Episode 5
بڑی ماہم کا سوال

پانی سے اٹھنے والی شکل ماہم کی طرح نہیں تھی — بلکہ بالکل ماہم جیسی تھی۔ وہی چہرہ، وہی آنکھیں، لیکن آنکھوں کا رنگ... گہرا نیلا، جیسے جھیل کا سب سے گہرا حصہ۔ اس کے ہاتھ میں وہی نوٹ بک تھی جو ماہم کی ماں نے اسے اسکول کے پہلے دن دی تھی۔
"ڈرو مت..." بڑی ماہم نے کہا، اور اس کی آواز دھند کے پار گونجی۔ "میں تم ہی ہوں۔"
بلال کے دانت بج رہے تھے، ٹھنڈ سے نہیں، خوف سے۔ "یہ... یہ کیسے ہو سکتا ہے؟"
"یہ وہی ہے جسے جھیل نے لیا تھا،" زویار نے دھیرے سے کہا، اس کی نظر بڑی ماہم کے چہرے سے نہ ہٹتی۔ "ہے نا؟"
بڑی ماہم نے سر ہلایا۔ "میں وہ ماہم ہوں جو تین سال بعد جھیل کے پاس آئی تھی۔ وہی خواہش... وہی دعا... جو پوری نہیں ہوئی۔ جھیل نے مجھے لیا، اور اب میں مسافر کے خواب کا حصہ ہوں۔"
"خواب؟" ماہم (اصلی ماہم، چھوٹی ماہم — اب اسے خود کو سمجھانے کے لیے الفاظ کی ضرورت تھی) نے قدم پیچھے ہٹایا۔ "دکان والے نے کہا تھا... جھیل مسافر کا خواب ہے۔"
"ہاں،" بڑی ماہم نے کہا۔ "اور خواب میں وقت مختلف چلتا ہے۔ یہاں ایک سو سال وہاں کے ایک لمحے کے برابر ہیں۔ مسافر سویا ہوا ہے، لیکن اس کا خواب جاگ رہا ہے۔ اور اب..."
وہ رکی۔ اس کے پیچھے پانی سے اٹھی ہوئی درجنوں شکلیں آہستہ آہستہ ساحل کی طرف بڑھ رہی تھیں۔ نیلی آنکھیں۔ خاموش چہرے۔
"اب وہ جاگنے والا ہے،" بڑی ماہم نے کہا۔ "تمہاری آزمائشِ تین دلوں نے اسے جھنجھوڑ دیا۔ جب تین دل ایک ہو کر بات کرتے ہیں، تو خواب کی دیواریں ہلتی ہیں۔"
زویار نے اپنی کلائی کی رسی کو مضبوطی سے پکڑا — وہ رسی جس سے تینوں ایک دوسرے سے بندھے تھے۔ "تو وہ چاہتا کیا ہے؟ مسافر ہم سے کیا چاہتا ہے؟"
بڑی ماہم نے جھیل کی طرف دیکھا۔ پانی کے بیچوں بیچ ایک بڑا سا بلبلا اٹھ رہا تھا، جیسے کوئی بہت بڑی چیز نیچے سے سانس لے رہی ہو۔
"وہ گھر جانا چاہتا ہے،" اس نے کہا۔ "ایک سو سال سے وہ یہی خواب دیکھ رہا ہے — کہ وہ اپنے گھر لوٹ گیا ہے۔ اور ہر وہ شخص جسے جھیل نے لیا، اس خواب میں اس کے ساتھ ہے۔ ہم اس کی تنہائی بھر دیتے ہیں۔ ہم اس کا گھر بن گئے ہیں۔"
"تو مسئلہ کیا ہے؟" بلال نے کہا، اور پھر فوراً اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا، جیسے اسے احساس ہوا ہو کہ سوال کتنا بے وقوفانہ تھا۔
بڑی ماہم کی نیلی آنکھوں میں دکھ اترا۔ "مسئلہ یہ ہے کہ خواب اب ٹوٹنے والا ہے۔ اور جب خواب ٹوٹے گا، تو ہم سب — جھیل نے جنہیں لیا، وہ سب — ہم کہاں جائیں گے؟ ہم تو خواب کے اندر رہتے ہیں۔ خواب کے باہر ہماری کوئی جگہ نہیں۔"
خاموشی چھا گئی۔ صرف پانی کی ہلکی سی چھپ چھپ سنائی دے رہی تھی۔
"تم مجھے وہ صفحہ کیوں بھیجا؟" چھوٹی ماہم نے پوچھا، اس کی آواز کانپ رہی تھی۔ "وہ نوٹ... 'وہ اکیلا نہیں آئے گا' — اس کا کیا مطلب تھا؟"
"مطلب یہ تھا،" بڑی ماہم نے اپنے پیچھے ہاتھ بڑھایا، "کہ وہ اپنے ساتھ ہمیں بھی لے کر آئے گا۔ ہم سب کو۔ جاگتے ہوئے مسافر کے ساتھ ہم سب جاگ جائیں گے — اور پھر ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا۔"
"کیسا فیصلہ؟"
"یا تو ہم مسافر کو جگائیں — اسے اس کے خواب سے نکالیں، اسے گھر جانے دیں — اور اس کے ساتھ ہم سب بھی... ہم سب بھی ختم ہو جائیں۔ کیونکہ خواب کے کردار خواب کے باہر زندہ نہیں رہتے۔" بڑی ماہم کی آواز ٹوٹنے لگی۔ "یا پھر... ہم اسے سونے دیں۔ خواب جاری رکھیں۔ اور تم تینوں..."
"ہم تینوں کیا؟" زویار نے پوچھا۔
بڑی ماہم نے ان تینوں کو دیکھا، اور اس کی نیلی آنکھوں میں آنسو چمکے — اصلی آنسو، جو گالوں پر بہہ کر پانی میں گرے اور ہلکی سی چھنک کی آواز پیدا کی۔
"خواب کو جاری رکھنے کے لیے نئے دل چاہئیں۔ تین دل۔ جو رضامندی سے آئیں، جو اپنی خواہش خود لے کر آئیں۔" اس نے رسی کی طرف دیکھا جس سے تینوں بندھے تھے۔ "تم نے خود کو باندھ لیا ہے۔ تم نے پہلے ہی پہلا قدم اٹھا لیا ہے۔"
بلال کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ "نہیں... نہیں، ہم تو صرف بات کرنے آئے تھے!"
"میں جانتی ہوں،" بڑی ماہم نے نرمی سے کہا۔ "میں بھی صرف بات کرنے آئی تھی۔ تین سال بعد۔ میری خواہش تھی کہ... " وہ رکی۔ "میں تمہیں نہیں بتاؤں گی کہ میری خواہش کیا تھی۔ کچھ خواہشیں اتنی نجی ہوتی ہیں کہ انہیں خواب میں بھی چھپا کر رکھنا پڑتا ہے۔"
چھوٹی ماہم کے دل میں ایک عجیب سا دھچکا لگا۔ اس نے اپنی نوٹ بک کی طرف دیکھا — وہ نوٹ بک جو بڑی ماہم کے ہاتھ میں تھی، اور ایک جیسی نوٹ بک اس کے اپنے تھیلے میں۔
"وہ صفحہ،" اس نے کہا، "تم نے لکھا تھا۔ تم نے مجھے خبردار کیا تھا۔ کیوں؟ اگر تم خواب کا حصہ ہو، تو تم ہمیں کیوں بچانا چاہتی ہو؟"
بڑی ماہم مسکرائی — ایک ایسی مسکراہٹ جو خوشی اور دکھ دونوں سے بھری تھی۔ "کیونکہ میں تم ہوں۔ اور میں جانتی ہوں کہ تم وہ غلطی نہیں کرو گی جو میں نے کی تھی۔ میں نے اپنی خواہش کے پیچھے سب کچھ دے دیا۔ تم... تم ہوشیار ہو۔ تم کتابیں پڑھتی ہو۔ تم سوچتی ہو۔"
اچانک جھیل کے بیچ والا بلبلا پھٹا۔
ایک آواز آئی — گہری، پرانی، جیسے پہاڑوں کے نیچے سے کوئی بول رہا ہو۔ وہ کوئی زبان نہیں تھی جو تینوں جانتے تھے، لیکن پھر بھی انہیں سمجھ آ گئی۔ جیسے الفاظ دل میں اتر رہے ہوں، کانوں میں نہیں۔
"میرے بچو... مت جاؤ... مجھے اکیلا مت چھوڑو..."
زویار کے قدم خود بخود پانی کی طرف بڑھے۔ بلال نے اسے پکڑا۔ "زویار! رکو!"
"وہ... وہ رو رہا ہے،" زویار نے کہا، اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ "تم سن نہیں رہے؟ وہ ایک سو سال سے اکیلا ہے۔"
"یہی تو اس کا ہتھیار ہے،" چھوٹی ماہم نے جلدی سے کہا، اپنی کتابوں والا دماغ کام میں لاتے ہوئے۔ "ہمدردی۔ وہ ہمیں اپنے دکھ سے باندھتا ہے۔ بڑی ماہم — تم نے کہا تھا کہ خواب ٹوٹنے والا ہے۔ کیا ہم اسے روک سکتے ہیں؟ کوئی تیسرا راستہ ہے؟"
بڑی ماہم نے چونک کر اسے دیکھا۔ "تیسرا راستہ؟"
"ہاں۔ نہ اسے جگائیں، نہ خود کو دیں۔ کچھ اور۔" ماہم کی آنکھوں میں وہ چمک آ گئی جو اس وقت آتی تھی جب وہ کسی مشکل سوال کا جواب ڈھونڈ لیتی تھی۔ "دکان والے نے کہا تھا — جھیل مسافر کا خواب ہے۔ خواب کا مطلب ہے کہ مسافر خود اسے بدل سکتا ہے۔ اگر ہم اسے سکھا دیں کہ خواب میں اکیلا ہونا ضروری نہیں — کہ وہ خواب کے اندر بھی... "
"کہ وہ خواب کے اندر بھی گھر بنا سکتا ہے؟" بڑی ماہم نے جملہ مکمل کیا، اور پہلی بار اس کے چہرے پر حیرت کی جھلک آئی۔ "تم کہنا چاہتی ہو کہ ہم اسے خواب بدلنا سکھائیں؟"
"کیوں نہیں؟" ماہم نے کہا۔ "اگر وہ اتنا طاقتور ہے کہ ایک پوری جھیل اس کا خواب ہے، تو وہ خواب بدل بھی سکتا ہے۔ اسے کسی کو لینے کی ضرورت نہیں — وہ خواب میں وہ سب بنا سکتا ہے جو اسے چاہیے۔"
پانی سے اٹھی ہوئی شکلوں میں ہلچل مچی۔ نیلی آنکھیں ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں۔ جیسے یہ خیال ان کے لیے نیا تھا — جیسے ایک سو سال میں کسی نے یہ نہیں سوچا تھا۔
اور تب مسافر کی آواز پھر آئی۔ لیکن اس بار مختلف تھی۔ اس بار اس میں... امید تھی؟
"سکھاؤ... مجھے... سکھاؤ..."
بڑی ماہم نے چھوٹی ماہم کا ہاتھ پکڑا۔ اس کا ہاتھ ٹھنڈا تھا، لیکن نرم۔ "تم واقعی مجھ سے زیادہ ہوشیار ہو،" اس نے سرگوشی کی۔ "لیکن سنو — ایک بات یاد رکھنا۔ خواب بدلنے کی قیمت بھی ہوتی ہے۔ اور اس بار قیمت... "
"کیا؟" تینوں نے ایک ساتھ پوچھا۔
بڑی ماہم نے جھیل کے اس پار اشارہ کیا، جہاں پہاڑوں کے پیچھے آسمان پر ایک عجیب سی روشنی نمودار ہو رہی تھی — نیلی نہیں، سنہری۔ اور اس روشنی میں، ایک شکل اتر رہی تھی۔
"وہ آ رہا ہے،" بڑی ماہم نے کہا، اس کی آواز میں خوف تھا۔ "مسافر اکیلا نہیں سویا تھا۔ اس کے ساتھ... اس کا ساتھی بھی تھا۔ جو ایک سو سال سے اس خواب سے باہر انتظار کر رہا ہے۔ اور وہ نہیں چاہتا کہ خواب بدلے۔"
سنہری روشنی قریب آتی گئی۔ اور اس میں سے ایک آواز آئی — ٹھنڈی، واضح، اور غصے سے بھری:
"میرے خواب کو ہاتھ مت لگاؤ، چھوٹی لڑکی۔