← نیلی جھیل کا جادو · All episodes

Episode 11

بھوک کی آنکھیں

بھوک کی آنکھیں

دل میرے ہاتھ میں دھڑک رہا تھا — اور اس کی ہر دھڑکن کے ساتھ پوری جھیل دھڑک رہی تھی۔ نیلا، دل کی شکل کا، گرم پتھر میرے انگوٹھے کے نیچے دھڑک رہا تھا — اور جھیل کے سب سے گہرے حصے میں بھی کچھ اسی تال پر دھڑک رہا تھا۔ جیسے پوری جھیل ایک ہی دل ہو۔

”چھوٹی،“ بڑی مہم کی آواز میرے پیچھے سے آئی، ”اب تم جھیل ہو۔ جانتی ہو اس کا مطلب؟“

”کیا؟“

”اس کا مطلب یہ ہے کہ جھیل کی ہر یاد اب تمہاری یاد ہے۔“ اس نے اس پانی کی طرف دیکھا جو ابھی تک ہلکا سا کانپ رہا تھا۔ ”اور جھیل کے پاس سو سال کی یادیں ہیں۔“

میں نے آنکھیں بند کیں۔ اور ڈوب گئی۔

یادوں میں ڈوبنا پانی میں ڈوبنے جیسا نہیں تھا — جیسے کوئی بہت بڑی کتاب کھل گئی ہو اور میں اس کے صفحوں میں گرتی جا رہی ہوں۔ میں نے دیکھا سو سال پہلے کی رات: آسمان پھٹا نہیں تھا، ٹوٹا تھا۔ ایک ستارہ گرا تھا — نہیں، گرایا گیا تھا، جیسے زخمی پرندہ۔ وہ پہاڑوں کے پیچھے گرا، زمین نے سانس روکی، پھر چھوڑی — اور پانی ابل پڑا۔ نیلا پانی، ستاروں کی روشنی میں گندھا ہوا۔

اور میں نے دیکھا کہ وہ اکیلا نہیں گرا تھا۔

اس کے پیچھے — ستاروں کے بیچ، اندھیرے میں — کچھ آ رہا تھا۔ اس کی کوئی شکل نہیں تھی۔ یہ ایسا تھا جیسے رات کے اندر ایک اور رات ہو، اور وہ رات بھوکی ہو۔ جہاں سے وہ گزرتا، ستارے بجھ جاتے۔ ایک ایک کر کے۔ جیسے کوئی پھونک مار کر چراغ بجھا دے۔

میں نے آنکھیں کھولیں۔ میرا پورا جسم کانپ رہا تھا۔

”وہ کیا تھا؟“ میں نے آسمان سے پوچھا۔ وہ اب بھی میرے پاس کھڑا تھا — میرا آسمان، میرے دیے ہوئے نام والا۔

اس نے گہرے پانی میں ان دو آنکھوں کی طرف دیکھا۔ ”اس کا کوئی نام نہیں — اسی لیے وہ سب سے خطرناک ہے۔ ہم اسے بے نام کہتے تھے۔“

”بے نام؟“

”ہم ستاروں کے مسافر تھے — بجھتے ستاروں کے نام یاد رکھتے تھے، کیونکہ جو ستارہ اپنا نام بھول جائے، وہ بجھ جاتا ہے۔ اور بے نام وہ نام کھاتا ہے۔ اس نے ہمارے قافلے کے نام ایک ایک کر کے کھا لیے۔ جو بھول گیا، وہ بجھ گیا۔ ہم بھاگے — ہمارا زخمی ستارہ یہاں تک آیا، اور گر گیا۔“

بلال نے گرا ہوا تھرماس اٹھا کر سینے سے لگا لیا۔ ”تو مطلب یہ چیز سو سال سے ہمارے نیچے دبی تھی؟ اور ہم یہاں سیلفیاں لے رہے تھے؟“

”دبی ہوئی تھی،“ بڑی مہم نے کہا۔ وہ جھیل کے کنارے بیٹھ گئی تھی۔ ”سوئی نہیں تھی۔“

”کیا مطلب؟“ میں نے پوچھا۔

”جھیل نے سو سال قیمتیں کیوں لیں؟ یادیں کیوں چھینیں؟ کیونکہ اسے بھاری ہونا تھا — اتنا بھاری کہ بے نام کے سینے پر بیٹھ کر اسے دبائے رکھ سکے۔ ہر قیمت، ہر یاد، ہر نام — سب جھیل کو بھاری کرتے گئے۔ اور جب تم تینوں نے تین دلوں کا امتحان پاس کیا، جھیل سو گئی۔ اور سوئی ہوئی چیز سب سے بھاری ہوتی ہے۔“

”مگر تم نے اسے جگا دیا — نام دے کر، تحفہ دے کر۔“ بڑی مہم نے آہستہ کہا۔ ”یاد ہے وہ صفحہ؟ 'اس بار وہ اکیلا نہیں آئے گا۔' آسمان جاگا تھا — مگر اس کی پکار اتنی اونچی تھی کہ نیچے دبی بھوک نے بھی سن لی۔“

اسی لمحے گہرے پانی میں وہ دو آنکھیں حرکت میں آئیں — اور جھیل کے بیچ میں ایک خلا بننے لگا، جیسے کسی نے پانی میں سے ٹکڑا کاٹ لیا ہو۔ ایک سیاہ دائرہ اوپر اٹھنے لگا، جس کے گرد چاندی کا پانی کانپ رہا تھا۔

زاویار نے فوراً میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے پیچھے کھینچا۔ ”پیچھے! سب پیچھے!“

مگر میں پیچھے نہ ہٹ سکی۔ کیونکہ وہ خلا بولا۔ اور اس کی آواز میری اپنی آواز تھی۔

”چھوٹی جھیل،“ اس نے میرے لہجے میں کہا، ”دل دے دو۔“

میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ ”تم میری آواز کیوں چرا رہے ہو؟“

”چرا نہیں رہا، یاد رکھ رہا ہوں،“ بے نام نے آسمان کی آواز میں کہا۔ ”میں سب کی آوازیں یاد رکھتا ہوں — کھانے سے پہلے۔“ پھر وہ بلال کی ہنسی میں ہنسا، اور بلال کا چہرہ سفید پڑ گیا۔

”بس کرو!“ میں چلائی۔

خلا ساکت ہو گیا۔ پھر وہ دو آنکھیں پوری طرح کھل گئیں — اور ان میں بھوک نہیں تھی۔ بھوک تو چھوٹی چیز ہوتی ہے۔ ان میں خلا تھا، ایسا خلا جو کبھی نہیں بھرتا۔

”دل دے دو،“ بے نام نے اپنی اصل آواز میں کہا — جو آواز نہیں تھی، صرف پانی کے نیچے دباؤ تھا۔ ”دل دے دو، اور میں صرف جھیل لوں گا۔ انکار کرو، تو قصبہ پی لوں گا — ہر خواہش، ہر نام۔ ان تین دلوں سے شروع کروں گا جو تمہارے پاس کھڑے ہیں۔“

زاویار کی گرفت میرے ہاتھ پر سخت ہو گئی۔ بلال نے تھرماس اور زور سے سینے سے لگا لیا۔

”نہیں،“ آسمان آگے بڑھا۔ ”مجھے لے لو۔ میں ستارے کا مسافر ہوں — میرا نام ابھی نیا ہے، تازہ ہے۔ وہ کھا لو۔“

”آسمان، نہیں!“ میں چلائی۔

بے نام ہزار چرائی ہوئی آوازوں میں ہنسا۔ ”تمہارا نام تو پہلے ہی دیا ہوا ہے، بچے — دیا ہوا تحفہ میں نہیں کھا سکتا۔ اسی لیے دل مانگ رہا ہوں۔ دل ابھی کسی کا دیا ہوا نہیں، وہ جھیل کا ہے۔ اور جھیل اب...“ آنکھیں مجھ پر جم گئیں۔ ”تم ہو۔“

میں نے دل کو دیکھا — اور تب مجھے وہ بات محسوس ہوئی جس نے میرا خون ٹھنڈا کر دیا: دل کی دھڑکن اب جھیل سے نہیں، میری اپنی دھڑکن سے مل رہی تھی۔

”چھوٹی!“ بڑی مہم چیخی۔ ”تم دل بن رہی ہو! جتنی دیر وہ تمہارے پاس رہے گا، تم اتنی ہی جھیل بنتی جاؤ گی — ایک دن تم پانی ہو جاؤ گی۔ بالکل میری طرح!“

میں نے اس کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے — اور سو سال کی سمجھ۔

”تو میں اسے زیادہ دیر نہیں رکھ سکتی — مگر بے نام کو بھی نہیں دے سکتی۔“

”کیوں نہیں؟“ بلال کی آواز کانپ رہی تھی۔ ”دے دو، جان چھوٹے!“

”کیونکہ اگر اس نے دل کھا لیا تو اس کے پاس جھیل کی ساری یادیں ہوں گی — ہر نام، ہر خواہش۔ وہ انہیں کھا کر رکے گا نہیں، قصبے کی طرف جائے گا۔“

میں نے آنکھیں بند کیں اور جھیل کی یادوں میں پھر ڈوبی — اس بار جان بوجھ کر۔ مجھے کوئی کمزوری، کوئی دراڑ چاہیے تھی۔ اور مجھے مل گئی۔

ستارے کی آخری یاد: گرنے سے پہلے ایک چھوٹی ستارہ بچی بے نام کے سامنے کھڑی تھی — اور اس نے اپنا نام خود اسے دے دیا تھا۔ تحفے میں۔ اپنی مرضی سے۔ اور بے نام اسے کھا نہ سکا تھا، کیونکہ اس کے پاس تحفوں کے لیے منہ نہیں تھا۔ وہ صرف چھین سکتا تھا، لے نہیں سکتا تھا — دیا ہوا اس کے حلق میں کانٹے کی طرح اٹک جاتا تھا۔

میں نے آنکھیں کھولیں۔

جھیل کا سب سے پرانا قانون میرے ذہن میں گونجا — وہی جو جھیل نے خود مجھے سکھایا تھا: تحفہ دینے والی کی قیمت کوئی اور نہیں دے سکتا۔

اور میں سمجھ گئی: جھیل نے یہ قانون بے نام سے بچنے کے لیے بنایا تھا۔ تحفہ وہ واحد چیز تھی جو وہ نہیں کھا سکتا تھا — اسی لیے جھیل تحفوں کا حساب نہیں رکھتی تھی، اور اسی لیے میرا دیا ہوا نام آسمان کو بچا گیا تھا۔

”مہم؟“ زاویار نے میرا نام لیا۔ ”تمہاری آنکھیں... نیلی ہو رہی ہیں۔“

میں نے نیچے دیکھا۔ میرے ہاتھوں کی رگیں نیلی روشنی سے چمک رہی تھیں۔ دل میری مٹھی میں دھڑک رہا تھا — میری دھڑکن، اس کی دھڑکن، ایک۔

بے نام قریب آ رہا تھا — اس کے گرد پانی غائب ہو رہا تھا، اور ستاروں کے عکس ایک ایک کر کے بجھ رہے تھے۔

”آخری بار پوچھ رہا ہوں، چھوٹی جھیل،“ بے نام نے کہا۔ ”دل دو — ورنہ میں لوں گا۔ اور میں لینا جانتا ہوں۔“

بلال نے ڈر کو ہنسی میں چھپانا چاہا — مگر اس کی ہنسی بیچ میں رک گئی۔ اس نے الجھن سے سر کھجایا: ”وہ... وہ لطیفہ کیا تھا؟“

میرا دل رک گیا۔ بے نام پہلے ہی چکھ رہا تھا — بلال کی چھوٹی چھوٹی ہنسی والی یادیں پھسل رہی تھیں۔

”رکو!“ میں چلائی۔

سب رک گیا۔ آنکھیں مجھ پر جم گئیں۔

میں نے مٹھی کھولی — دل میری ہتھیلی پر دھڑک رہا تھا، گرم، نیلا، زندہ — اور ہاتھ آگے بڑھایا۔

”تمہیں دل چاہیے؟ تو لو۔ مگر سنو، بے نام: میں اسے پھینک نہیں رہی، ہار نہیں رہی۔ میں اسے تحفے میں دے رہی ہوں — اپنی آزاد مرضی سے۔ اور تحفہ...“

دل کی دھڑکن تیز ہو گئی — اس کی نیلی روشنی میں مجھے اپنی ہی آنکھ نظر آئی۔ ”تحفہ چھینا نہیں جا سکتا۔“

بے نام کی آنکھیں پھیل گئیں۔

اور پوری جھیل سیاہ ہو گئی۔