قسط 4
جڑواں بھائی
ماہ نور جم کر رہ گئی۔ اس کے ہاتھ میں لفافہ تھا، اور پیچھے سے آنے والی آواز میں نہ غصہ تھا، نہ دھمکی — صرف ایک التجا۔
"لفافہ رکھ دو، ماہ نور۔ پلیز۔"
وہ آہستہ سے مڑی۔ ٹارچ کی مدھم روشنی میں ریان کھڑا تھا۔ اس کا چہرہ پیلا پڑا ہوا تھا، اور آنکھوں میں وہی خوف تھا جو حرا کی آنکھوں میں تھا۔
"ریان؟ تم... تم نے مجھے دیکھ لیا تھا؟" ماہ نور نے پوچھا۔
"میں نے تمہیں آتے دیکھا تھا۔" ریان نے دروازہ اندر سے بند کیا۔ "تمہیں یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔"
ماہ نور نے تصویر اس کی طرف بڑھائی۔ "یہ تم ہو؟ یہ لڑکا... بالکل تم جیسا لگتا ہے۔"
ریان نے تصویر کو دیکھا، اور اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ "یہ میں نہیں ہوں، ماہ نور۔ یہ ارہم ہے... میرا جڑواں بھائی۔"
ماہ نور کی سانسیں رک گئیں۔ "جڑواں؟ مگر کسی نے کبھی نہیں بتایا کہ—"
"کیونکہ اسکول نہیں چاہتا کہ کوئی جانے۔" ریان کی آواز ٹوٹ رہی تھی۔ "ارہم میرا بھائی تھا۔ ہم دونوں ایک ہی کلاس میں تھے۔ پھر ایک رات وہ گھر نہیں آیا۔"
"کیا ہوا تھا اس رات؟"
ریان نے گہری سانس لی۔ "اسے کچھ پتا چل گیا تھا — اسکول کے تہہ خانے کے بارے میں۔ وہ کہتا تھا کہ وہاں کچھ ایسا ہے جو پرنسپل صاحب چھپا رہے ہیں۔ اس رات وہ تہہ خانے گیا تھا... اور پھر کبھی واپس نہیں آیا۔"
"اور پولیس؟ تمہارے امی ابو؟"
"سب نے کوشش کی۔" ریان نے سر جھکایا۔ "مگر اسکول نے کہا کہ ارہم کا داخلہ ہی کبھی نہیں ہوا۔ کوئی ریکارڈ نہیں، کوئی ثبوت نہیں۔ جیسے وہ کبھی تھا ہی نہیں۔ میرے امی ابو ٹوٹ گئے، ماہ نور۔ اور مجھے... مجھے خاموش رہنے کو کہا گیا۔"
ماہ نور کے دل میں ایک عجیب سا درد اٹھا۔ "مگر تم خاموش کیوں ہو؟ وہ تمہارا بھائی تھا!"
"کیونکہ جو بھی سچ ڈھونڈتا ہے، وہ غائب ہو جاتا ہے!" ریان کی آواز اچانک تیز ہو گئی۔ پھر وہ نرم پڑا۔ "دیکھو، میں نہیں چاہتا کہ تمہارے ساتھ بھی وہی ہو۔ لفافہ واپس رکھ دو۔ بھول جاؤ یہ سب۔"
اسی لمحے باہر کوریڈور میں قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ ریان نے جلدی سے لفافہ الماری میں واپس رکھا اور کھڑکی کی طرف بڑھا۔ "چاچا آ رہے ہیں۔ میں نکلتا ہوں — تم ایسے ظاہر کرو جیسے کچھ نہیں ہوا۔"
وہ کھڑکی سے باہر نکل گیا۔ ماہ نور نے جلدی سے رجسٹر واپس رکھا اور باہر نکل آئی۔ چاچا نے اسے دیکھا تو مسکرائے، "بیٹی، تم پھر یہیں؟"
مگر گھر جاتے ہوئے ماہ نور کے ذہن میں ریان کے الفاظ گونج رہے تھے۔ اس نے فیصلہ کر لیا تھا — وہ رکے گی نہیں۔
اگلے دن اسکول میں، لنچ بریک کے دوران، حرا اس کے پاس آئی۔ اس کا چہرہ سفید پڑا تھا۔
"ماہ نور..." حرا کی آواز کانپ رہی تھی۔ "آج صبح میرے ڈیسک پر ایک پرچی ملی ہے۔"
اس نے پرچی ماہ نور کے ہاتھ میں دی۔ اس پر لال روشنائی سے لکھا تھا:
"اپنی دوست کو سمجھاؤ — سچ ڈھونڈنا بند کرے۔ ورنہ اگلا نام اس کا ہوگا۔"
ماہ نور کے ہاتھ کانپنے لگے۔ پرچی کے نیچے ایک اور سطر تھی، چھوٹے حروف میں:
"— تہہ خانے سے"