Episode 12
نام کی جیت

"دل دے دو، اور میں صرف جھیل لوں گا۔ انکار کرو، تو قصبہ پی لوں گا — ہر خواہش، ہر نام۔ ان تین دلوں سے شروع کروں گا جو تمہارے پاس کھڑے ہیں۔"
بے نام کی آواز پانی کے نیچے دباؤ کی طرح میرے سینے پر بیٹھ گئی۔ میرے ہاتھ میں دل دھڑک رہا تھا — اور اب وہ میری اپنی دھڑکن سے مل کر دھڑک رہا تھا۔
"چھوٹی!" بڑی مہم چیخی۔ "تم دل بن رہی ہو! جتنی دیر وہ تمہارے پاس رہے گا، تم اتنی ہی جھیل بنتی جاؤ گی — ایک دن تم پانی ہو جاؤ گی۔ بالکل میری طرح!"
میں نے آسمان کی طرف دیکھا۔ وہ آگے بڑھ چکا تھا — میرا آسمان، میرے دیے ہوئے نام والا۔
"مجھے لے لو،" اس نے کہا۔ "میرا نام ابھی نیا ہے، تازہ ہے۔ وہ کھا لو۔"
"نہیں!" میں چلائی۔
بے نام ہزار چرائی ہوئی آوازوں میں ہنسا۔ "تمہارا نام تو پہلے ہی دیا ہوا ہے، بچے — دیا ہوا تحفہ میں نہیں کھا سکتا۔ اسی لیے دل مانگ رہا ہوں۔"
اور اسی لمحے — اسی ایک جملے میں — مجھے سچ سمجھ آیا۔
دیا ہوا تحفہ وہ نہیں کھا سکتا۔
میں نے دل کو دیکھا۔ نیلا، گرم، دھڑکتا ہوا۔ یہ جھیل کا دل تھا — اور جھیل نے سو سال قیمتیں اسی لیے لی تھیں کہ بھاری ہو جائے، اتنی بھاری کہ بے نام کے سینے پر بیٹھ کر اسے دبائے رکھے۔ مگر آسمان کی پکار نے جھیل کو جگا دیا تھا — اور جاگی ہوئی چیز ہلکی ہوتی ہے۔
"زاویار،" میں نے آہستہ کہا، "ستاروں کے مسافر کیا کہتے تھے؟ جو ستارہ اپنا نام بھول جائے...؟"
"وہ بجھ جاتا ہے،" زاویار نے کہا۔ اس کی گرفت میرے ہاتھ پر سخت تھی۔
"اور جس کا نام ہو؟" میں نے پوچھا۔
بڑی مہم کی آنکھیں پھیل گئیں۔ "جس کا نام ہو... وہ بندھا ہوتا ہے۔ اس کی حد ہوتی ہے۔ چھوٹی — تم کیا سوچ رہی ہو؟"
میں خلا کی طرف مڑی۔ وہ دو آنکھیں مجھے گھور رہی تھیں — خلا، جو کبھی نہیں بھرتا۔
"تم نے سب کے نام کھائے،" میں نے کہا۔ میری آواز کانپ رہی تھی، مگر میں رکی نہیں۔ "ستاروں کے قافلے کے نام۔ تم نے انہیں اس لیے کھایا کیونکہ تمہارا اپنا کوئی نام نہیں۔ تم بے نام ہو۔"
خلا ساکت ہو گیا۔
"تو سنو،" میں نے کہا۔ "میں تمہیں نام دیتی ہوں۔"
"نہیں!" بڑی مہم چیخی۔ "نام دینا تحفہ ہے — وہ اسے بھی—"
"وہ نام نہیں کھا سکتا،" میں نے کہا۔ "کیونکہ نام دینا قبضہ نہیں — نام دینا حد باندھنا ہے۔ جس کا نام ہو، اسے بلایا جا سکتا ہے۔ اور جسے بلایا جا سکے... اسے روکا بھی جا سکتا ہے۔"
میں نے گہرا سانس لیا، اور پوری جھیل کو سناتے ہوئے کہا:
"آج سے تمہارا نام ہے — تنہا۔ کیونکہ جو سب کچھ کھا لے، وہ آخر میں اکیلا رہ جاتا ہے۔"
خلا کانپا۔ وہ دو آنکھیں پہلی بار جھپکیں — جیسے کسی نے انہیں پہلی بار دیکھا ہو۔
"تنہا..." خلا نے دہرایا — میری آواز میں نہیں، اپنی آواز میں۔ پہلی بار اس کی اپنی آواز تھی — چھوٹی، خالی، ڈری ہوئی۔ "مجھے... بلایا... گیا..."
"ہاں،" میں نے کہا۔ "اور اب تمہاری حد ہے۔ تم صرف اسی کو چھو سکتے ہو جو اپنا نام بھول جائے۔ اور میں وعدہ کرتی ہوں — میں تمہارا نام یاد رکھوں گی۔ تاکہ تم دوبارہ بے نام نہ ہو جاؤ۔"
"کیوں؟" تنہا نے پوچھا۔ "کیوں یاد رکھو گی؟"
"کیونکہ بھولا ہوا نام سب سے خطرناک چیز ہوتی ہے،" میں نے کہا۔
اسی لمحے میں نے دل کو دونوں ہاتھوں میں اٹھایا — اور جھیل کی طرف بڑھایا۔
"یہ دل تمہارا تھا، جھیل،" میں نے کہا۔ "میں صرف امانت دار تھی۔ اور امانت... لوٹائی جاتی ہے۔ تحفے کے طور پر نہیں — حق کے طور پر۔"
میں نے دل پانی پر رکھا۔
پانی نے اسے لیا — آہستہ، شکر گزار، جیسے کوئی سوئی ہوئی ماں اپنے بچے کو سینے سے لگائے۔ اور جیسے ہی دل جھیل میں اترا، میری دھڑکن اس سے الگ ہوئی — جیسے کوئی ہاتھ چھوٹے۔ میں پھر سے صرف مہم تھی۔ چھوٹی مہم۔
اور جھیل — جھیل بدل گئی۔
کیونکہ اس دل میں اب صرف چھینی ہوئی قیمتیں نہیں تھیں۔ اس میں چار نام تھے — میرے، زاویار کے، بلال کے، اور آسمان کے۔ دیے ہوئے نام۔ اور دیے ہوئے نام چھینی ہوئی یادوں سے ہزار گنا بھاری ہوتے ہیں۔
جھیل بھاری ہوئی — اتنی بھاری کہ پہاڑ بھی ہل گئے۔ اور وہ بھاری پانی تنہا پر بیٹھ گیا — نرمی سے، مگر اٹل۔
سیاہ دائرہ ڈوبنے لگا۔ وہ دو آنکھیں بند ہونے لگیں۔ اور ڈوبتے ڈوبتے، تنہا نے آخری بار کہا — اپنی چھوٹی سی آواز میں:
"یاد... رکھنا..."
"یاد رکھوں گی،" میں نے وعدہ کیا۔
پانی پرسکون ہوا۔ چاندی کی سطح پر چاند اتر آیا۔ جھیل سو گئی — اس بار اتنی گہری نیند کہ سو سال تک کوئی اسے جگا نہ سکے۔
میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ بڑی مہم مسکرا رہی تھی — اور اس کا چہرہ دھند میں گھل رہا تھا۔
"اب تمہیں میری ضرورت نہیں،" اس نے کہا۔ "وہ مستقبل جہاں تم پانی بنتیں... وہ اب کبھی نہیں آئے گا۔"
"تم کہاں جاؤ گی؟" میری آنکھوں میں آنسو تھے۔
"جہاں سب اچھے مستقبل جاتے ہیں،" اس نے کہا۔ "یادوں میں۔" اور وہ صبح کی دھند بن کر اڑ گئی۔
بلال نے تھرماس اٹھایا — جو اب بھی اس کے سینے سے لگا تھا — اور کہا: "تو... ہم نے ایک بھوکے خلا کو نام دے کر سلا دیا؟" اس نے تھرماس کا ڈھکن کھولا۔ "اس پر تو چائے بنتی ہے۔"
ہم سب ہنس پڑے — وہ ہنسی جو ڈر کے بعد آتی ہے، اور سب سے میٹھی ہوتی ہے۔
زاویار نے میرا ہاتھ پکڑا۔ "چلیں گھر۔ امی نے کہا تھا اندھیرے سے پہلے۔"
"اندھیرا تو کب کا ہو چکا،" میں نے کہا۔
"تو امی ڈانٹیں گی،" زاویار نے کندھے اچکائے۔ "مگر آج ڈانٹ بھی میٹھی لگے گی۔"
آسمان ہمارے ساتھ چلا — کیونکہ اس کا نام دیا ہوا تھا، اور دیا ہوا تحفہ... اب گھر تھا۔
ہم پہاڑ سے اتر رہے تھے جب میں نے پیچھے مڑ کر آخری بار جھیل کو دیکھا۔ چاندنی میں وہ نیلی چادر کی طرح سو رہی تھی۔ پرامن۔ بھاری۔ محفوظ۔
مگر اس رات، گھر پہنچ کر، میں نے آسمان پر ایک نیا ستارہ ٹمٹماتے دیکھا — بالکل اس سمت جہاں ہمارے پہاڑ نہیں تھے۔
اور میں نے سرگوشی میں کہا:
"کہیں دور، کسی اور پہاڑ کے پیچھے، ایک اور نیلی جھیل جاگ رہی ہے۔"
آسمان نے میری طرف دیکھا اور مسکرایا۔
"مگر یہ کہانی،" اس نے کہا، "کسی اور دن کی ہے۔"