← نیلی جھیل کا جادو · All episodes

Episode 6

بُلاہٹ اور جاگنے کی قیمت

بُلاہٹ اور جاگنے کی قیمت

بلبلہ پانی کے بیچ میں اٹھ رہا تھا — اور نیچے سے کوئی اتنا بڑا تھا کہ جھیل اسے چھپا نہیں سکتی تھی۔

زاویار کا ہاتھ میری کلائی پر اتنا زور سے تھا کہ خون رک گیا تھا۔ بلال نے تو سانس لینا ہی بھول دیا تھا۔ ہم تینوں کنارے پر کھڑے تھے، اور جھیل کی ساری نیلی روشنی اس بلبلے کے اندر جمع ہو رہی تھی، جیسے کوئی دیو اپنا سینہ پھلا کر سانس کھینچ رہا ہو۔

بڑی مہام — یا وہ جو تین سال بعد کی میں تھی — ہمارے سامنے کھڑی تھی۔ اس کی نیلی آنکھیں بلبلے پر جمی تھیں، اور اس کے چہرے پر وہی خوف تھا جو آئینے میں اپنا عکس بدلتے دیکھنے پر آتا ہے۔

"تم نے تین دلوں کی آزمائش میں جھیل کے خواب کی دیواریں ہلا دیں تھیں،" وہ دھیرے سے بولی، بغیر پلکیں جھپکائے۔ "خواب میں دراڑ پڑ گئی۔ اور اب... اب وہ دراڑ سے باہر جھانک رہا ہے۔"

"کون؟" بلال کی آواز لرز رہی تھی۔ "وہ 'وہ' کون ہے؟ تم نے کاغذ پر لکھا تھا — 'وہ جاگ گیا ہے'۔"

بڑی مہام نے میری طرف دیکھا۔ اس کے ہونٹ ہلتے رہے، جیسے بولنا اسے تکلیف دے رہا ہو۔ پھر اس نے پانی کی طرف اشارہ کیا۔

"سو سال پہلے جو ستارہ گرا تھا..." اس نے کہا، "وہ ستارہ نہیں تھا۔"

زاویار نے میرے بازو کو اور زور سے پکڑا۔ "کیا مطلب؟"

"وہ ایک مسافر تھا۔" بڑی مہام کی آواز پانی کی لہروں جیسی اترتی چڑھتی تھی۔ "آسمان سے پار کا ایک مسافر۔ اس کا جہاز ٹوٹ گیا، وہ یہاں گرا — اور گرنے کے زخم نے اسے ایسی نیند سلا دی جو سو سال سے نہیں ٹوٹی۔ یہ جھیل اس کی نیند ہے۔ اس کا خواب۔ اور ہم سب — ہم سب اس کے خواب کے اندر رہ رہے ہیں۔"

میرے پیروں تلے پتھر ہل رہے تھے۔ نہیں — زمین نہیں ہل رہی تھی، پانی ہل رہا تھا۔ بلبلہ اب ایک گھر جتنا بڑا ہو چکا تھا، اور اس کے اندر کچھ حرکت کر رہا تھا — کوئی شکل، کوئی سایہ، جو انسان جیسا بھی تھا اور نہیں بھی۔

"تو وہ جاگنا چاہتا ہے؟" میں نے پوچھا۔ "یہی تو اچھی بات ہے نا؟"

بڑی مہام نے سر ہلایا — اور پہلی بار اس کی آنکھوں میں آنسو آئے۔ نیلے آنسو۔ "تم نہیں سمجھ رہی۔ وہ سو سال سے اپنے گھر کا خواب دیکھ رہا ہے۔ اس کے خواب میں اس کا گھر، اس کے لوگ، اس کی منزل — سب زندہ ہیں۔ اگر وہ جاگ گیا تو وہ خواب مر جائے گا۔ اور جو چیز اس خواب کے اندر رہتی ہے..."

"ہم،" بلال نے سرگوشی کی۔

"پورا شہر۔" اس نے کہا۔ "پہاڑوں کے اس پار کی وادی، وہ گاؤں جہاں ہم رہتے ہیں — سب کچھ اسی خواب کی لہروں پر تیر رہا ہے۔ سو سال ایک لمحہ ہے، یاد ہے؟ اگر وہ آنکھ کھولے گا تو وہ لمحہ ٹوٹ جائے گا۔ اور ٹوٹے ہوئے خواب کے اندر جو بھی ہوگا، وہ... بکھر جائے گا۔"

زاویار آگے بڑھا۔ اس کی آواز میں وہی ضد تھی جو اسے ہمیشہ خطرے کی طرف کھینچتی تھی۔ "تو ہم اسے سونے دیں۔ ہم دراڑ بند کر دیں گے۔ ہم نے پہلے بھی آزمائش پاس کی تھی —"

"نہیں!" بڑی مہام چیخی، اور اس کی چیخ پانی پر گونجی۔ درجنوں نیلی آنکھوں والے خاموش سائے کنارے کی طرف بڑھنا رک گئے۔ "تم نہیں سمجھے۔ وہ سونا نہیں چاہتا اب۔ وہ تھک گیا ہے۔ سو سال کا خواب اس کے لیے بھی قید ہے۔ وہ گھر جانا چاہتا ہے — اپنے اصل گھر، آسمان کے پار۔ اور اس کے لیے اسے کسی کی ضرورت ہے۔"

"کس کی؟" میں نے پوچھا، حالانکہ میرے دل کو جواب پہلے سے معلوم تھا۔ جھیل ہمیشہ قیمت لیتی ہے۔ ہمیشہ۔

بڑی مہام نے میری آنکھوں میں دیکھا — اپنی ہی آنکھوں میں، تین سال بڑی۔ "اسے ایک چراغ بردار چاہیے۔ کوئی جو اس کا نام اپنے خواب کے اندر اٹھا کر اسے گھر کا راستہ دکھائے۔ کوئی جو جاگتے ہوئے اس کے ساتھ چلے... اور جو اس کے ساتھ جائے گا، وہ کبھی واپس نہیں آئے گا۔"

خاموشی۔ صرف پانی کی آواز۔ بلبلہ اب اتنا بڑا تھا کہ اس میں آسمان کا عکس بھی ڈوب رہا تھا۔

"اور اگر کوئی نہ جائے؟" زاویار نے پوچھا۔

"تو وہ خود اٹھے گا۔" بڑی مہام کی آواز ٹوٹ گئی۔ "دراڑ سے۔ اور جب ٹوٹے ہوئے خواب سے کوئی جاگتا ہے تو وہ اپنے ساتھ سب کچھ بہا لے جاتا ہے — پوری وادی، پورا شہر، سب کچھ اس کی بیداری کی لہر میں ڈوب جائے گا۔ تین دن۔ ہمارے پاس تین راتیں ہیں۔ تیسری رات چاند ڈوبے گا — اور پھر وہ فیصلہ نہیں کرے گا، وہ بس... جاگ جائے گا۔"

بلال نے میرا دوسرا ہاتھ پکڑ لیا۔ اس کے ہاتھ پسینے سے بھیگے تھے۔ "تو... ہمیں کسی کو بھیجنا ہوگا؟ ہم میں سے کسی کو؟"

میں نے بڑی مہام کو دیکھا۔ وہ مجھ سے نظریں چرا رہی تھی۔ اور تب مجھے وہ بات یاد آئی جو مجھے پہلے کھٹکی تھی — اس نے کہا تھا کہ وہ تین سال پہلے اپنی ادھوری خواہش لے کر آئی تھی اور جھیل نے اسے لے لیا تھا۔

"تم،" میں نے دھیرے سے کہا۔ "تم کیوں نہیں جاتیں؟ تم تو پہلے سے اس کے خواب کا حصہ ہو۔ تمہیں تو واپس آنا بھی نہیں ہے — تم پہلے ہی..."

اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ نیلی آنکھوں میں پہلی بار کوئی اور چیز چمکی — شرمندگی؟ خوف؟ یا کوئی راز؟

"میں نہیں جا سکتی،" اس نے جلدی سے کہا، بہت جلدی سے۔ "میں... میں بندھی ہوئی ہوں۔ مسافر کے خواب کی قیدی ہوں۔ میں صرف..."

"صرف کیا؟" زاویار نے قدم آگے بڑھایا۔ "تم ہمیں یہاں کیوں لائی ہو، بڑی مہام؟ سچ بتاؤ۔ وہ کاغذ — تمہارے اپنے ہاتھ کی لکھائی میں — تم نے ہمیں خبردار کیا تھا یا... بلایا تھا؟"

وہ پیچھے ہٹی۔ پانی اس کے پیروں کو چھونے لگا۔ اور اس لمحے بلبلے کے اندر کی شکل صاف ہوئی — ایک لمبا سایہ، جس کے کندھوں پر ستاروں جیسی روشنی ٹمٹما رہی تھی، اور جس کی آنکھیں کھل رہی تھیں۔ کھل رہی تھیں۔

اور پھر پوری جھیل میں ایک آواز گونجی — نہ پانی کی، نہ ہوا کی۔ ایک ایسی آواز جو ہمارے سینوں کے اندر سے آ رہی تھی، جیسے ہمارے دلوں نے بولنا سیکھ لیا ہو:

"اپنا نام دو... اپنا نام دو... جو میرا نام اٹھائے گا، میں اس کے خواب میں گھر جاؤں گا..."

بڑی مہام نے میری طرف ہاتھ بڑھایا — اور اس کے ہونٹوں پر وہی الفاظ تھے جو آواز کہہ رہی تھی۔ وہ مسکرا رہی تھی۔ یا رو رہی تھی۔ مجھے فرق سمجھ نہیں آیا۔

"اس نے پہلے ہی چن لیا ہے،" اس نے سرگوشی کی۔ "اس نے اسے چنا ہے جس نے خواب کی دیواریں توڑیں۔"

تینوں کی نظریں ایک ساتھ ایک چہرے پر جمیں —

اور بلبلہ پھٹنے کو تھا۔