ہو جاتی ہے۔ ہمیشہ کے لیے۔“

میں نے پتھر اٹھایا۔ وہ گرم تھا — دھڑک رہا تھا، بالکل دل کی طرح۔

اور تب مجھے سمجھ آیا۔ میں نے جھیل کو نہیں ہرایا تھا۔ میں نے اسے وہ دے دیا تھا جو اس نے کبھی مانگا ہی نہیں تھا — اور اس نے مجھے وہ دے دیا تھا جو میں نے کبھی مانگا ہی نہیں تھا۔

مگر بڑی مہم کی آنکھوں میں خوشی نہیں تھی۔ وہ پتھر کو دیکھ رہی تھی، اور اس کا چہرہ سفید پڑتا جا رہا تھا۔

”چھوٹی،“ اس نے سرگوشی کی، ”تم نے جھیل کا دل لے لیا ہے۔ اب تم...“

”اب میں کیا؟“

اس نے میری آنکھوں میں دیکھا۔ ”اب تم جھیل ہو۔“

میرے ہاتھ میں دل دھڑکا — اور اس کی دھڑکن کے ساتھ، پوری جھیل دھڑکنے لگی۔