قسط 3
دھول میں دبا خط
ماہ نور کے سینے میں دل اس زور سے دھڑک رہا تھا کہ اسے لگا پورے کمرے میں گونج رہا ہے۔ دروازہ بند ہو چکا تھا۔ کمرا اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔
"چاچا!" اس نے آواز دی۔ "کوئی ہے؟"
جواب میں صرف کوریڈور کی خاموشی تھی۔
اس نے کانپتے ہاتھوں سے موبائل نکالا اور ٹارچ آن کی۔ روشنی کی پتلی سی لکیر دھول بھری الماریوں پر پھری۔ پچھلے سال کا رجسٹر اب بھی اس کے ہاتھ میں تھا، اور اس پر لال روشنائی سے لکھے الفاظ چمک رہے تھے: "اسے کچھ پتا چل گیا تھا۔"
اچانک اس کے ذہن میں ایک خیال آیا۔ اس نے جلدی سے رجسٹر کے صفحے پلٹے — اپریل، مئی... مگر وہاں ارہم کا نام ہی نہیں تھا۔ جیسے وہ مارچ کے بعد رجسٹر سے مٹ گیا ہو۔
"نام مٹا نہیں سکے... صرف صفحے پھاڑے ہیں،" ماہ نور نے سرگوشی کی۔ مارچ اور اپریل کے درمیان کا صفحہ واقعی پھاڑا ہوا تھا۔ کنارے پر صرف ایک لفظ باقی تھا — "تہہ خانہ"۔
اس کے کان کھڑے ہو گئے۔ تہہ خانہ؟ اسکول میں تہہ خانہ؟
اسی لمحے باہر سے تالا کھلنے کی آواز آئی۔ ماہ نور نے جلدی سے ٹارچ بجھائی اور الماری کے پیچھے دبک گئی۔ دروازہ چرمرا کر کھلا۔ کسی نے اندر قدم رکھا۔
ٹارچ کی روشنی الماریوں پر ناچنے لگی۔ پھر ایک دھیمی آواز آئی — ایک لڑکے کی آواز:
"ارہم... تم یہیں ہو نا؟"
ماہ نور کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ یہ تو ریان کی آواز تھی! کلاس کا سب سے ذہین لڑکا، جو ہمیشہ کتابوں میں کھویا رہتا تھا۔
ریان نے ایک الماری کے پچھلے حصے میں ہاتھ ڈالا اور کوئی چیز نکالی۔ پھر وہ جلدی سے باہر نکل گیا۔ دروازہ پھر بند ہو گیا — مگر اس بار باہر سے تالا نہیں لگا۔
ماہ نور باہر نکلی، سانس پھولی ہوئی تھی۔ ریان بھی اس راز میں شامل تھا؟ اس نے الماری کے پچھلے حصے میں ہاتھ ڈالا جہاں ریان نے کچھ رکھا تھا — یا نکالا تھا؟
اس کی انگلیوں کو ایک لفافہ ملا۔ پرانا، پیلا پڑا ہوا لفافہ، جس پر لال روشنائی سے لکھا تھا: "جو سچ ڈھونڈے، اس کے لیے۔"
ماہ نور نے لفافہ کھولا۔ اندر ایک پرانی تصویر تھی۔
تصویر میں دو لڑکے کھڑے تھے۔ ایک تو ارہم تھا — حرا نے اس کی تصویر دکھائی تھی۔ مگر دوسرے لڑکے کو دیکھ کر ماہ نور کی سانسیں تھم گئیں۔
وہ لڑکا... اس کی شکل بالکل ریان جیسی تھی۔
"ریان... اور ارہم... دونوں..." ماہ نور کے ہونٹ کانپے۔ "کیا یہ دونوں بھائی ہیں؟"
اور اسی لمحے، اس کے پیچھے سے ایک آواز آئی: "لفافہ رکھ دو، ماہ نور۔"