← نیلی جھیل کا جادو · All episodes

Episode 7

نام کی قیمت

نام کی قیمت

بلبلہ پھٹنے کو تھا — اور ہم تینوں کی نظریں ایک ہی چہرے پر جمی تھیں۔

میرے چہرے پر۔

میں نے بلال کو دیکھا۔ اس نے نظریں چرا لیں۔ زاویار نے میرا ہاتھ پکڑا — اتنی زور سے کہ میری انگلیاں سن ہو گئیں۔ "نہیں،" اس نے کہا۔ "یہ نہیں ہو سکتا۔"

بڑی مہام کی سرگوشی اب بھی میرے کانوں میں گونج رہی تھی: "اس نے اسے چنا ہے جس نے خواب کی دیواریں توڑیں۔"

دیواریں توڑنے والی... میں؟ وہ صفحہ میرے ہاتھ میں تھا — میرے اپنے ہاتھ کی لکھائی میں۔ میں نے اسے پڑھا تھا۔ بار بار پڑھا تھا۔ کیا پڑھنے سے خواب کی دیوار ٹوٹ گئی تھی؟

پھر وہ آواز آئی — سینوں کے اندر سے، جیسے ہمارے دلوں نے بولنا سیکھ لیا ہو:

"اپنا نام دو... جو میرا نام اٹھائے گا، میں اس کے خواب میں گھر جاؤں گا۔"

اور بلبلہ پھٹا۔

دھماکے سے نہیں۔ ایک لمبی تھکی ہوئی سانس کی طرح — جیسے سو سال سے رکا ہوا کوئی سانس آخر چھوٹ گیا ہو۔ نیلی دھند چھائی۔ پانی کناروں کی طرف ہٹا۔ اور دھند کے بیچ میں ایک لڑکا کھڑا تھا۔

ہماری عمر کا لڑکا۔

میں نے آنکھیں جھپکائیں۔ میں نے کسی دیو کی توقع کی تھی — ستاروں کی روشنی میں لپٹا ہوا کوئی وجود، جس کی آواز سے پہاڑ ہل جائیں۔ ننگے پاؤں۔ بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا۔ اس نے پرانے زمانے کا ایک بھاری کوٹ پہن رکھا تھا، اتنا بڑا کہ آستینیں اس کے ہاتھوں پر لٹک رہی تھیں۔

بلال کے منہ سے بے اختیار نکلا: "اوہ۔ تو تم ہو وہ خوفناک مسافر؟ بھائی، ڈراؤنی کہانیوں میں ولن ذرا لمبے ہوتے ہیں!"

لڑکے نے ہم تینوں کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں الجھن تھی — ویسی الجھن جو میں نے ایک بار ایک چھوٹے بچے کی آنکھوں میں دیکھی تھی جو میلے میں اپنی ماں سے بچھڑ گیا تھا۔

"یہ..." اس نے کہا۔ اس کی اردو میں ایک عجیب سا لہجہ تھا، جیسے الفاظ اس کے منہ میں نئے ہوں۔ "یہ کون سی جگہ ہے؟ مجھے... مجھے گھر جانا ہے۔"

میرے ذہن میں کتابوں کے صفحے پلٹنے لگے۔ ہر اچھی کہانی میں ایک ایسا موڑ آتا ہے جہاں قاری سانس روک لیتا ہے — میں اس وقت اسی موڑ پر کھڑی تھی، فرق صرف یہ تھا کہ یہ کہانی کسی کتاب میں نہیں، میرے گرد گھوم رہی تھی۔

یہ مسافر خود نہیں جاگا تھا۔ خواب نے اسے باہر بھیجا تھا — تاکہ وہ جاگے بغیر گھر جا سکے۔ خواب میں چلتا ہوا خواب دیکھنے والا۔

زاویار ایک قدم آگے بڑھا۔ "تمہارا گھر یہاں سے بہت دور ہے۔ آسمان کے پار۔ اور تم وہاں اکیلے نہیں پہنچ سکتے۔"

لڑکے کا چہرہ ایک لمحے کے لیے بدل گیا۔ وہ نرمی غائب ہوئی، اور آواز پھر ہمارے سینوں میں گونجی — بڑی، پرانی، بے صبر:

"نام دو۔"

کوئی نہ بولا۔ ہوا بھی رک گئی تھی۔

تب بلال نے وہ کیا جو صرف بلال کر سکتا تھا۔

اس نے تھرماس کا ڈھکن کھولا۔ بھاپ اٹھی۔ اس نے کپ لڑکے کی طرف بڑھایا۔ "دیکھو بھائی، ہمارے ہاں رواج ہے — نام مانگنے سے پہلے چائے پوچھتے ہیں۔ لو، پیو۔ ادرک والی ہے، امی نے بنائی تھی۔"

لڑکے نے کپ لیا۔ پیا۔ اور اس کے چہرے پر ایک ٹیڑھی سی مسکراہٹ آئی — ایک عام، تھکے ہوئے، کھوئے ہوئے لڑکے کی مسکراہٹ۔ ایک لمحے کے لیے وہ کوئی مسافر نہیں تھا۔ صرف ایک لڑکا تھا جسے گھر جانا تھا۔

میرا دل دھک سے رہ گیا۔ یہی تو خطرہ تھا — اسے انسان سمجھنا آسان تھا۔ اور یہی آسانی سب سے بڑا جال تھی۔

"اچھا، ایک بات سنو،" بلال نے جلدی سے کہا۔ اس کی آواز میں وہ گھبراہٹ تھی جسے وہ مذاق میں چھپانے کی کوشش کر رہا تھا۔ "نام دینے سے پہلے ایک فارم بھرنا پڑتا ہے۔ نام، ولدیت، پتہ، دستخط۔ یہ ہمارے اسکول کا قانون ہے — میں نے خود بنایا ہے، پرنسپل صاحب کو بھی نہیں پتا۔"

لڑکا رک گیا۔ "فارم؟" اس نے دہرایا۔ "فارم... کیا ہوتا ہے؟"

"دیکھا!" بلال نے ہماری طرف دیکھ کر آنکھ ماری۔ "یہ تو فارم بھی نہیں جانتا! بھائی، تم تو ابھی بچے ہو!"

میں ہنسنا چاہتی تھی اور رونا بھی۔ بلال ڈرا ہوا تھا — اتنا ڈرا ہوا کہ اس کا مذاق اس کی ڈھال بن گیا تھا۔ اور وہ ڈھال کام کر رہی تھی: لڑکا واقعی رک گیا تھا، الجھن میں، جیسے کوئی اسے پہلی بار کسی ایسے کھیل میں گھسیٹ لے گیا ہو جس کے اصول اسے نہیں آتے۔

مگر پھر زاویار آگے بڑھا۔ اس کی آنکھوں میں وہ ضد تھی جو میں نے اس میں اس دن دیکھی تھی جب اس نے کہا تھا کہ وہ جھیل کے پار جائے گا، چاہے کچھ بھی ہو۔

"بس کرو، بلال،" اس نے کہا، اور لڑکے کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ "میرا نام لے لو۔ زاویار۔ یہ دونوں نہیں جائیں گے — میں جاؤں گا!"

خاموشی۔

لڑکے نے زاویار کو دیکھا۔ پھر اس کے پار دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں چاند کے دو عکس تیرنے لگے — ایک آسمان والا، اور ایک کوئی اور۔

"انتخاب ہو چکا ہے،" اس نے آہستہ سے کہا۔

اسی لمحے ہوا سنہری ہو گئی۔

وقت نہیں رکا — بس پھسل گیا، جیسے کوئی سنہری شہد میں ڈوب گیا ہو۔ پانی کی لہریں جم گئیں۔ بلال کا ہاتھ ہوا میں ٹھہر گیا۔ زاویار کی سانس رک گئی۔

صرف میں چل سکتی تھی۔ صرف میں سن سکتی تھی۔

اور وہ آیا — وہ ساتھی۔ سنہری روشنی میں لپٹا ہوا۔ سو سال سے خواب کے باہر انتظار کرتا ہوا۔

"کتاب والی لڑکی،" اس نے کہا۔ اس کی آواز میں تھکاوٹ تھی۔ "ایک سودا کر لو۔"

"کیسا سودا؟"

"اپنا وہ خواب مجھے دے دو — وہ والا جو تم نے کبھی کسی کو نہیں بتایا۔" وہ رکا۔ "وہ خواب جس میں تم کہانیاں لکھتی ہو — ایسی کہانیاں جو تم سے بڑی ہوں، جو تمہارے بعد بھی زندہ رہیں۔ وہ خواب مجھے دے دو۔ میں اسے سلا دوں گا۔ سو سال کے لیے۔ تینوں دل چھوئے بغیر گھر واپس جائیں گے۔ کچھ نہیں بدلے گا۔"

میرے گلے میں کچھ اٹک گیا۔ وہ خواب — میرا سب سے چھپا ہوا خواب — میں نے تو بلال اور زاویار کو بھی نہیں بتایا تھا۔

"نہیں،" میں نے کہا۔

اس کی سنہری آنکھیں پھیل گئیں۔ "تم سمجھتی نہیں۔ چاند ڈوب رہا ہے۔ تیسری رات ختم ہو رہی ہے۔"

"میں سمجھتی ہوں،" میں نے کہا۔ مجھے حیرت ہوئی کہ میری آواز کتنی مضبوط تھی۔ "خواب سودے کی چیز نہیں ہوتی۔ خواب تو اڑان ہوتی ہے۔ اور تم..." میں نے اسے دیکھا۔ "تم نے سو سال انتظار کیا۔ شاید انتظار کرنا ہی تمہارا خواب ہے۔ اسے مت بیچو۔"

وہ لرزا — جیسے کسی نے اس کے اندر کی کوئی پرانی دیوار چھو لی ہو۔ پھر روشنی مدھم ہوئی۔

"چاند ڈوب رہا ہے، کتاب والی لڑکی،" اس نے کہا — اور غائب ہو گیا۔

وقت واپس آیا۔ بلال کا ہاتھ گرا۔ زاویار نے سانس لی۔

لڑکے کا چہرہ بدل چکا تھا۔ وہ نرمی، وہ الجھن — سب غائب۔ اس کی آنکھوں میں اب صرف وہ گہرائی تھی جو جھیل کے سب سے نچلے حصے میں ہوتی ہے۔

اس نے سیدھا مجھے دیکھا۔

اور نام بولا۔

"مہم۔"

ہم دونوں نے ایک ساتھ کہا: "ہاں؟"

میں اور بڑی مہام — ایک دوسرے کو دیکھا۔ وقت ایک لمحے کے لیے دو حصوں میں بٹ گیا۔

پھر بڑی مہام آگے بڑھی۔ چاندنی میں، پانی پر قدم رکھتی ہوئی — پانی اس کے پاؤں تلے شیشے جیسا جم گیا۔ وہ لڑکے کے سامنے کھڑی ہوئی۔

"ڈرو مت، مہم،" اس نے کہا۔ اس کی آواز میں آنسو تھے اور مسکراہٹ بھی۔ "میں نے یہ رات تین سال پہلے دیکھی تھی۔ بالکل یہی رات۔ اور میں نے بھی یہی کیا تھا۔"

میرے ذہن میں سب کچھ ایک ساتھ جڑ گیا — جیسے کسی نے کتاب کا آخری صفحہ پہلے کھول دیا ہو۔ وہ ہمیں بچانے آئی تھی یا پھانسنے؟

دونوں۔

چکر کو یہ رات چاہیے تھی — اور اس کے دل کو ہم تینوں۔

"وہ ہمارا نام نہیں مانگ رہا تھا،" بڑی مہام نے سرگوشی کی۔ اس نے لڑکے کی آنکھوں میں دیکھا — اس کھوئے ہوئے لڑکے کی آنکھوں میں۔ "وہ اپنا نام مانگ رہا تھا۔ 'اپنا نام دو' — اپنا کا مطلب ہمیشہ 'تمہارا' نہیں ہوتا، مہم۔ کبھی کبھی اس کا مطلب 'اس کا اپنا' بھی ہوتا ہے۔ وہ اپنا نام بھول چکا ہے — سو سال کی نیند میں۔ جو اسے نام دے گا... وہ اس کا ہو جائے گا۔"

میں نے منہ کھولا۔ میرے ہونٹوں پر ایک نام تھا —

مگر اس نے پہلے کہہ دیا۔

"چراغ۔" اس نے کہا۔ "تمہارا نام چراغ ہے۔"

لڑکے کی انگلیاں اس کے ہاتھ پر بند ہو گئیں۔ نیلی روشنی ان دونوں کو لپیٹنے لگی — آہستہ آہستہ، جیسے کوئی پرانی چادر اوڑھ رہا ہو۔

"رو مت،" بڑی مہام نے کہا۔ "یہی میری کہانی تھی — اور اب یہ تمہاری کہانی ہے۔ اسے لکھنا، مہم۔ ضرور لکھنا۔"

میں چیخی۔ میں آگے لپکی — اس کی کلائی کی طرف، اس کے ہاتھ کی طرف، اس کی طرف جو میں خود تین سال بعد بننے والی تھی —

اسی لمحے چاند کے نچلے کنارے نے کالے پانی کو چھو لیا۔