قسط 4
چوتھا دروازہ
دادا ابو کی طبیعت سنبھل رہی تھی، مگر ان کی آنکھوں میں بے چینی اب بھی ویسی ہی تھی جیسی اس رات تھی جب وہ تہہ خانے کے اندھیرے میں نمودار ہوئے تھے۔ ہسپتال کے چھوٹے سے کمرے میں حمزہ، اریبہ، عثمان اور فہد ان کے بستر کے گرد کھڑے تھے۔ کھڑکی سے شام کی سنہری روشنی اندر آ رہی تھی۔
"تیسرا نقشہ..." دادا ابو نے کمزور آواز میں کہا، "میناروں پر جو سایہ تھا... وہ نقشہ کسی غلط ہاتھ میں نہیں جانا چاہیے۔ میرے دادا — نواب صاحب — نے اسے امانت سمجھ کر سونپا تھا۔"
حمزہ نے نواب صاحب کی پرانی ڈائری کھولی۔ آخری صفحے پر کانپتے ہاتھوں سے لکھا ایک شعر تھا:
"تین دروازے کھل چکے، چوتھا ہے پنہاں ڈوبتے سورج کے سائے میں، چھپا ہے نشاں مینار کی چھاؤں جس پتھر پر رک جائے سمجھو وہیں دفن ہے، راز کا خزانہ"
اریبہ کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ "سمجھ گئی! سورج ڈوبتے وقت مینار کا سایہ جس پتھر پر پڑے گا — وہیں چوتھے دروازے کا سراغ ہوگا! نواب صاحب نے سائے کو نشانی بنایا تھا۔"
"مگر مینار پر تو وہ سایہ نما شخص تھا،" عثمان نے آہستہ سے کہا۔ "تیسرے نقشے والا۔ اگر اس نے ہمیں دیکھ لیا تو؟"
فہد نے کندھے اچکائے۔ "وہ جو بھی ہے، اسے نقشہ ہمیں دینا ہوگا۔ ورنہ..."
"ورنہ کیا؟" حمزہ نے پوچھا۔ "ملک صاحب تو پولیس کی حراست میں ہیں۔ تمہاری ریکارڈنگ کام کر گئی، فہد۔ تم نے صحیح فیصلہ کیا تھا۔"
فہد مسکرایا، مگر اس کی مسکراہٹ میں ایک اداسی تھی جو حمزہ نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ "کاش سب کچھ اتنا آسان ہوتا، حمزہ۔"
دادا ابو نے حمزہ کا ہاتھ تھاما۔ "جلدی واپس آنا۔ اور بیٹا... جو بھی ہو، ڈرنا مت۔ نواب صاحب کا خون تمہاری رگوں میں ہے — اور ان کا سب سے بڑا خزانہ ان کی ہمت تھی، سونا نہیں۔"
شام کو سورج ڈوبنے سے ایک گھنٹہ پہلے، چاروں پرانی حویلی پہنچے۔ صحن میں وہی پرانا کنواں تھا جس کا پانی برسوں پہلے سوکھ چکا تھا، اور اس کے پاس دو اونچے مینار کھڑے تھے — نواب صاحب نے اپنی حویلی کے ساتھ ایک چھوٹی سی مسجد بھی بنوائی تھی، جو اب ویران تھی۔
"مینار پر چڑھنا ہوگا،" اریبہ نے کہا۔ "سایہ وہیں سے دیکھنا ہوگا۔"
تنگ اور اندھیری سیڑھیاں چڑھتے ہوئے حمزہ کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ ہر قدم پر پرانے پتھر چرچراتے تھے۔ اوپر پہنچ کر جو منظر انہوں نے دیکھا، اس سے ان کی سانس رک گئی — ایک لڑکی، بالکل ان ہی کی عمر کی، مینار کی منڈیر سے ٹیک لگائے ڈوبتے سورج کو دیکھ رہی تھی۔ اس کے ہاتھ میں کپڑے کا ایک پرانا ٹکڑا تھا۔
"تم... تم ہو وہ سایہ؟" حمزہ نے حیرت سے پوچھا۔
لڑکی آہستہ سے مڑی۔ اس کی آنکھوں میں چوکسی تھی، ڈر نہیں۔ "میرا نام زارا ہے۔ اور یہ نقشہ تمہیں اتنی آسانی سے نہیں ملے گا۔"
"ہم چور نہیں ہیں!" عثمان نے جلدی سے کہا، ہاتھ اٹھا کر۔
"ہر چور یہی کہتا ہے،" زارا نے سرد لہجے میں جواب دیا۔ پھر اس نے حمزہ کی طرف غور سے دیکھا۔ "تم نواب صاحب کے پڑپوتے ہو، ہے نا؟ تمہارے دادا ابو نے تمہیں سب بتا دیا ہوگا... تو سنو، میرے دادا، رحیم خان، نواب صاحب کے سب سے وفادار ملازم تھے۔ مرتے وقت نواب صاحب نے انہیں یہ نقشہ سونپا تھا — امانت کے طور پر، حفاظت کے لیے۔ میرا خاندان تین نسلوں سے اس کی حفاظت کر رہا ہے۔"
حمزہ نے آہستہ سے سر ہلایا۔ "دادا ابو نے بتایا تھا کہ وقف کی دستاویز میں چار دروازوں کا ذکر ہے۔ یہ خزانہ کسی ایک کا نہیں — یہ غریبوں کے اسکول اور ہسپتال کے لیے وقف ہے۔"
زارا نے اسے دیر تک دیکھا، جیسے اس کے دل کی سچائی پرکھ رہی ہو۔ پھر بولی: "ایک شرط پر دوں گی۔ میرے دادا کہتے تھے — جو عقل سے کام نہ لے، وہ خزانے کا حقدار نہیں۔ یہ پہیلی بجھاؤ۔"
اس نے کپڑے کے ٹکڑے کے پچھلے حصے پر لکھی پہیلی پڑھی:
"میرے پاس شہر ہیں، مگر گھر نہیں، میرے پاس پہاڑ ہیں، مگر درخت نہیں، میرے پاس سمندر ہے، مگر پانی نہیں، بتاؤ میں کیا ہوں؟"
عثمان نے سر کھجایا۔ فہد گہری سوچ میں پڑ گیا۔ اریبہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی۔
"نقشہ!" اریبہ نے فوراً کہا۔ "جواب ہے — نقشہ!"
زارا کی آنکھوں میں پہلی بار گرمجوشی کی چمک آئی۔ "بالکل صحیح۔" اس نے کپڑے کا ٹکڑا حمزہ کے ہاتھ میں رکھ دیا۔ "سنبھال کر رکھنا۔ اور... شکریہ کہ تم نے پہیلی کا جواب عقل سے دیا، طاقت سے نہیں۔ میرے دادا خوش ہوتے۔"
اب تینوں ٹکڑے ان کے پاس تھے۔ اریبہ نے کانپتے ہاتھوں سے انہیں جوڑا — اور جیسے ہی تیسرا ٹکڑا اپنی جگہ بیٹھا، نقشے پر ایک نئی جگہ سیاہی کی طرح ابھرنے لگی: صحن کے پرانے کنویں کے عین نیچے ایک نشان۔
"چوتھا دروازہ کنویں کے اندر ہے!" حمزہ کی آواز جوش سے کانپ رہی تھی۔
وہ تیزی سے نیچے اترے۔ کنویں میں لوہے کی زنگ آلود سیڑھی لگی تھی۔ ایک ایک کر کے وہ نیچے اترے — اندھیرا گہرا ہوتا گیا، ہوا میں سیلن اور مٹی کی بو تھی، اور دیواروں پر سبز کائی چمک رہی تھی۔
نیچے ایک بھاری پتھر کا دروازہ تھا۔ اس پر چار خانے بنے تھے — تین میں نقشے کے تینوں ٹکڑوں کے نشان کندہ تھے، اور چوتھا خانہ خالی تھا۔
"چوتھا نشان کہاں سے لائیں؟" عثمان نے پریشانی سے پوچھا۔
اریبہ نے اپنی جیب سے نواب صاحب کی ڈائری نکالی اور اس کا وہ صفحہ کھولا جس پر نواب صاحب کی مہر لگی تھی۔ "یہ دیکھو! ڈائری کی مہر — اس کا ڈیزائن بالکل خالی خانے جیسا ہے!"
حمزہ نے کانپتے ہاتھوں سے مہر کو خالی خانے پر رکھا۔ ایک گہری "کلک" کی آواز آئی — اور بھاری پتھر کا دروازہ آہستہ آہستہ کھلنے لگا۔
اندر ایک چھوٹا سا کمرہ تھا۔ اور وہ... بالکل خالی تھا۔
صرف دھول، ایک خالی صندوق، اور فرش پر تازہ قدموں کے نشان جو ایک دیوار کی طرف جا کر غائب ہو جاتے تھے۔
"کوئی ہم سے پہلے یہاں آ چکا ہے،" فہد کی آواز کانپ رہی تھی۔
حمزہ کی نظر فرش پر پڑی ایک چھوٹی سی چیز پر پڑی — ایک کوٹ کا بٹن۔ اس نے جھک کر اٹھایا اور غور سے دیکھا... اور اس کا چہرہ ایک دم سفید پڑ گیا۔
یہ بٹن وہ پہچانتا تھا۔ یہ فہد کی جیکٹ کا بٹن تھا — وہی جیکٹ جو فہد آج پہنے ہوئے تھا، جس کا ایک بٹن ٹوٹا ہوا تھا۔
"فہد..." حمزہ نے آہستہ سے کہا، بٹن اس کی طرف بڑھاتے ہوئے، "یہ تمہاری جیکٹ کا بٹن یہاں کیا کر رہا ہے؟"
فہد کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ اس کے ہونٹ کانپنے لگے۔ "میں... میں قسم کھاتا ہوں، حمزہ! میں یہاں کبھی نہیں آیا! یہ... یہ ناممکن ہے!"
اور اسی لمحے، کنویں کے اوپر سے کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی — کوئی سیڑھی سے نیچے آ رہا تھا۔