Episode 8
چراغ اور چاند

میں چیخی اور آگے لپکی — مگر نیلی روشنی اب روشنی نہیں رہی تھی۔ وہ جم چکی تھی، شیشے کی دیوار کی طرح، اور میرا ہاتھ اس سے ٹکرا کر رک گیا۔ دیوار کے اس پار بڑی مہام کھڑی تھی، اور اس کا ہاتھ اب بھی اس لڑکے کے ہاتھ میں تھا — اس لڑکے کے جس کا اب ایک نام تھا۔
چراغ۔
"مہم!" میں نے دیوار پر ہاتھ مارا۔ "واپس آؤ!"
بڑی مہام نے مسکرا کر میری طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر خوف نہیں تھا۔ "ڈرو مت،" اس نے کہا۔ اس کی آواز شیشے کے پار سے آ رہی تھی، جیسے پانی کے نیچے سے کوئی بول رہا ہو۔ "یہ قیمت نہیں ہے۔ یہ تحفہ ہے۔"
"کیا فرق ہے؟" زاویار چلایا۔ وہ دیوار کے گرد دوڑ رہا تھا، کوئی درز ڈھونڈ رہا تھا۔
"بہت فرق ہے،" بڑی مہام نے کہا۔ "جھیل خواہشوں کی قیمت لیتی ہے — جو مانگا جائے، اس کا بدلہ۔ مگر نام... نام میں نے مانگا نہیں تھا۔ میں نے دیا ہے۔ اور جھیل کو تحفوں کا حساب رکھنا نہیں آتا۔"
بلال کی آواز کانپ رہی تھی۔ "تو پھر یہ دیوار کیسی؟ تم باہر کیوں نہیں آ رہیں؟"
بڑی مہام نے چراغ کی طرف دیکھا۔ لڑکا اب بدل رہا تھا — اس کی آنکھوں میں رنگ اتر رہا تھا، مٹی جیسا بھورا۔ اس کے بالوں سے پانی ٹپکنا بند ہو گیا تھا۔ وہ ایک عام لڑکا لگنے لگا تھا، سوائے اس کے کہ اس کے گرد ہلکی نیلی چمک اب بھی تھی، جیسے چاندنی اسے چھوڑنا نہ چاہتی ہو۔
"نام ملنے میں وقت لگتا ہے،" بڑی مہام نے کہا۔ "جیسے بیج کو مٹی میں وقت چاہیے۔ جب تک نام اس کی ہڈیوں میں نہ اتر جائے، یہ دیوار رہے گی۔ میری حفاظت کے لیے نہیں — اس کی۔"
"کس سے حفاظت؟" میں نے پوچھا۔
اسی لمحے چاند کا نچلا کنارہ کالے پانی کو چھو گیا۔
پوری جھیل چاندی بن گئی۔ اور چاندی کے نیچے — روشنیاں۔ درجنوں چھوٹی نیلی روشنیاں، پانی کی تہہ سے اوپر اٹھ رہی تھیں، جیسے کوئی تہہ خانے کے چراغ ایک ایک کر کے جلا رہا ہو۔
میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ "وہ... وہ کیا ہیں؟"
چراغ نے پہلی بار پورے جملے میں بات کی۔ اس کی اردو اب صاف تھی، جیسے نام کے ساتھ زبان بھی اسے مل گئی ہو۔ "وہ میرے ساتھی ہیں۔ ستارے کے مسافر۔ ہم آسمان پار کرتے تھے — روشنی کے قافلے۔ سو سال پہلے ایک ہم سفر نیچے گرا۔ ستارہ نہیں تھا وہ — وہ تھا۔ اور میں اس کی روشنی کے پیچھے آیا۔ پھر میں بھی سو گیا۔"
"'وہ' —" زاویار نے آہستہ کہا۔ "وہی جس کے بارے میں تمہارے صفحے پر لکھا تھا؟ جو جھیل کے نیچے جاگا ہے؟"
چراغ نے سر ہلایا۔ "وہ سب سے پہلے گرا تھا، اس لیے سب سے گہرا سویا۔ مگر اب وہ جاگ رہا ہے۔ اور وہ... وہ اکیلا نہیں جاگ رہا۔"
پانی کے نیچے روشنیاں اوپر آتی جا رہی تھیں۔ میں نے گنا — دس، بیس، تیس سے زیادہ۔
"وہ کیا چاہتا ہے؟" میں نے پوچھا۔ میری آواز اتنی چھوٹی تھی کہ مجھے خود سنائی نہ دی۔
"وہی جو ہر گرنے والا چاہتا ہے،" چراغ نے کہا۔ "گھر۔ مگر اس کا گھر اب آسمان پر نہیں رہا۔ سو سال میں آسمان بدل جاتا ہے، مہم۔ ستارے اپنی جگہ چھوڑ دیتے ہیں۔ تو اب وہ نیا گھر چاہتا ہے۔" اس نے رکا۔ "اور نیا گھر بنانے کے لیے اسے نام چاہییں۔ بہت سے نام۔"
بلال کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ "ہمارے نام؟"
"نہیں،" چراغ نے جلدی سے کہا۔ "تمہارے نہیں۔ وہ نام نہیں چھینے گا — وہ نام مانگے گا۔ وہ تمہارے سامنے آئے گا، بالکل میری طرح — کھویا ہوا، تنہا — اور تم خود اسے نام دو گے۔ کیونکہ تم اچھے ہو۔ کیونکہ تمہیں ترس آئے گا۔ اور جسے تم نام دو گے... وہ تمہارا ہو جائے گا۔ ہمیشہ کے لیے۔"
شیشے کے پار بڑی مہام نے میری طرف دیکھا۔ اب میں سمجھی تھی اس کی مسکراہٹ کا مطلب۔ اس نے یہی کیا تھا — ترس کھایا تھا، نام دیا تھا۔ اور اب چراغ اس کا تھا۔
"تو تم ہمارے ساتھ ہو؟" زاویار نے چراغ سے پوچھا۔
چراغ نے بڑی مہام کے ہاتھ کو دیکھا، پھر ہماری طرف۔ "نام نے مجھے چننے کی طاقت دی ہے۔ سو سال میں پہلی بار میں کچھ چن سکتا ہوں۔" اس نے گہری سانس لی۔ "میں تمہارے ساتھ ہوں۔ مگر سنو — وہ مجھ سے بڑا ہے۔ اور وہ جاگ چکا ہے۔"
جیسے اس کے الفاظ کا انتظار ہو، جھیل کے بیچوں بیچ پانی پیچھے ہٹنے لگا۔ ایک کامل دائرہ بن گیا — پانی دائرے سے باہر، اور بیچ میں گیلی ریت۔ اور اس ریت سے — ایک ہاتھ اوپر اٹھا۔
پھر ایک سر۔ پھر کندھے۔
وہ چراغ سے دگنا لمبا تھا۔ اس کے کوٹ سے پانی نہیں ٹپک رہا تھا — پانی اس سے ڈر کر پیچھے ہٹ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں کوئی رنگ نہیں تھا۔ صرف گہرائی تھی، جیسے رات کے آسمان میں دیکھو اور ستارے غائب ہوں۔
اس نے ہم تینوں کو دیکھا۔ پھر اس کی نظر مجھ پر ٹھہر گئی۔
اور اس نے میرا نام لیا۔
"مہم۔"
میری زبان میرے منہ میں پتھر بن گئی۔ زاویار نے میرا ہاتھ پکڑا۔ بلال نے تھرماس اٹھا لیا — جیسے چائے اس بار بھی کام آئے گی۔
شیشے کے پار بڑی مہام چلائی: "اسے جواب مت دینا! نام کا جواب نام ہوتا ہے — جو اسے پہچانے، وہ اس کا ہو جاتا ہے!"
مگر دیر ہو چکی تھی۔ کیونکہ میرے ہونٹ پہلے ہی ہل رہے تھے — اور میرے دل میں، کہیں بہت گہرائی میں، ایک سوال اٹھ رہا تھا جس کا جواب مجھے معلوم نہیں تھا:
اگر میں اسے نام نہ دوں... تو کیا وہ خود میرا نام لے لے گا؟