← Neeli Jheel ka Jadu · تمام اقساط

قسط 1

پہاڑوں کے پار نیلی جھیل

گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہوئے ابھی پورے دو ہفتے بھی نہیں گزرے تھے کہ زویار کے دماغ میں وہی پرانا کیڑا پھر سے کلبلانے لگا تھا — کوئی نئی مہم، کوئی ان دیکھا راستہ، کوئی ایسا راز جسے آج تک کسی نے نہ کھولا ہو۔

سولہ سالہ زویار ایسا ہی تھا۔ اس کے دوست کہتے تھے کہ اس کے پاؤں میں چیونٹیاں ہیں — وہ ایک جگہ ٹک کر نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ جبکہ سترہ سالہ ماہم اس کے بالکل برعکس تھی — کتابوں کی دیوانی، ہر چیز کو سوچ سمجھ کر کرنے والی۔ اور پندرہ سالہ بلال... بلال ان دونوں کے بیچ کا پل تھا۔ ہنسمکھ، وفادار، اور تھوڑا سا ڈرپوک — لیکن جب دوستوں کی بات آتی تو وہ اپنی ڈر کو جیب میں ڈال لیتا تھا۔

تینوں کی دوستی بچپن سے تھی۔ ایک ہی محلے میں پلے بڑھے تھے، ایک ہی اسکول میں پڑھتے تھے۔ اور ہر گرمیوں کی چھٹیوں میں زویار کوئی نہ کوئی منصوبہ بناتا تھا۔ کبھی پرانی کوٹھی کی سیر، کبھی رات کو چھت پر تارے گننا، کبھی نالے کے پار جنگل میں خیمہ لگانا۔

لیکن اس بار کا منصوبہ مختلف تھا۔ اس بار بات دادا ابو کی کہانی کی تھی۔

---

یہ کہانی زویار نے پہلی بار તب سنی تھی جب وہ دس سال کا تھا۔ سردیوں کی ایک رات، بجلی گئی ہوئی تھی، اور دادا ابو صحن میں انگیٹھی کے پاس بیٹھے تھے۔ زویار ان کی گود میں سر رکھے تھا۔

"دادا ابو، آپ نے کبھی کوئی جن دیکھا ہے؟" چھوٹے زویار نے پوچھا تھا۔

دادا ابو ہنسے تھے — وہ گہری، گرم ہنسی جو ان کے سینے سے نکلتی تھی۔ "جن نہیں دیکھا، بیٹا۔ لیکن ایک چیز دیکھی ہے جو جن سے کم حیران کن نہیں۔"

"کیا؟"

دادا ابو کی آنکھیں دور کہیں دیکھنے لگیں تھیں، جیسے وہ ساٹھ سال پیچھے چلے گئے ہوں۔ "جب میں تمہاری عمر سے تھوڑا بڑا تھا — شاید اٹھارہ انیس سال کا — تو میں اور میرا دوست رشید ان پہاڑوں میں شکار کے لیے گئے تھے۔ ہم راستہ بھٹک گئے۔ اور بھٹکتے بھٹکتے ہم ایک ایسی جگہ پہنچے جو کسی نقشے پر نہیں تھی۔"

"کیسی جگہ؟"

"ایک جھیل۔" دادا ابو کی آواز دھیمی ہو گئی تھی۔ "اتنی نیلی جھیل کہ میں نے اپنی زندگی میں ویسا رنگ کبھی نہیں دیکھا۔ پانی بالکل ساکن تھا، جیسے شیشہ۔ اور اس کے اوپر ہلکی دھند تیر رہی تھی۔"

"پھر؟"

"رشید نے اپنا ہاتھ پانی میں ڈالا۔" دادا ابو رکے تھے۔ انگیٹھی کی آگ ان کے چہرے پر ناچ رہی تھی۔ "میں نے اسے روکنے کی کوشش کی، لیکن دیر ہو چکی تھی۔ پانی نے... پانی نے اس کا نام لیا، زویار۔ میں نے اپنے کانوں سے سنا۔"

چھوٹے زویار کی آنکھیں پھیل گئی تھیں۔ "پانی بول سکتا ہے؟"

"وہ پانی بول سکتا تھا۔" دادا ابو نے کہا تھا۔ "اور اس دن کے بعد رشید بدل گیا۔ وہ پہلے جیسا نہیں رہا۔ وہ خاموش ہو گیا۔ اس کی آنکھوں میں... ایک نیلا پن آ گیا تھا۔ جیسے جھیل اس کے اندر اتر گئی ہو۔ کچھ مہینوں بعد وہ گاؤں چھوڑ کر چلا گیا۔ میں نے اسے پھر کبھی نہیں دیکھا۔"

"آپ نے دوبارہ وہ جھیل ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کی؟"

"کی تھی۔" دادا ابو نے سر ہلایا تھا۔ "کئی بار۔ لیکن وہ جگہ مجھے پھر کبھی نہیں ملی۔ جیسے وہ صرف ایک بار دکھائی دیتی ہے... یا جیسے وہ صرف انہیں دکھائی دیتی ہے جنہیں وہ بلانا چاہے۔"

یہ کہانی زویار کے ذہن میں نقش ہو گئی تھی۔ سالوں تک وہ اسے ایک دلچسپ کہانی سمجھتا رہا۔ لیکن اس گرمیوں میں، جب چھٹیوں کی بوریت حد سے بڑھ گئی، تو یہ کہانی ایک منصوبے میں بدل گئی۔

---

"سنو!" زویار نے ایک شام ماہم کے گھر کے صحن میں بیٹھے ہوئے کہا، جہاں تینوں دوست حسبِ معمول جمع تھے۔ "میں نے فیصلہ کر لیا ہے۔ ہم نیلی جھیل ڈھونڈنے جا رہے ہیں۔"

بلال نے اپنے چپس کے پیکٹ سے ایک چپس نکالتے ہوئے ہنسی دبائی۔ "کون سی نیلی جھیل؟ تمہارے دادا ابو والی افسانوی جھیل؟"

"وہ افسانہ نہیں ہے!" زویار نے احتجاج کیا۔ اس کی آنکھوں میں وہ چمک تھی جو ہمیشہ کسی بڑے منصوبے سے پہلے آتی تھی۔ "دادا ابو نے مجھے نشانیاں بتائی تھیں۔ میں نے سب لکھ لیا ہے۔"

ماہم، جو اب تک خاموشی سے اپنی کتاب کے صفحے پر نظریں جمائے تھی، اب سر اٹھا کر بولی۔ "نشانیاں؟ کیسی نشانیاں؟"

زویار نے اپنی جیب سے ایک مڑا تڑا کاغذ نکالا۔ "تین دیودار کے درخت جو ایک ساتھ اگے ہیں۔ پھر ایک چٹان جو بیچ سے پھٹی ہوئی ہے۔ اس کے بعد ایک تنگ درہ۔ اور درے کے اس پار..." اس نے ڈرامائی انداز میں توقف کیا، "...جھیل۔"

بلال نے چپس چباتے ہوئے کہا، "اور تمہارے دادا کے دوست کا کیا ہوا تھا؟ وہی جو پانی چھونے کے بعد 'بدل' گیا تھا؟"

زویار کا جوش ایک لمحے کے لیے ٹھٹھرا۔ پھر اس نے کندھے اچکائے۔ "دادا ابو بوڑھے ہو گئے تھے۔ شاید انہوں نے کہانی میں مرچ مصالحہ لگایا ہو۔"

"یا شاید نہیں لگایا ہو،" ماہم بولی۔ وہ سوچ میں پڑی تھی۔ "دیکھو، میں اس بات پر یقین نہیں کرتی کہ پانی بول سکتا ہے۔ لیکن... اگر وہاں واقعی کوئی انوکھی جھیل ہے جو کسی نقشے پر نہیں ہے، تو یہ ایک دریافت ہوگی۔ ایک حقیقی دریافت۔"

"تو تم ساتھ آ رہی ہو؟" زویار کی آنکھیں چمکیں۔

"میں نے یہ نہیں کہا۔" ماہم نے کتاب بند کی۔ "میں نے کہا کہ یہ دلچسپ ہوگا۔ لیکن ہمیں احتیاط کرنی ہوگی۔ ہم نشان زدہ راستے سے زیادہ دور نہیں جائیں گے۔ اور اگر کوئی خطرہ محسوس ہوا تو فوراً واپس آ جائیں گے۔"

"بالکل!" زویار نے جلدی سے کہا — اتنی جلدی کہ صاف پتا چل رہا تھا کہ یہ آدھا سچ تھا۔ "ہم صرف دیکھنے جائیں گے۔ پانی کو کوئی نہیں چھوئے گا۔"

بلال نے دونوں کو دیکھا، پھر ایک لمبی سانس لی۔ "میں کیوں ہمیشہ ہاں کہہ دیتا ہوں؟"

"کیونکہ تم ہمیں پسند کرتے ہو،" ماہم مسکرائی۔

"یا کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ تم دونوں میرے بغیر کسی مصیبت میں پھنس جاؤ گے،" بلال نے کہا۔ "اور ویسے بھی، اگر وہاں واقعی کوئی جادوئی جھیل ہے تو میں اسے اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہوں۔"

"تو پھر طے ہوا؟" زویار نے ہاتھ بڑھایا۔ "کل صبح چھ بجے۔ پہاڑی کے دامن میں۔ ہلکا سامان، پانی کی بوتلیں، کچھ کھانے کو۔"

تینوں نے ہاتھ ملائے۔ عہد ہو گیا۔

رات کو زویار کو نیند نہیں آئی۔ وہ بار بار نقشہ دیکھتا رہا — وہ کاغذ جس پر اس نے دادا ابو کی بتائی ہوئی نشانیاں لکھی تھیں۔ اس کے دل میں ایک عجیب سی بے چینی تھی۔ خوشی بھی تھی، ڈر بھی۔ دادا ابو کی آواز اس کے کانوں میں گونج رہی تھی: "جو اسے چھو لے... وہ بدل جاتا ہے۔"

"میں پانی کو نہیں چھوؤں گا،" اس نے خود سے کہا۔ "ہم صرف دیکھیں گے۔ بس دیکھیں گے۔"

لیکن دل کی گہرائی میں وہ جانتا تھا کہ کہانیاں اتنی آسان نہیں ہوتیں۔

---

اگلی صبح چھ بجے، جب شہر ابھی سویا ہوا تھا اور اذان کی آواز فضا میں گونج رہی تھی، تینوں دوست پہاڑی کے دامن میں جمع تھے۔ ہوا میں صبح کی ٹھنڈک تھی۔ پرندے ابھی ابھی جاگے تھے اور ان کی چہچہاہٹ درختوں میں گونج رہی تھی۔ مشرق میں آسمان نارنجی ہو رہا تھا۔

زویار نے اپنا بیگ کندھے پر ڈالا — اس میں نقشہ، رسی کا ایک ٹکڑا، ٹارچ، ایک چھوٹی سی فرسٹ ایڈ کٹ، اور امی کے بنائے ہوئے آلو کے پراٹھے تھے جو اب بھی ہلکے گرم تھے۔ ماہم کے بیگ میں پانی کی بوتلیں، ایک نوٹ بک، ایک قلم، اور وہ پرانی کتاب تھی جسے وہ ہر سفر پر ساتھ لے جاتی تھی — "پہاڑوں کی کہانیاں"۔ بلال کے بیگ میں... زیادہ تر کھانے کی چیزیں تھیں۔ بسکٹ، نمکو، سیب، کیلے، اور ایک بڑا سینڈوچ۔

"تم نے پورا باورچی خانہ اٹھا لیا ہے؟" زویار نے بلال کے پھولے ہوئے بیگ کو دیکھ کر پوچھا۔

"مہم پر بھوکا نہیں رہا جاتا،" بلال نے فلسفیانہ انداز میں جواب دیا۔ "یہ میرا اصول ہے۔ دنیا کی ہر بڑی مہم میں کھانا سب سے اہم ہوتا ہے۔"

"تمہارا اصول تمہاری کمر توڑ دے گا،" ماہم ہنسی۔ "چلو، دیر ہو رہی ہے۔"

راستہ شروع میں آسان تھا — چوڑا، صاف، اور جگہ جگہ لکڑی کے نشانات لگے ہوئے تھے جن پر فاصلے لکھے تھے۔ یہ وہ راستہ تھا جہاں سیاح آتے تھے، خاندان پکنک مناتے تھے، بچے دوڑتے پھرتے تھے۔ صبح کے وقت یہاں کچھ اور سیاح بھی تھے — ایک خاندان اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ، دو نوجوان لڑکے کیمرے لیے۔

تینوں نے ان سے مسکرا کر سلام کیا اور آگے بڑھ گئے۔ ایک گھنٹے کی چڑھائی کے بعد، جب وہ ایک موڑ پر پہنچے جہاں سے نشان زدہ راستہ دائیں طرف مڑتا تھا اور ایک چھوٹی سی چائے کی دکان تھی، زویار رک گیا۔

بائیں طرف ایک تنگ پگڈنڈی جنگل میں گھستی تھی۔ اس پر کوئی نشان نہیں تھا۔ گھاس اتنی اونچی تھی کہ لگتا تھا یہاں مہینوں سے کوئی نہیں آیا۔

"زویار..." ماہم نے خبردار کیا۔ "تم نے کہا تھا ہم نشان زدہ راستے پر رہیں گے۔"

"اور میں نے یہ بھی کہا تھا کہ ہم صرف دیکھنے جائیں گے،" زویار نے پگڈنڈی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ "دیکھو — تین دیودار کے درخت۔"

واقعی، پگڈنڈی کے شروع میں ہی تین دیودار کے درخت ایک ساتھ کھڑے تھے۔ ان کی شاخیں آپس میں ملی ہوئی تھیں، اور ان کے نیچے زمین پر سوئیوں کی موٹی تہہ تھی۔ یہ بالکل ویسی نشانی تھی جیسی دادا ابو نے بتائی تھی۔

تینوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ ماہم کے چہرے پر ہچکچاہٹ تھی۔ بلال کے چہرے پر خوف اور تجسس کی ملی جلی کیفیت۔ اور زویار کے چہرے پر... فتح۔

"صرف تھوڑا آگے،" زویار نے نرم لہجے میں کہا۔ "اگر کچھ عجیب لگا تو فوراً واپس۔ وعدہ۔"

ماہم نے کچھ دیر سوچا، پھر سر ہلایا۔ "ٹھیک ہے۔ لیکن میری ایک شرط ہے — ہم ایک دوسرے سے دور نہیں ہوں گے۔ تینوں ساتھ رہیں گے۔"

"منظور،" زویار اور بلال نے ایک ساتھ کہا۔

وہ پگڈنڈی پر چل پڑے۔ جتنا آگے بڑھتے گئے، جنگل اتنا ہی گھنا ہوتا گیا۔ دیودار کے درخت اتنے اونچے تھے کہ ان کی چوٹیاں نظر نہیں آتی تھیں۔ سورج کی روشنی چھن چھن کر زمین پر گرتی تھی، اور ہر قدم پر سوئیوں کی چرمراہٹ ہوتی تھی۔ ہوا میں دیودار کی تیز خوشبو اور گیلی مٹی کی مہک تھی۔

کہیں دور کوئی چشمہ بہہ رہا تھا۔ اس کی آواز پتھروں سے ٹکراتی ہوئی آتی تھی — چھن چھن، چھن چھن۔ ایک جگہ انہیں چشمہ پار کرنا پڑا۔ پانی اتنا صاف تھا کہ نیچے کے رنگ برنگے پتھر نظر آ رہے تھے۔ پانی ٹھنڈا تھا، برف جیسا۔ بلال نے پانی میں ہاتھ ڈالا اور فوراً نکال لیا۔

"اوہ! یہ تو برف ہے!" وہ چلایا۔

"پہاڑی چشمے ایسے ہی ہوتے ہیں،" ماہم نے کہا۔ اس نے اپنی نوٹ بک نکالی اور کچھ لکھا۔ "میں سب کچھ نوٹ کر رہی ہوں۔ اگر ہم واقعی کوئی نئی جگہ دریافت کریں تو ہمیں ثبوت چاہیے ہوگا۔"

"تم ہمیشہ اتنی... منظم کیوں ہوتی ہو؟" بلال نے پوچھا۔

"کیونکہ کوئی تو ہو جو سوچے،" ماہم نے مسکرا کر جواب دیا۔ "ورنہ تم دونوں تو بس... چل پڑتے ہو۔"

دوپہر کے قریب انہوں نے ایک کھلی جگہ پر آرام کیا۔ زویار کی امی کے پراٹھے اب ٹھنڈے ہو گئے تھے، لیکن پھر بھی مزیدار تھے۔ بلال نے اپنا سینڈوچ نکالا — اتنا بڑا کہ تینوں کی آنکھیں پھیل گئیں۔

"یہ سینڈوچ ہے یا تکیہ؟" زویار نے پوچھا۔

"یہ میری بقا کی ضمانت ہے،" بلال نے ایک بڑا لقمہ لیتے ہوئے کہا۔

کھانے کے دوران ماہم نے اپنی کتاب کھولی۔ "سنو، میں نے اس کتاب میں پڑھا تھا کہ ہمارے ان پہاڑوں میں کئی ایسی جھیلیں ہیں جو نقشوں پر نہیں ہیں۔ گلیشیئر پگھلتے ہیں، نئی جھیلیں بنتی ہیں۔ تو یہ ممکن ہے کہ تمہارے دادا ابو نے واقعی کوئی ایسی جھیل دیکھی ہو۔"

"لیکن اتنی نیلی؟" بلال نے پوچھا۔ "پانی اتنا نیلا کیسے ہو سکتا ہے؟"

"معدنیات کی وجہ سے ہو سکتا ہے،" ماہم نے کہا۔ "کچھ جھیلوں میں تانبے کے ذرات ہوتے ہیں جو پانی کو نیلا کرتے ہیں۔ یہ سائنس ہے، جادو نہیں۔"

زویار نے کچھ نہیں کہا۔ وہ جانتا تھا کہ ماہم سائنس پر یقین رکھتی ہے۔ لیکن اس کے دل میں دادا ابو کی آواز تھی — "پانی نے اس کا نام لیا۔"

کھانے کے بعد وہ پھر چل پڑے۔ اب چڑھائی مشکل ہوتی جا رہی تھی۔ ان کی سانسیں پھولنے لگیں۔ بلال کا بھاری بیگ اب اسے کوس رہا تھا۔

"میں... میں تھوڑا... آرام..." بلال ہانپ رہا تھا۔

"بس تھوڑا اور،" زویار نے اسے حوصلہ دیا۔ "دادا ابو نے کہا تھا — چٹان کے بعد درہ ہے۔"

اور واقعی، کچھ دیر بعد انہیں وہ چٹان ملی۔ ایک دیوہیکل چٹان، بیچ سے بالکل دو حصوں میں پھٹی ہوئی — جیسے کسی دیو نے تلوار سے کاٹا ہو۔ دراڑ اتنی چوڑی تھی کہ ایک شخص آسانی سے گزر سکتا تھا۔ چٹان کے اس پار... دھند تھی۔ سفید، گھنی دھند۔

تینوں چٹان کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ ان کے دل زور زور سے دھڑک رہے تھے۔ یہ وہ لمحہ تھا — آگے بڑھیں یا واپس جائیں۔

"اب بھی وقت ہے،" ماہم نے آہستہ سے کہا۔ "ہم واپس جا سکتے ہیں۔ کسی کو کچھ پتا نہیں چلے گا۔"

زویار نے دھند کی طرف دیکھا۔ "اور اگر ہم واپس گئے تو ہمیشہ سوچتے رہیں گے کہ اس پار کیا تھا۔"

بلال نے ایک لمبی سانس لی۔ "تم دونوں جہاں جاؤ گے، میں وہیں آؤں گا۔ یہی دوستی ہے نا؟"

ماہم نے مسکرا کر بلال کا ہاتھ تھاما۔ "ٹھیک ہے۔ لیکن یاد رکھو — ایک دوسرے سے دور نہیں ہوں گے۔"

وہ ایک ایک کر کے دراڑ میں داخل ہوئے۔ اندر ٹھنڈ تھی، اور دیواریں نم تھیں۔ اوپر سے پانی کی بوندیں ٹپک رہی تھیں۔ تقریباً بیس منٹ کی مشکل چڑھائی کے بعد، جب ان کی ٹانگیں کانپنے لگیں تھیں اور بلال بڑبڑا رہا تھا کہ اس کا سینڈوچ ضائع ہو گیا، اچانک... روشنی۔

وہ درے سے باہر نکلے — اور دنیا بدل گئی۔

ان کے سامنے ایک وادی تھی — چھوٹی، گول، چاروں طرف اونچے پہاڑوں سے گھری ہوئی۔ اور وادی کے بالکل بیچ میں... جھیل۔

لیکن یہ کوئی عام جھیل نہیں تھی۔

اس کا پانی اتنا نیلا تھا کہ دیکھنے والے کی آنکھیں چندھیا جائیں۔ یہ وہ نیلا رنگ نہیں تھا جو آسمان یا سمندر میں ہوتا ہے — یہ گہرا، روشن، تقریباً چمکتا ہوا نیلا تھا، جیسے پانی کے نیچے کوئی روشنی جل رہی ہو۔ جھیل بالکل گول تھی — اتنی کامل گول کہ لگتا تھا کسی نے پرکار سے کھینچی ہو۔ کنارے سے لے کر بیچ تک رنگ ایک جیسا تھا، کوئی اتار چڑھاؤ نہیں۔

اس کے اوپر ہلکی دھند تیر رہی تھی، سفید دھند نیلے پانی پر — ایسا منظر جو خواب میں بھی نہ دیکھا ہو۔ اور سب سے عجیب بات: مکمل خاموشی تھی۔ کوئی پرندہ نہیں چہچہا رہا تھا۔ کوئی کیڑا نہیں بول رہا تھا۔ ہوا بھی نہیں چل رہی تھی۔ ایسی خاموشی جو کانوں میں بجتی ہے، جو سینے پر بوجھ ڈالتی ہے۔

"یا اللہ..." بلال کی آواز کانپ رہی تھی۔ اس کا سینڈوچ والا بیگ اس کے کندھے سے پھسل گیا۔ "یہ... یہ حقیقی ہے؟ میں خواب تو نہیں دیکھ رہا؟"

ماہم نے اپنی نوٹ بک نکالی، لیکن اس کے ہاتھ اتنے کانپ رہے تھے کہ قلم پکڑنا مشکل تھا۔ "یہ ناممکن ہے۔" اس کی آواز میں سائنسدان کی حیرت تھی۔ "اتنی کامل گول... اتنا یکساں نیلا رنگ... قدرتی جھیلیں ایسی نہیں ہوتیں۔ قدرتی چیزوں میں خامیاں ہوتی ہیں۔ اس میں کوئی خامی نہیں ہے۔"

زویار کچھ نہیں بولا۔ وہ صرف دیکھتا رہا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے — خوشی کے، حیرت کے، فتح کے۔ "دادا ابو..." اس نے سرگوشی کی۔ "آپ سچ کہتے تھے۔"

وہ آہستہ آہستہ جھیل کی طرف بڑھے، جیسے وہ کسی مقدس جگہ کی طرف بڑھ رہے ہوں۔ جتنا قریب جاتے، اتنا ہی پانی کا نیلا رنگ گہرا ہوتا جاتا — یا شاید یہ ان کی آنکھوں کا دھوکہ تھا۔ کنارے پر ریت نہیں تھی۔ اس کی جگہ چھوٹے چھوٹے ہموار پتھر تھے، سب نیلے — ہلکے نیلے سے لے کر گہرے نیلے تک۔ زویار نے جھک کر ایک پتھر اٹھایا۔

وہ گرم تھا۔

دھوپ کی وجہ سے نہیں — اس وقت دھند کی وجہ سے دھوپ براہ راست نہیں پڑ رہی تھی۔ بلکہ اندر سے گرم، جیسے اس پتھر میں کوئی دھڑکن ہو، کوئی زندگی ہو۔ زویار نے اسے جلدی سے رکھ دیا۔

"پتھر گرم ہیں،" اس نے کہا۔ اس کی آواز عجیب لگ رہی تھی۔

"یہ کیسے ممکن ہے؟" ماہم نے بھی ایک پتھر اٹھایا۔ اس نے فوراً رکھ دیا۔ "یہ... یہ واقعی گرم ہے۔"

بلال نے کچھ نہیں اٹھایا۔ وہ صرف پانی کو دیکھ رہا تھا۔ پانی بالکل ساکن تھا — آئینے کی طرح ساکن۔ اس میں تینوں کے چہرے نظر آ رہے تھے، اتنے صاف اور واضح کہ لگتا تھا پانی کے نیچے ایک دوسری دنیا ہے جہاں ان کے عکس رہتے ہیں۔

"پانی کو چھو کر دیکھیں؟" ماہم نے کہا۔ اس کی سائنسی تجسس اس کے خوف پر حاوی ہو رہا تھا۔ "دیکھتے ہیں کہ ٹھنڈا ہے یا گرم۔ صرف ایک انگلی۔"

زویار نے ہاتھ بڑھایا — لیکن بلال نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ بلال کی گرفت اتنی مضبوط تھی کہ زویار کو درد ہوا۔

"رکو!" بلال کی آنکھوں میں خوف تھا — اصلی، گہرا خوف۔ "تمہارے دادا نے کیا کہا تھا؟ 'جو اسے چھو لے، وہ بدل جاتا ہے۔'"

"یہ صرف کہانی ہے، بلال،" زویار نے کہا، لیکن اس نے ہاتھ روک لیا تھا۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز تھی۔

"کہانیاں کہیں نہ کہیں سے تو آتی ہیں،" ماہم بولی۔ اس نے اپنی نوٹ بک میں کچھ تیزی سے لکھا۔ "پہلے ہم مشاہدہ کرتے ہیں۔ سائنسی طریقہ — پہلے دیکھو، پھر سوچو، پھر عمل کرو۔ جلدی کس بات کی ہے؟"

تینوں کنارے پر بیٹھ گئے۔ زویار نے پراٹھے نکالے — حالانکہ اب کسی کو بھوک نہیں تھی۔ انہوں نے بے دلی سے کھایا، ان کی نظریں پانی پر جمی تھیں۔

ماہم نے مشاہدے شروع کیے۔ "پانی میں کوئی مچھلی نہیں ہے۔ کوئی کیڑا نہیں ہے۔ کنارے پر کوئی پودا نہیں اگ رہا — دیکھو، جہاں پانی ختم ہوتا ہے، وہاں سے ایک فٹ دور تک کوئی گھاس نہیں ہے۔ جیسے زمین پانی سے ڈرتی ہو۔"

"اور یہ دھند..." زویار نے کہا۔ "دھند صرف پانی کے اوپر ہے۔ کنارے سے باہر نہیں آتی۔"

بلال خاموش تھا۔ وہ اپنے گھٹنوں کو سینے سے لگائے بیٹھا تھا، اس کی نظریں پانی میں اپنے عکس پر تھیں۔ اس کا عکس اسے دیکھ رہا تھا۔

پھر وہ ہوا — وہ لمحہ جس نے سب کچھ بدل دیا۔

شاید تجسس تھا۔ شاید بلال ثابت کرنا چاہتا تھا کہ وہ ڈرپوک نہیں ہے — کہ وہ بھی بہادر ہو سکتا ہے۔ یا شاید... پانی نے اسے بلایا تھا۔ بعد میں، جب وہ یہ بات بتائے گا، تو اس کی آنکھوں میں آنسو ہوں گے۔ "مجھے لگا جیسے کوئی میرا نام پکار رہا ہو۔ پانی میں سے۔ میرا اپنا نام۔ میں روک نہیں پایا۔"

اس نے آہستہ سے اپنا ہاتھ بڑھایا — اور اپنی انگلیاں پانی میں ڈبو دیں۔

پانی گرم تھا۔ نہانے کے پانی جتنا گرم — حالانکہ پہاڑی ہوا ٹھنڈی تھی اور ان کے جسموں پر پسینہ خشک ہو کر ٹھنڈا ہو گیا تھا۔ یہ گرمائش غیر فطری تھی۔

اور جیسے ہی اس کی انگلیاں پانی میں گئیں، لہریں پھیلنے لگیں۔

لیکن یہ عام لہریں نہیں تھیں۔ عام لہریں دائروں میں پھیلتی ہیں — سادہ، بے ترتیب۔ یہ لہریں... نمونوں میں پھیل رہی تھیں۔ پہلے دائرے، پھر ان دائروں کے اندر چھوٹے دائرے، پھر ایسی شکلیں جو کسی قدیم زبان کے حروف جیسی لگتی تھیں۔ ایسا لگتا تھا جیسے پانی کچھ لکھ رہا ہو۔

"بلال! ہاتھ نکالو!" ماہم چیخی۔ اس کی نوٹ بک اس کے ہاتھ سے گر گئی۔

لیکن بلال ہل نہیں رہا تھا۔ اس کی نظریں پانی میں اپنے عکس پر جمی تھیں — اور اس کا چہرہ سفید پڑ گیا تھا۔

کیونکہ اس کا عکس... مسکرا رہا تھا۔

بلال مسکرا نہیں رہا تھا۔ اس کا چہرہ خوف سے پتھرایا ہوا تھا، اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔ لیکن پانی میں اس کا چہرہ مسکرا رہا تھا — ایک پرسکون، جاننے والی، تقریباً... خوش آمدید کہنے والی مسکراہٹ۔

اور پھر عکس نے اپنے ہونٹ ہلائے۔

اور بلال نے اپنے کانوں میں ایک سرگوشی سنی۔ اتنی ہلکی کہ شاید وہم ہو — لیکن اتنی صاف کہ انکار ناممکن تھا۔ ایک نرم، گہری آواز — نہ مرد کی، نہ عورت کی — جو پانی کے نیچے سے آتی محسوس ہوتی تھی:

"بلال... تم آ گئے... میں تمہارا انتظار کر رہی تھی..."

بلال نے چیخ ماری — ایک ایسی چیخ جو وادی میں گونجی اور دھند میں کھو گئی۔ اس نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور پیچھے گرا۔ اس کا ہاتھ بری طرح کانپ رہا تھا۔ اس کی انگلیوں پر پانی کے قطرے تھے — اور وہ قطرے نیلے تھے۔ گہرے، چمکتے ہوئے نیلے۔ عام پانی کے قطرے شفاف ہوتے ہیں۔ یہ چمک رہے تھے، جیسے ان میں چھوٹی چھوٹی روشنیاں ہوں۔

"تم نے سنا؟" بلال ہانپ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ "تم نے سنا؟ اس نے میرا نام لیا؟"

زویار اور ماہم نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ انہوں نے کچھ نہیں سنا تھا۔ صرف وہی غیر فطری خاموشی تھی۔

"بلال، شاید تم نے..." ماہم نے نرم لہجے میں شروع کیا۔ وہ اس کے پاس بیٹھ گئی۔

"میں نے سنا!" بلال چیخا۔ اس کی آواز ٹوٹ رہی تھی۔ "اس نے کہا 'تم آ گئے' — جیسے وہ میرا انتظار کر رہی تھی! اور میرا عکس... میرا عکس مسکرا رہا تھا! میں نہیں مسکرا رہا تھا!"

زویار نے بلال کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ اس کا اپنا ہاتھ بھی کانپ رہا تھا۔ "ٹھیک ہے۔ ہم مانتے ہیں۔ اب ہم یہاں سے چلتے ہیں۔ فوراً۔"

لیکن جب وہ اٹھنے لگے، ماہم نے پانی کی طرف ایک آخری نظر ڈالی — صرف ایک نظر، یہ دیکھنے کے لیے کہ لہریں رک گئی ہیں یا نہیں۔

اور اس کا دل رک سا گیا۔

پانی میں اب تین عکس نہیں تھے۔

چار تھے۔

چوتھا عکس ان کے ٹھیک پیچھے تھا — ایک لمبا، دھندلا سایہ، جس کا چہرہ واضح نہیں تھا۔ وہ ان تینوں سے اونچا تھا۔ اس کے کندھے چوڑے تھے۔ اور وہ... ان کی طرف دیکھ رہا تھا۔

ماہم کا حلق خشک ہو گیا۔ اس نے آہستہ سے کہا، "پیچھے... ہمارے پیچھے کوئی ہے۔"

تینوں نے ایک ساتھ پلٹ کر دیکھا۔

پیچھے کوئی نہیں تھا۔

صرف پہاڑ تھے، درخت تھے، اور دھند تھی۔ کوئی انسان، کوئی جانور، کوئی سایہ نہیں۔

ماہم نے کانپتے ہوئے دوبارہ پانی میں دیکھا۔

چوتھا عکس غائب تھا۔ صرف تینوں کے چہرے تھے — پیلے، خوفزدہ، آنکھیں پھیلی ہوئی۔

"چلو،" ماہم کی آواز اتنی کانپ رہی تھی کہ وہ خود اسے پہچان نہیں پائی۔ "ابھی۔ اسی وقت۔ یہاں سے چلو۔"

کسی نے بحث نہیں کی۔

انہوں نے اپنا سامان جلدی جلدی سمیٹا۔ زویار نے نقشہ جیب میں ڈالا۔ ماہم نے اپنی نوٹ بک اٹھائی — اس کا ہاتھ اتنا کانپ رہا تھا کہ وہ اسے بیگ میں ڈالنے میں ناکام رہی، تو اس نے اسے ویسے ہی ہاتھ میں پکڑ لیا۔ بلال نے اپنا بیگ اٹھایا۔ اس کی انگلیوں پر اب بھی نیلے قطرے تھے — وہ خشک نہیں ہو رہے تھے۔

واپسی کا سفر ایک ڈراؤنے خواب جیسا تھا۔

وہ درے سے گزرے — اب وہ پہلے سے زیادہ تنگ اور تاریک لگ رہا تھا۔ پھر چٹان، پھر جنگل۔ لیکن اب جنگل مختلف لگ رہا تھا۔ پرندے اب بھی نہیں چہچہا رہے تھے۔ وہ خاموشی جو جھیل کے پاس تھی، اب ان کے ساتھ چل رہی تھی — جیسے وہ اسے اپنے ساتھ لے آئے ہوں۔

کوئی نہیں بولا۔ بلال سب سے آگے چل رہا تھا، تیز تیز قدموں سے، جیسے وہ اس جگہ سے جتنا دور ہو سکے بھاگنا چاہتا ہو۔ اس کے پیچھے ماہم تھی، اور سب سے پیچھے زویار — بار بار پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوا۔

"تم نے واقعی کچھ دیکھا تھا؟" زویار نے آخر کار خاموشی توڑی۔ اس کی آواز دھیمی تھی۔ "پانی میں؟"

ماہم نے کچھ دیر جواب نہیں دیا۔ صرف اس کے قدموں کی آہٹ تھی۔ پھر وہ بولی، "میں... مجھے نہیں پتا، زویار۔ شاید میرا وہم تھا۔ تھکن، ڈر... دماغ ایسی حالت میں چیزیں بنا لیتا ہے۔"

"کیا دیکھا تھا؟" زویار نے اصرار کیا۔

ماہم رک گئی۔ اس نے زویار کی آنکھوں میں دیکھا۔ "ایک چوتھا عکس۔ ہمارے پیچھے کوئی کھڑا تھا۔ لمبا۔ دھندلا۔"

زویار کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ "تم مذاق کر رہی ہو۔"

"کاش کر رہی ہوتی۔" ماہم کی آواز میں آنسو تھے۔ "زویار، مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ مجھے واقعی ڈر لگ رہا ہے۔"

زویار نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ "ہم گھر جا رہے ہیں۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔"

لیکن وہ خود بھی یقین نہیں رکھتا تھا۔

شام کو جب وہ پہاڑی کے دامن میں پہنچے، تو سورج ڈوب رہا تھا۔ آسمان لال اور نارنجی تھا۔ عام دنوں میں یہ منظر خوبصورت لگتا — آج یہ انہیں اجنبی لگا۔

"سنو،" زویار نے کہا جب وہ الگ ہونے لگے۔ "یہ بات ہم تینوں کے بیچ رہے گی۔ کسی کو نہیں بتائیں گے — نہ امی ابو کو، نہ کسی اور کو۔"

"کیوں؟" بلال نے پوچھا۔ اس کی آواز اب بھی کانپ رہی تھی۔

"کیونکہ کون یقین کرے گا؟" زویار نے کہا۔ "اور اگر کوئی یقین کر بھی لے تو... وہاں بھیڑ لگ جائے گی۔ سیاح، سائنسدان... وہ جگہ... وہ خاص ہے۔ ہمیں اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔"

ماہم نے سر ہلایا۔ "اور ہمیں خود بھی سمجھنا ہے کہ وہاں ہوا کیا تھا۔ بغیر سمجھے کسی کو بتانے کا کوئی فائدہ نہیں۔"

"کل ملتے ہیں؟" زویار نے پوچھا۔ "میرے گھر؟ ہم بات کریں گے۔"

"ہاں،" ماہم نے کہا۔

بلال نے صرف سر ہلایا۔ وہ اب بھی اپنے ہاتھ کو دیکھ رہا تھا۔ نیلے قطرے اب بھی تھے — مدھم، لیکن موجود۔

"بلال،" زویار نے نرم لہجے میں کہا۔ "تم ٹھیک ہو؟"

بلال نے سر اٹھایا۔ اس کی آنکھوں میں وہی خوف تھا جو جھیل کے کنارے تھا۔ "زویار... جب میں نے پانی کو چھوا... مجھے لگا جیسے... جیسے پانی نے مجھے پہچان لیا ہو۔ جیسے وہ مجھے جانتی ہو۔"

"تم تھکے ہوئے ہو،" زویار نے کہا۔ لیکن اس کی آواز میں یقین نہیں تھا۔ "گھر جاؤ۔ سو جاؤ۔ کل سب بہتر لگے گا۔"

تینوں اپنے اپنے گھروں کو چل دیے۔

---

رات کو بلال کو نیند نہیں آئی۔

وہ بستر پر لیٹا چھت کو دیکھتا رہا۔ جب بھی آنکھیں بند کرتا، وہی نیلا پانی نظر آتا — چمکتا ہوا، بلاتا ہوا۔ وہی سرگوشی اس کے کانوں میں گونجتی: "بلال... تم آ گئے..."

وہ اٹھا۔ اس نے پانی پیا۔ اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا — گلی خاموش تھی، صرف اسٹریٹ لائٹ کی پیلی روشنی تھی۔ سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔

وہ دوبارہ لیٹ گیا۔ اس نے خود سے کہا — "یہ صرف تھکن ہے۔ دماغ تھکن میں عجیب چیزیں سوچتا ہے۔ ماہم نے کہا تھا۔"

آخر کار، رات کے دو بجے کے قریب، تھکن نے اسے گھیر لیا اور وہ سو گیا۔

اور پھر خواب آیا۔

خواب میں وہ پھر جھیل کے کنارے تھا۔ لیکن اب رات تھی — گہری، تاریک رات۔ آسمان میں چاند تھا، پورا چاند، اور اس کا عکس پانی میں تیر رہا تھا۔ پانی چمک رہا تھا — رات میں بھی، چاندنی سے زیادہ روشن۔

اور پانی سے آواز آئی۔ وہی نرم، گہری آواز:

"بلال... تمہارے دل میں ایک خواہش ہے... ایک ادھوری خواہش... جسے تم نے کبھی کسی کو نہیں بتایا..."

خواب میں بلال نے پوچھا، "تم کون ہو؟"

پانی نے جواب دیا، "میں وہ ہوں جو تم بننا چاہتے ہو۔ میں وہ ہوں جو تمہارے ڈر کو ختم کر سکتی ہوں۔ آؤ... میرے پاس آؤ..."

"میں... میں نہیں آ سکتا،" خواب میں بلال نے کہا۔ "مجھے ڈر لگتا ہے۔"

"ڈر ہی تو تمہاری قید ہے، بلال۔" پانی کی آواز میں ہمدردی تھی۔ "تم بہادر بننا چاہتے ہو — زویار جیسا بہادر۔ تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہیں سنجیدہ لیں۔ میں تمہیں یہ سب دے سکتی ہوں۔ بس... میرے پاس آؤ۔"

خواب میں بلال جھیل کی طرف بڑھنے لگا۔ پانی اس کے پاؤں کو چھونے لگا۔ گرم، نرم پانی۔

"ہاں..." اس نے سرگوشی کی۔ "ہاں..."

اور پھر — اس کی امی کی آواز: "بلال! اٹھو! اسکول کے لیے دیر ہو رہی ہے!"

بلال چیخ مار کر جاگ اٹھا۔ اس کا دل اتنے زور سے دھڑک رہا تھا کہ اسے لگا وہ پھٹ جائے گا۔ اس کا پورا جسم پسینے میں بھیگا تھا۔ کمرہ روشن تھا — صبح ہو گئی تھی۔ اس کی امی دروازے پر کھڑی تھیں۔

"کیا ہوا؟" امی نے پریشان ہو کر پوچھا۔ "تم چیخے کیوں؟"

"خواب... برا خواب دیکھا تھا،" بلال نے ہانپتے ہوئے کہا۔ "کچھ نہیں، امی۔"

امی چلی گئیں۔ بلال نے سکھ کی سانس لی۔ صرف ایک خواب تھا۔ سب کچھ ٹھیک تھا۔ وہ محفوظ تھا۔ اپنے گھر میں، اپنے بستر پر۔

پھر اس نے نیچے دیکھا۔

اس کے پاؤں گیلے تھے۔

اس کی شلوار کے پائنچے گیلے تھے — گھٹنوں تک۔ اور اس کے بستر سے لے کر کمرے کے دروازے تک... گیلے قدموں کے نشان تھے۔ چھوٹے، گیلے قدموں کے نشان — بالکل اس کے اپنے پاؤں کے سائز کے۔

اور دروازے کے پاس، فرش پر... نیلے رنگ کے چند قطرے تھے۔ چمکتے ہوئے نیلے قطرے۔

بلال کی چیخ پورے گھر میں گونجی — ایسی چیخ کہ اس کی امی دوڑتی ہوئی آئیں، کہ پڑوسیوں نے کھڑکیاں کھول دیں۔

لیکن بلال صرف اپنے گیلے پاؤں کو دیکھ رہا تھا، اور اس کے ذہن میں ایک ہی بات گونج رہی تھی:

"رات کو میں بستر سے اٹھا تھا... اور مجھے یاد نہیں... مجھے کچھ یاد نہیں کہ میں کہاں گیا تھا۔"