← Class 10-B ka Raaz · تمام اقساط

قسط 2

بند دروازہ

ماہ نور نے سانس روک لی۔ قدموں کی آہٹ قریب آ رہی تھی — مگر کوریڈور میں کوئی نہیں تھا۔

"کون ہے؟" اس کی آواز کانپ رہی تھی۔

جواب میں صرف خاموشی تھی۔ پھر اچانک چوکیدار چاچا نمودار ہوئے، ہاتھ میں چابیوں کا گچھا۔

"بیٹی، تم ابھی تک یہیں ہو؟ اسکول بند ہونے والا ہے۔"

ماہ نور نے جلدی سے بیگ اٹھایا۔ "جی چاچا، بس جا رہی تھی۔"

مگر گھر جاتے ہوئے اس کے ذہن میں ایک ہی نام گونج رہا تھا — ارہم۔

اگلے دن اس نے حرا سے پوچھا، "ارہم کون ہے؟"

حرا نے ادھر ادھر دیکھا، پھر دھیمی آواز میں بولی، "تمہیں کس نے بتایا؟"

"کسی نے نہیں۔ میں نے خود دیکھا — خالی ڈیسک پر اس کا نام کندہ ہے۔"

حرا خاموش ہو گئی۔ کافی دیر بعد بولی، "وہ پچھلے سال ہماری کلاس میں تھا۔ پھر ایک دن اچانک غائب ہو گیا۔ نہ ٹی سی لی، نہ کسی کو بتایا۔ بس... غائب۔"

"اور اسکول نے کیا کیا؟"

"کچھ نہیں۔" حرا کی آواز میں خوف تھا۔ "پرنسپل صاحب نے کہا کہ اس کا داخلہ ہی کبھی نہیں ہوا تھا۔ مگر ماہ نور... میں نے خود اس کے ساتھ دو سال پڑھا ہے۔"

ماہ نور کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ "رجسٹر میں انتیسواں نام..."

"ہاں۔" حرا نے سر ہلایا۔ "وہی ارہم ہے۔ ہر روز غیر حاضر۔"

اس دن کے بعد ماہ نور نے فیصلہ کر لیا — وہ سچ جان کر رہے گی۔

ہفتے کو جب اسکول میں صرف اضافی کلاسز ہو رہی تھیں، وہ دبے پاؤں اسٹور روم کی طرف گئی۔ کسی نے بتایا تھا کہ پرانے ریکارڈ وہیں رکھے ہیں۔

دروازہ کھلا تھا۔ اندر دھول بھری الماریاں تھیں۔ ماہ نور نے رجسٹر اٹھایا — پچھلے سال کا، کلاس ٹین بی کا۔

اس نے صفحے پلٹنے شروع کیے۔ جنوری... فروری... مارچ...

اور پھر اس کی انگلیاں رک گئیں۔

مارچ کے مہینے میں ارہم کے نام کے سامنے لال روشنائی سے کچھ لکھا تھا۔ ماہ نور نے قریب سے دیکھا۔

لکھا تھا: "اسے کچھ پتا چل گیا تھا۔"

ماہ نور کا دل دھک دھک کرنے لگا۔ "کسے؟ کیا پتا چل گیا تھا؟"

اسی لمحے پیچھے سے دروازہ بند ہونے کی آواز آئی۔

کمرے میں اندھیرا چھا گیا۔