قسط 2
جھیل کا راز
بلال کی چیخ نے پورا گھر ہلا کر رکھ دیا تھا۔
اس کی امی دوڑتی ہوئی آئیں — ان کے ہاتھ میں ناشتے کی پلیٹ تھی جو اب فرش پر گری تھی۔ اس کے ابو بھی آ گئے۔ چھوٹی بہن دروازے سے جھانک رہی تھی، اس کی آنکھوں میں خوف تھا۔
"کیا ہوا؟ کیا ہوا میرے بچے؟" امی نے بلال کو گلے لگایا۔
بلال کچھ نہیں بول سکا۔ وہ صرف اپنے گیلے پاؤں کو دیکھ رہا تھا، اور بستر سے دروازے تک گئے گیلے قدموں کے نشانوں کو۔ نیلے قطرے اب بھی دروازے کے پاس چمک رہے تھے — حالانکہ اب دن کی روشنی میں وہ مدھم تھے۔
"تمہارے پاؤں گیلے کیوں ہیں؟" ابو نے پوچھا۔ "تم باتھ روم گئے تھے؟"
"میں... مجھے یاد نہیں،" بلال نے کہا۔ اس کی آواز کانپ رہی تھی۔ "میں سو رہا تھا۔ پھر میں جاگا تو... یہ..."
امی نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔ "تمہیں بخار تو نہیں؟ تمہارا چہرہ پیلا پڑ گیا ہے۔"
"میں ٹھیک ہوں، امی۔" بلال نے جلدی سے کہا۔ "بس... برا خواب دیکھا تھا۔ میں منہ دھو کر آتا ہوں۔"
اس نے جلدی سے تولیے سے اپنے پاؤں پونچھے، فرش صاف کیا۔ نیلے قطرے اس نے اپنی انگلی سے اٹھائے اور انہیں غور سے دیکھا — وہ عام پانی جیسے نہیں تھے۔ وہ گاڑھے تھے، اور ان میں ایک ہلکی چمک تھی۔ اس نے انہیں ٹشو میں لپیٹ کر اپنی جیب میں رکھ لیا۔
ناشتے پر وہ خاموش تھا۔ اس کی امی بار بار اسے دیکھ رہی تھیں۔
"تم کل پہاڑوں پر گئے تھے نا؟" ابو نے پوچھا۔ "زیادہ تھک گئے ہو گے۔ آج آرام کرو۔"
بلال نے سر ہلایا۔ لیکن اس کے ذہن میں ایک ہی بات تھی — اسے زویار اور ماہم کو بتانا ہوگا۔ فوراً۔
جیسے ہی وہ اپنے کمرے میں اکیلا ہوا، اس نے فون اٹھایا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
"زویار..." اس کی آواز ٹوٹ رہی تھی۔ "تمہیں اور ماہم کو ابھی میرے گھر آنا ہوگا۔ ابھی۔"
"کیا ہوا؟" زویار کی آواز میں نیند تھی۔ "سب خیریت؟"
"نہیں۔ کچھ بھی خیریت نہیں ہے۔" بلال نے کہا۔ "وہ جھیل... وہ میرے خواب میں آئی تھی۔ اور جب میں جاگا تو... میرے پاؤں گیلے تھے، زویار۔ بستر سے دروازے تک گیلے نشان تھے۔ میں رات کو کہیں گیا تھا — اور مجھے یاد نہیں کہاں۔"
فون کے دوسری طرف خاموشی چھا گئی۔ پھر زویار کی سنجیدہ آواز آئی، "ہم آ رہے ہیں۔ ماہم کو میں بلا لیتا ہوں۔ تم کہیں مت جانا۔"
---
آدھے گھنٹے بعد تینوں بلال کے کمرے میں تھے۔ دروازہ بند تھا۔ بلال نے انہیں سب کچھ بتایا — خواب، پانی کی آواز، وہ خواہش والی بات۔ اور پھر اس نے ٹشو نکالا جس میں نیلے قطرے تھے۔
ماہم نے ٹشو کو غور سے دیکھا۔ اس نے اپنی نوٹ بک نکالی۔ "یہ وہی قطرے ہیں جو کل تمہاری انگلیوں پر تھے۔" اس نے کہا۔ "بلال، یہ عام پانی نہیں ہے۔"
"تو پھر کیا ہے؟" بلال نے پوچھا۔
"مجھے نہیں پتا۔" ماہم نے ایمانداری سے کہا۔ "لیکن میں پتا لگاؤں گی۔"
زویار کھڑکی کے پاس کھڑا تھا۔ اس کا چہرہ سنجیدہ تھا — وہ زویار نہیں تھا جو کل جوش میں تھا۔ "سنو،" اس نے کہا۔ "ہمیں اس جھیل کے بارے میں مزید جاننا ہوگا۔ دادا ابو نے مجھے صرف ایک کہانی سنائی تھی۔ لیکن اگر وہاں واقعی کچھ ہے تو... کسی اور کو بھی پتا ہوگا۔"
"کون؟" بلال نے پوچھا۔
"گاؤں والے۔" ماہم بولی۔ "پہاڑوں کے دامن میں جو گاؤں ہے — وہاں کے بوڑھے لوگ۔ ایسی کہانیاں نسلوں تک چلتی ہیں۔ میں آج ہی وہاں جاؤں گی۔"
"اکیلی نہیں،" زویار نے فوراً کہا۔ "ہم تینوں جائیں گے۔"
"نہیں۔" ماہم نے سر ہلایا۔ "بلال کو آرام کی ضرورت ہے۔ اور ویسے بھی، ایک لڑکی اگر اکیلی بوڑھوں سے کہانیاں پوچھے تو وہ زیادہ کھل کر بتاتے ہیں۔ یہ... یہ میرا تجربہ ہے۔"
بلال نے احتجاج کرنا چاہا، لیکن ماہم نے اسے روک دیا۔ "تمہیں آج آرام کرنا ہے۔ اور زویار — تم بلال کے ساتھ رہو گے۔ اگر... اگر رات کو پھر کچھ ہو تو کوئی اس کے ساتھ ہو۔"
زویار نے سر ہلایا۔ "ٹھیک ہے۔"
"اور بلال،" ماہم نے نرم لہجے میں کہا۔ "خواب میں پانی نے تم سے تمہاری 'ادھوری خواہش' کے بارے میں کہا تھا۔ کیا تم ہمیں بتاؤ گے کہ وہ کیا ہے؟"
بلال نے نظریں جھکا لیں۔ اس کے گال لال ہو گئے۔ "میں... میں نہیں جانتا کہ اس کا کیا مطلب تھا۔"
"بلال۔" ماہم نے اس کا ہاتھ تھاما۔ "ہم تمہارے دوست ہیں۔ تم ہم سے کچھ بھی کہہ سکتے ہو۔"
بلال نے کچھ دیر خاموشی اختیار کی۔ پھر آہستہ سے بولا، "تم دونوں ہمیشہ بہادر ہو۔ زویار — تم ہر چیز میں پہل کرتے ہو۔ ماہم — تم اتنی ذہین ہو کہ مجھے کبھی ڈر نہیں لگتا جب تم ساتھ ہو۔ اور میں..." اس کی آواز ٹوٹ گئی۔ "میں ہمیشہ وہ ہوں جو پیچھے رہتا ہے۔ جو ڈرتا ہے۔ جو مذاق بنتا ہے۔ میں چاہتا ہوں... میں چاہتا ہوں کہ ایک بار... صرف ایک بار... میں بھی بہادر بنوں۔ تم دونوں جیسا۔"
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
پھر زویار نے آگے بڑھ کر بلال کو گلے لگایا۔ "تم بہادر ہو، بلال۔ تم کل ہمارے ساتھ اس درے میں گئے تھے۔ تم نے پانی کو چھوا تھا — ہم میں سے کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی۔"
"وہ ہمت نہیں تھی،" بلال نے کہا۔ "وہ بے وقوفی تھی۔"
"شاید۔" زویار مسکرایا۔ "لیکن پھر بھی ہمت چاہیے تھی۔"
ماہم نے بھی بلال کا ہاتھ دبایا۔ "اور سنو — تمہاری یہ خواہش... یہی وہ چیز ہو سکتی ہے جسے جھیل نے محسوس کیا۔ خواب میں پانی نے کہا تھا نا — 'ادھوری خواہش'۔ ہمیں اس کا مطلب سمجھنا ہوگا۔"
---
دوپہر کو ماہم اکیلی گاؤں گئی۔
یہ گاؤں پہاڑی کے دامن میں تھا — چھوٹے چھوٹے گھر، تنگ گلیاں، اور ایک پرانی دکان جس پر لکھا تھا "کریم جنرل اسٹور"۔ دکان کے باہر ایک بوڑھا شخص چارپائی پر بیٹھا حقہ پی رہا تھا۔ اس کی داڑھی سفید تھی، اور اس کی آنکھوں میں وہ گہرائی تھی جو صرف عمر دیتی ہے۔
"السلام علیکم، چاچا،" ماہم نے کہا۔ "کیا میں آپ سے کچھ پوچھ سکتی ہوں؟"
بوڑھے نے اسے غور سے دیکھا۔ "وعلیکم السلام، بیٹی۔ پوچھو۔"
"میں... میں پہاڑوں کی پرانی کہانیوں کے بارے میں جاننا چاہتی ہوں۔ خاص طور پر... کسی نیلی جھیل کے بارے میں۔"
بوڑھے کا ہاتھ رک گیا۔ حقے کا دھواں ہوا میں ٹھہر گیا۔ اس کی آنکھوں میں ایک ایسی چمک آئی جو ماہم کو ٹھٹھرا گئی — خوف، حیرت، اور... پہچان۔
"نیلی جھیل؟" اس نے آہستہ سے کہا۔ "تمہیں اس کے بارے میں کس نے بتایا؟"
"میرے دوست کے دادا نے۔ انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے جوانی میں دیکھی تھی۔"
بوڑھا کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر اس نے چارپائی پر اپنی جگہ بنائی۔ "بیٹھو، بیٹی۔ یہ کہانی لمبی ہے۔"
ماہم بیٹھ گئی۔ اس نے اپنی نوٹ بک نکالی۔
"میرے دادا بتاتے تھے،" بوڑھے نے شروع کیا۔ "کہ سو سال پہلے، ان پہاڑوں کے پار ایک گاؤں تھا۔ خوشحال گاؤں۔ لوگ کھیتی باڑی کرتے تھے، مویشی پالتے تھے۔ پھر ایک رات... آسمان سے ایک تارا ٹوٹا۔"
"تارا؟" ماہم نے پوچھا۔
"ایسا لگا جیسے آسمان سے آگ گری ہو۔ پوری وادی روشن ہو گئی۔ لوگ ڈر گئے۔ صبح جب وہ دیکھنے گئے تو وہاں... ایک جھیل تھی۔ جہاں کل تک خشک زمین تھی، وہاں نیلا پانی تھا۔"
ماہم کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اس نے لکھنا جاری رکھا۔
"پہلے تو لوگ خوش ہوئے — پانی مل گیا۔ لیکن پھر عجیب چیزیں ہونے لگیں۔ جو اس پانی کو پیتا، وہ بدل جاتا۔ کوئی خاموش ہو جاتا، کوئی... غائب ہو جاتا۔ ایک رات، گاؤں کا سب سے بہادر نوجوان — نام تھا اس کا جاوید — اس نے کہا کہ وہ جھیل کے بیچ تک تیر کر جائے گا۔ وہ گیا... اور واپس نہیں آیا۔"
"پھر؟"
"پھر گاؤں والوں نے وہ جگہ چھوڑ دی۔ وہ نیچے اتر آئے — یہیں، اس گاؤں میں۔ اور انہوں نے قسم کھائی کہ وہ کبھی اس جھیل کا ذکر نہیں کریں گے۔ لیکن کہانیاں... کہانیاں دبائی نہیں جاتیں، بیٹی۔ وہ نسلوں تک چلتی ہیں۔"
"چاچا،" ماہم نے ہمت کر کے پوچھا۔ "کیا آپ کو پتا ہے کہ جھیل... لوگوں کو کیسے 'بدلتی' ہے؟"
بوڑھے نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ "میرے دادا کہتے تھے — جھیل ان لوگوں کو بلاتی ہے جن کے دل میں کوئی ادھوری خواہش ہو۔ کوئی ایسا خواب جو پورا نہ ہوا ہو۔ جھیل وعدہ کرتی ہے کہ وہ خواہش پوری کر دے گی۔ لیکن ہر چیز کی قیمت ہوتی ہے، بیٹی۔"
"کیسی قیمت؟"
"یہی تو کوئی نہیں جانتا۔" بوڑھے کی آواز دھیمی ہو گئی۔ "جو واپس آئے، وہ کبھی بتاتے نہیں۔ اور جو نہ آئیں... ان سے تو پوچھا ہی نہیں جا سکتا۔"
ماہم نے ایک اور سوال پوچھا۔ "کیا... کیا حال میں کوئی وہاں گیا ہے؟"
بوڑھا خاموش ہو گیا۔ اس نے حقہ ایک طرف رکھا۔ "تم یہ کیوں پوچھ رہی ہو، بیٹی؟"
"بس... تجسس ہے۔"
"تجسس اچھی چیز ہے۔" بوڑھے نے کہا۔ "لیکن پہاڑوں میں تجسس جان بھی لے سکتا ہے۔" اس نے ماہم کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ "میری بات سنو — اس جھیل سے دور رہو۔ چاہے تمہیں وہاں کچھ بھی نظر آئے، چاہے وہ تمہیں بلائے... مت جانا۔ وعدہ کرو۔"
ماہم نے بوڑھے کی آنکھوں میں دیکھا۔ وہ وعدہ کرنا چاہتی تھی۔ لیکن وہ جانتی تھی کہ وہ یہ وعدہ نہیں نبھا سکے گی — کیونکہ بلال پہلے ہی جھیل سے جڑ چکا تھا۔
"میں... میں کوشش کروں گی، چاچا،" اس نے کہا۔
بوڑھا سمجھ گیا۔ اس نے ایک لمبی سانس لی۔ "تو تم پہلے ہی وہاں جا چکی ہو۔" یہ سوال نہیں تھا۔
ماہم نے سر ہلایا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
"پھر اللہ تمہاری حفاظت کرے، بیٹی۔" بوڑھے نے کہا۔ "اور ایک بات یاد رکھو — جھیل جھوٹ نہیں بولتی۔ وہ تمہیں وہ دکھاتی ہے جو تم واقعی ہو۔ یہی اس کا سب سے بڑا خطرہ ہے۔"
---
شام کو ماہم نے زویار اور بلال کو سب کچھ بتایا۔ تینوں بلال کے کمرے میں تھے۔ باہر بارش شروع ہو گئی تھی — ہلکی، ٹھنڈی بارش۔
"سو سال پہلے... ایک تارا... ایک گاؤں غائب..." زویار نے دہرایا۔ "یہ تو کسی فلم کی کہانی لگتی ہے۔"
"لیکن ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، زویار،" ماہم نے کہا۔ "ہم نے وہ جھیل دیکھی ہے۔ ہم نے وہ... وہ چیزیں دیکھیں ہیں۔"
بلال خاموش تھا۔ وہ کھڑکی سے بارش کو دیکھ رہا تھا۔ "چاچا نے کہا — جھیل ان لوگوں کو بلاتی ہے جن کے دل میں ادھوری خواہش ہو۔" اس نے آہستہ سے کہا۔ "تو... اس نے مجھے کیوں بلایا؟"
"کیونکہ تم بہادر بننا چاہتے ہو،" ماہم نے نرم لہجے میں کہا۔ "اور اس میں کوئی برائی نہیں ہے، بلال۔ یہ ایک اچھی خواہش ہے۔"
"لیکن جھیل اسے استعمال کر رہی ہے،" زویار نے کہا۔ اس کا چہرہ سخت تھا۔ "وہ تمہیں لالچ دے رہی ہے۔ ہمیں اسے روکنا ہوگا۔"
"کیسے؟" بلال نے پوچھا۔
تینوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ کوئی جواب نہیں تھا۔
پھر ماہم بولی، "ہمیں واپس جانا ہوگا۔"
"کیا؟" بلال اور زویار نے ایک ساتھ کہا۔
"سنو،" ماہم نے کہا۔ اس کی آواز میں وہ مضبوطی تھی جو ہمیشہ اس وقت آتی تھی جب اس نے کوئی فیصلہ کر لیا ہو۔ "ہم ڈر کر نہیں بیٹھ سکتے۔ بلال کی حالت بگڑ رہی ہے — کل اس نے پانی چھوا، آج رات وہ نیند میں کہیں گیا۔ کل کیا ہوگا؟ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ یہ جھیل کیا ہے۔ اور اس کے لیے ہمیں واپس جانا ہوگا — تیاری کے ساتھ۔"
"کیسی تیاری؟" زویار نے پوچھا۔
"رسی۔ ٹارچ۔ فرسٹ ایڈ۔ میری نوٹ بک۔ اور..." ماہم نے رکا۔ "اور ایک دوسرے کا ساتھ۔ ہم تینوں جائیں گے۔ دن کی روشنی میں۔ اور ہم پانی کو نہیں چھوئیں گے۔ ہم صرف... دیکھیں گے۔ سمجھنے کی کوشش کریں گے۔"
بلال نے کچھ دیر سوچا۔ پھر اس نے سر ہلایا۔ "ٹھیک ہے۔ لیکن ایک شرط پر — اگر مجھے پھر وہ آواز سنائی دے تو تم دونوں مجھے وہاں سے کھینچ کر لے آؤ گے۔ چاہے مجھے اچھا لگے یا برا۔"
"وعدہ،" زویار اور ماہم نے ایک ساتھ کہا۔
---
اگلی صبح وہ پھر پہاڑی کے دامن میں تھے۔ اس بار ان کے بیگوں میں رسی، ٹارچیں، اور اضافی پانی تھا۔ ماہم نے ایک چھوٹی سی شیشی بھی رکھی تھی — "نمونے کے لیے،" اس نے کہا تھا۔ "اگر ہمیں نیلے قطرے ملیں تو۔"
سفر اس بار مختلف تھا۔ جنگل اب انہیں اجنبی نہیں لگتا تھا — بلکہ... منتظر لگتا تھا۔ جیسے درخت جانتے ہوں کہ وہ واپس آئے ہیں۔ پرندے اب بھی خاموش تھے۔
"تم نے محسوس کیا؟" ماہم نے سرگوشی کی۔ "کل بھی پرندے خاموش تھے۔"
"شاید یہاں پرندے نہیں آتے،" زویار نے کہا۔ لیکن اس کی آواز میں یقین نہیں تھا۔
وہ تین دیودار کے درختوں سے گزرے، پھٹی ہوئی چٹان سے گزرے، اور درے میں داخل ہوئے۔ اس بار درہ انہیں کم ڈراؤنا لگا — شاید اس لیے کہ وہ جانتے تھے کہ اس پار کیا ہے۔ یا شاید اس لیے کہ ڈر اب ان کے اندر بس گیا تھا۔
جب وہ درے سے باہر نکلے، تو جھیل وہیں تھی — ویسی ہی نیلی، ویسی ہی ساکن، ویسی ہی خاموش۔ لیکن آج دھند کم تھی۔ اور دن کی روشنی میں پانی کا رنگ... اور بھی گہرا لگ رہا تھا۔
"دیکھو،" ماہم نے سرگوشی کی۔ اس نے ایک طرف اشارہ کیا۔
جھیل کے دوسری طرف، کنارے پر... قدموں کے نشان تھے۔
تازہ قدموں کے نشان۔
"یہ ہمارے نہیں ہیں،" زویار نے کہا۔ اس نے نشانوں کو غور سے دیکھا۔ "دیکھو — یہ بڑے ہیں۔ کسی بڑے آدمی کے۔ اور یہ... یہ کل کے نہیں ہیں۔ یہ آج کے ہیں۔ مٹی اب بھی نم ہے۔"
تینوں کے دل زور زور سے دھڑکنے لگے۔
"یعنی... کوئی اور بھی یہاں آتا ہے؟" بلال کی آواز کانپ رہی تھی۔
"لگتا تو یہی ہے،" ماہم نے کہا۔ اس نے اپنی نوٹ بک نکالی اور نشانوں کی تصویر... نہیں، اس کے پاس کیمرہ نہیں تھا۔ اس نے خاکہ بنانا شروع کیا۔
پھر زویار کی نظر ایک چیز پر پڑی — ایک پتھر کے پاس پھنسا ہوا کپڑے کا ایک ٹکڑا۔ اس نے اسے اٹھایا۔ یہ ایک موٹے کپڑے کا ٹکڑا تھا، بھورے رنگ کا — جیسے کسی پرانی چادر کا۔ اور اس پر... ایک نشان بنا ہوا تھا۔ ایک گول دائرہ، جس کے اندر ایک لہر کی شکل تھی۔
"یہ کیا ہے؟" بلال نے پوچھا۔
"پتا نہیں،" زویار نے کہا۔ "لیکن یہ یہاں اتفاق سے نہیں آیا۔"
ماہم نے کپڑے کے ٹکڑے کو غور سے دیکھا۔ "یہ نشان... یہ جھیل کی لہروں جیسا ہے۔ جیسے کوئی اس جھیل کی پوجا کرتا ہو۔"
"پوجا؟" بلال نے کہا۔
"یا... حفاظت کرتا ہو،" ماہم نے سوچتے ہوئے کہا۔ "شاید کوئی اس جھیل کا رکھوالا ہے۔"
اسی لمحے، انہیں ایک آواز سنائی دی — پتھروں پر قدموں کی آہٹ۔
تینوں نے پلٹ کر دیکھا۔
درے کی طرف سے ایک بوڑھا شخص آ رہا تھا۔ اس کی کمر جھکی ہوئی تھی، اس کے ہاتھ میں ایک لاٹھی تھی، اور اس کے کندھے پر ایک بکری کی رسی تھی — جس کے دوسرے سرے پر کوئی بکری نہیں تھی۔ اس کے کپڑے پرانے تھے، لیکن صاف۔ اس کی داڑھی سفید تھی۔ اور اس کی آنکھیں... اس کی آنکھوں میں ہلکا سا نیلا پن تھا۔
تینوں جم گئے۔
بوڑھا ان کے پاس آیا۔ اس نے تینوں کو ایک ایک کر کے دیکھا۔ پھر اس کی نظریں بلال پر ٹھہر گئیں۔
"تم،" اس نے کہا۔ اس کی آواز گہری اور کھردری تھی۔ "تم نے پانی کو چھوا ہے۔"
بلال پیچھے ہٹا۔ "آپ... آپ کون ہیں؟"
"میں رحمت ہوں۔" بوڑھے نے کہا۔ "لوگ مجھے رحمت بابا کہتے ہیں۔ میں یہاں بکریاں چراتا تھا... کبھی۔" اس نے جھیل کی طرف دیکھا۔ "تم تینوں کو یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔"
"آپ کو کیسے پتا کہ ہم یہاں آئے تھے؟" زویار نے پوچھا۔ اس نے بہادری سے آگے بڑھنے کی کوشش کی۔
رحمت بابا ہنسا — ایک خشک، اداس ہنسی۔ "جھیل بتاتی ہے۔ وہ سب بتاتی ہے۔" اس نے بلال کی طرف دیکھا۔ "اس نے تمہارا نام لیا ہے، ہے نا؟"
بلال کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ "آپ کو کیسے..."
"کیونکہ میرے ساتھ بھی یہی ہوا تھا۔" رحمت بابا کی آواز دھیمی ہو گئی۔ "پچاس سال پہلے۔ میں بھی تمہاری عمر کا تھا۔ میں نے بھی پانی کو چھوا تھا۔"
تینوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔
"پھر کیا ہوا؟" ماہم نے پوچھا۔
رحمت بابا نے اپنی لاٹھی زمین پر ٹیک دی۔ "جھیل نے مجھے ایک خواہش پیش کی۔ میں نے... میں نے اسے قبول کر لیا۔" اس نے رک کر کہا۔ "اور اس نے میری خواہش پوری کی۔ لیکن اس نے مجھ سے کچھ لے بھی لیا۔"
"کیا لیا؟" زویار نے پوچھا۔
"میرا بھائی۔" رحمت بابا کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ "میری خواہش تھی کہ میں سب سے امیر بنوں۔ جھیل نے مجھے سونے کا ایک برتن دیا — جھیل کے نیچے سے۔ میں امیر بن گیا۔ لیکن اسی رات... میرا چھوٹا بھائی جھیل میں ڈوب گیا۔ وہ تیرنا جانتا تھا۔ لیکن جھیل نے اسے... لے لیا۔"
خاموشی چھا گئی۔ صرف ہوا کی سرسراہٹ تھی — جو اب چلنے لگی تھی۔
"جھیل قیمت لیتی ہے،" رحمت بابا نے کہا۔ "ہمیشہ۔ تم جو مانگو گے، وہ دے گی۔ لیکن وہ تم سے کچھ لے گی — کچھ ایسا جس کی تمہیں خبر بھی نہیں ہوگی کہ تم نے کھو دیا ہے، جب تک بہت دیر نہ ہو جائے۔"
"تو ہم کیا کریں؟" بلال نے پوچھا۔ اس کی آواز میں بے بسی تھی۔ "اس نے پہلے ہی مجھے چھو لیا ہے۔"
رحمت بابا نے بلال کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ "سنو، بیٹا۔ جھیل صرف انہیں بلاتی ہے جن کے دل میں کوئی ادھوری خواہش ہو۔ تمہاری خواہش کیا ہے؟"
بلال نے نظریں جھکا لیں۔ "میں... میں بہادر بننا چاہتا ہوں۔"
"بہادری اندر سے آتی ہے، بیٹا۔ پانی سے نہیں۔" رحمت بابا نے کہا۔ "جھیل تمہیں بہادر نہیں بنائے گی۔ وہ تمہیں صرف یہ دکھائے گی کہ تم بہادر ہو — اور اس دکھاوے کی قیمت تم چکاؤ گے۔"
"تو کیا ہم کبھی اس سے آزاد نہیں ہو سکتے؟" ماہم نے پوچھا۔
رحمت بابا نے جھیل کی طرف دیکھا۔ "ایک طریقہ ہے۔ لیکن وہ آسان نہیں ہے۔" اس نے تینوں کو دیکھا۔ "جھیل ایک آزمائش دیتی ہے۔ تین دلوں کی آزمائش۔ اگر تم تینوں اس میں کامیاب ہو گئے تو جھیل سو جائے گی — کم از کم تمہارے لیے۔ لیکن اگر ناکام ہوئے تو..."
"تو کیا؟" زویار نے پوچھا۔
رحمت بابا نے جواب نہیں دیا۔ اس نے صرف جھیل کی طرف دیکھا۔ اور تینوں نے دیکھا کہ اس کی آنکھوں میں وہی نیلا پن تھا جو بلال کی انگلیوں پر قطروں میں تھا۔
"مجھے جانا ہے،" رحمت بابا نے اچانک کہا۔ "یاد رکھو — پانی کو مت چھونا۔ اس کی باتوں پر یقین مت کرنا۔ اور اگر وہ تمہیں خواب میں بلائے تو... اپنی آنکھیں کھلی رکھنا۔"
"رکیں!" ماہم نے کہا۔ "یہ کپڑے کا ٹکڑا — یہ آپ کا ہے؟ اس پر یہ نشان کیا ہے؟"
رحمت بابا نے کپڑے کے ٹکڑے کو دیکھا۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سا تاثر آیا — حیرت اور خوف کا ملا جلا۔ "یہ... یہ میرا نہیں ہے۔" اس نے آہستہ سے کہا۔ "یہ نشان... یہ ان لوگوں کا ہے جو جھیل کی پوجا کرتے ہیں۔"
"کون لوگ؟" زویار نے پوچھا۔
"مجھے نہیں پتا۔" رحمت بابا کی آواز کانپ رہی تھی۔ "لیکن اگر وہ یہاں آ رہے ہیں تو... تو کچھ بڑا ہونے والا ہے۔" وہ مڑا اور درے کی طرف چل پڑا۔ جاتے جاتے اس نے پلٹ کر کہا، "اپنے دوست کا خیال رکھنا۔ جھیل اسے سب سے زیادہ چاہتی ہے۔"
وہ دھند میں غائب ہو گیا۔
تینوں کچھ دیر خاموش کھڑے رہے۔
"تو،" بلال نے آخر کار کہا۔ "ہم نے آج کیا سیکھا؟ ایک — جھیل قیمت لیتی ہے۔ دو — کوئی اس کی پوجا کرتا ہے۔ تین — رحمت بابا کی آنکھوں میں بھی نیلا پن ہے۔"
"اور چار،" ماہم نے کہا۔ اس کی نظریں پانی پر تھیں۔ "ہم اب بھی نہیں جانتے کہ یہ جھیل واقعی کیا ہے۔"
زویار نے کپڑے کے ٹکڑے کو اپنی جیب میں رکھا۔ "ہم پتا لگائیں گے۔"
لیکن اس سے پہلے کہ وہ مزید بات کرتے، ماہم نے ایک ایسی بات کہی جس نے تینوں کو ٹھٹھرا دیا:
"دیکھو — پانی میں۔"
تینوں نے پانی میں دیکھا۔
پانی ساکن تھا۔ اس میں ان کے عکس تھے۔ لیکن آج عکس... مختلف تھے۔
زویار کے عکس کے پیچھے ایک تخت تھا — پانی کا تخت۔ اور اس تخت پر... زویار خود بیٹھا تھا۔ اکیلا۔ اس کے چہرے پر فخر تھا، لیکن اس کی آنکھوں میں... تنہائی تھی۔
ماہم کے عکس کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی۔ کتاب کھلی تھی۔ اس کے صفحات خالی تھے۔ لیکن جیسے ہی ماہم نے دیکھا، صفحات پر الفاظ لکھنے لگے — خود بخود۔ وہ پڑھ نہیں پائی کہ کیا لکھا تھا۔
اور بلال کے عکس...
بلال کا عکس پانی میں ڈوب رہا تھا۔ اس کا چہرہ پانی کے نیچے تھا۔ لیکن وہ مسکرا رہا تھا۔
"یہ کیا ہے؟" بلال کی آواز کانپ رہی تھی۔
"جھیل ہمیں دکھا رہی ہے،" ماہم نے سرگوشی کی۔ اسے چاچا کریم کی بات یاد آئی — "جھیل جھوٹ نہیں بولتی۔ وہ تمہیں وہ دکھاتی ہے جو تم واقعی ہو۔"
"تو میں... ڈوب رہا ہوں؟" بلال نے پوچھا۔
"نہیں،" زویار نے کہا۔ لیکن اس کی آواز میں یقین نہیں تھا۔ "یہ صرف... یہ صرف عکس ہیں۔"
لیکن تینوں جانتے تھے کہ یہ صرف عکس نہیں تھے۔
---
واپسی پر وہ خاموش تھے۔ ہر ایک اپنے خیالوں میں گم تھا۔ زویار اپنے تخت کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ ماہم اپنی کتاب کے بارے میں۔ اور بلال... بلال اپنے ڈوبتے ہوئے عکس کے بارے میں۔
شام کو انہوں نے فیصلہ کیا کہ آج رات تینوں بلال کے گھر رہیں گے۔ اس کی امی نے خوشی سے اجازت دے دی — "دوستوں کی نیند والی پارٹی!" انہوں نے کہا تھا۔ انہیں کیا پتا تھا کہ یہ پارٹی نہیں، پہرہ تھا۔
رات کو انہوں نے منصوبہ بنایا — وہ باری باری جاگیں گے۔ ایک سوئے گا، دو جاگیں گے۔ اگر بلال اٹھے تو اسے روکیں گے۔
پہلی باری زویار اور ماہم کی تھی۔ بلال سو گیا — تھکن سے چور۔
رات کے بارہ بجے تک سب ٹھیک تھا۔ پھر ایک بجے... بلال ہلا۔
زویار نے فوراً ماہم کو اشارہ کیا۔ دونوں نے دیکھا — بلال اٹھ بیٹھا تھا۔ اس کی آنکھیں کھلی تھیں، لیکن وہ... خالی تھیں۔ وہ سو رہا تھا — آنکھیں کھلی رکھے سو رہا تھا۔
وہ اٹھا۔ اس نے اپنے جوتے پہنے۔ اور دروازے کی طرف بڑھنے لگا۔
"بلال؟" ماہم نے آہستہ سے کہا۔
بلال نے جواب نہیں دیا۔ وہ چلتا رہا — جیسے کوئی اسے کھینچ رہا ہو۔
زویار اور ماہم نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ پھر وہ بھی اٹھے اور اس کے پیچھے چل پڑے۔ انہوں نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی — وہ دیکھنا چاہتے تھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔
بلال گھر سے باہر نکلا۔ گلی میں سناٹا تھا۔ وہ پہاڑی کی طرف بڑھنے لگا — اسی راستے پر جو وہ دن میں آئے تھے۔
"ہمیں اسے روکنا چاہیے،" ماہم نے سرگوشی کی۔
"ابھی نہیں،" زویار نے کہا۔ "دیکھتے ہیں وہ کہاں جاتا ہے۔ ہم اس کے ساتھ ہیں۔"
وہ بلال کے پیچھے چلتے رہے — پہاڑی کے دامن تک، پھر پگڈنڈی پر، پھر جنگل میں۔ رات میں جنگل اور بھی ڈراؤنا تھا۔ درخت سائے کی طرح کھڑے تھے۔ چاندنی شاخوں سے چھن کر زمین پر عجیب شکلیں بنا رہی تھی۔
بلال رکا نہیں۔ وہ چلتا رہا — تین دیودار کے درختوں سے گزرا، پھٹی ہوئی چٹان سے گزرا، درے میں داخل ہوا۔
"یہ ناممکن ہے،" ماہم ہانپ رہی تھی۔ "وہ نیند میں ہے۔ وہ یہ راستہ کیسے جانتا ہے؟"
"جھیل اسے بلا رہی ہے،" زویار نے کہا۔ "وہی اسے راستہ دکھا رہی ہے۔"
جب وہ درے سے باہر نکلے، تو انہوں نے جو دیکھا وہ ان کی زندگی کا سب سے حیران کن منظر تھا۔
رات میں جھیل... چمک رہی تھی۔
پورا پانی نیلی روشنی سے چمک رہا تھا — اتنا روشن کہ آس پاس کے پہاڑ نیلے نظر آ رہے تھے۔ دھند بھی چمک رہی تھی۔ یہ ایسا لگ رہا تھا جیسے زمین پر آسمان اتر آیا ہو۔
اور بلال... بلال پانی کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اس کے پاؤں کنارے کے نیلے پتھروں پر تھے۔ ایک قدم اور... وہ پانی میں ہوگا۔
"بلال! رکو!" زویار چیخا۔
لیکن بلال نے سنا نہیں۔ یا سن کر بھی نہیں رکا۔
زویار اور ماہم دوڑے۔ انہوں نے بلال کو پکڑنے کی کوشش کی —
اور اسی لمحے پانی ہلا۔
پانی کی سطح سے ایک ہاتھ نکلا — پانی کا بنا ہوا ہاتھ، نیلا اور چمکتا ہوا۔ وہ بلال کی طرف بڑھا۔ اس کی انگلیاں کھلی تھیں — بلانے والی، خوش آمدید کہنے والی۔
"نہیں!" ماہم چیخی۔
زویار نے بلال کو پیچھے کھینچا — اتنے زور سے کہ تینوں زمین پر گر پڑے۔
پانی کا ہاتھ ایک لمحے کے لیے ہوا میں ٹھہرا رہا — جیسے حیران ہو۔ پھر وہ آہستہ آہستہ پانی میں واپس ڈوب گیا۔
جھیل کی چمک مدھم ہونے لگی۔
بلال کی آنکھیں بند ہو گئیں۔ وہ گہری نیند میں تھا — اب واقعی سو رہا تھا۔
زویار اور ماہم ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے، ان کے چہرے پسینے اور خوف سے بھیگے ہوئے تھے۔
"تم نے دیکھا؟" ماہم کی آواز کانپ رہی تھی۔ "تم نے وہ ہاتھ دیکھا؟"
زویار نے سر ہلایا۔ وہ بول نہیں سکا۔
انہوں نے بلال کو اٹھایا — وہ بھاری تھا، بے ہوش۔ انہوں نے اسے گھسیٹتے ہوئے درے تک پہنچایا۔
اور جب وہ درے میں داخل ہونے لگے، تو ماہم نے پیچھے مڑ کر ایک آخری نظر ڈالی۔
جھیل اب بھی ہلکی چمک رہی تھی۔ اور پانی کی سطح پر... لہریں تھیں۔ وہی نمونے والی لہریں — دائرے، حروف، شکلیں۔
جیسے پانی کچھ لکھ رہا ہو۔
جیسے پانی کہہ رہا ہو:
"اگلی بار... میں اسے لے جاؤں گی۔"