← ریڈیو خاموشی · All episodes

Episode 9

الوداع سے پہلے کی رات

الوداع سے پہلے کی رات

صبح جب ماہ نور جاگی تو گھر میں ایک نئی خاموشی تھی۔ ابو صحیح سلامت گھر لوٹ آئے تھے، اور امی اب راز جانتی تھیں۔ ماہ نور نے کاپی کھولی۔ رات والی آخری سطر ابھی وہیں تھی: تار ٹوٹی، مگر ابو بچ گئے۔ اس نے دل میں شکر ادا کیا اور سوچا کہ آج کا دن شاید پہلے دنوں سے بہتر ہو۔ مگر دل کے ایک کونے میں ایک ڈر بھی تھا۔ مس شیریں نے کہا تھا کہ آج رات کوئی سودا نہیں ہوگا۔

چھت سے ایک بچے کی خوشی کی آواز آئی۔ ماہ نور دوڑ کر گئی۔ گلی نمبر چار کے دوسرے مکان کا چھوٹا بچہ چھت پر کھڑا تھا اور اس کے ہاتھ میں اس کی گمشدہ نیلی چپل تھی۔ "مل گئی! میری چپل مل گئی!" وہ چلا رہا تھا۔ ہوا اسے چھت پر لے آئی تھی، بالکل ویسے جیسے ریڈیو نے کہا تھا۔ ماہ نور نے حاشر کی طرف دیکھا۔ حاشر نے آہستہ کہا، "پہلی خبر سچ ہو گئی۔"

ماہ نور نے کاپی میں ایک چھوٹی سی ٹک لگائی۔ اس کا ہاتھ ذرا کانپ رہا تھا۔ خبر کا سچ ہونا خوشی بھی تھا اور ذمہ داری بھی۔ اگر ریڈیو کی ہر بات سچ ہوتی ہے، تو اس کی ہر خاموشی کا بھی کوئی مطلب ہوگا۔

دوپہر سے پہلے اقبال چچا کا بیٹا سائیکل پر آیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا کاغذ تھا۔ "زویا باجی،" اس نے کہا، "آپ کی امی کا پیغام آیا ہے۔ شہر جانے والی بس پرسوں صبح چلے گی۔ آپ کو اسی بس میں جانا ہے۔" کاغذ پر بس کا وقت لکھا تھا۔ زویا نے کاغذ لیا اور خاموش ہو گئی۔ ماہ نور کا دل ڈوب گیا۔ پرسوں صبح بہت قریب تھی۔

"پرسوں؟" حاشر نے پوچھا۔ "اتنی جلدی؟" زویا نے مسکرا کر کہا، "چھٹیاں ختم ہو رہی ہیں، چھوٹے۔ شہر میں اسکول کھل رہا ہے۔" مگر اس کی مسکراہٹ آنکھوں تک نہیں پہنچی۔ ماہ نور نے اس کا ہاتھ تھاما۔ "تم چلی جاؤ گی، تو یہ کمرہ کتنا خاموش ہو جائے گا۔" زویا نے کہا، "میں جاؤں گی، مگر یہ راتیں میرے ساتھ جائیں گی۔"

دوپہر کو پڑوس والی خالہ نے اپنی پرانی صندوق کھولی۔ گلی میں سب نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں ایک پرانی تصویر تھی۔ تصویر میں ایک چھوٹی سی بچی کھڑی تھی، جس کے بالوں میں سفید پھول تھے۔ خالہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ "یہ میں ہوں،" انہوں نے ہنس کر کہا۔ "بچپن میں، اسی گلی میں۔" ماہ نور نے دل میں کہا، دوسری خبر بھی سچ ہو گئی۔

خالہ نے تصویر دادی کو دکھائی۔ دادی نے تصویر کو دیر تک دیکھا۔ ان کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ "پرانی چیزیں کبھی مرتی نہیں ہیں،" دادی نے آہستہ کہا۔ "وہ صرف انتظار کرتی ہیں کہ کوئی انہیں پھر سے دیکھے۔"

شام کو گلی کے بچے نیم کے درخت کے نیچے پھر کھیلنے لگے۔ ان کی ہنسی گلی میں گونجنے لگی۔ تین دن بعد پہلی بار کسی نے اتنی کھل کر ہنسی سنی تھی۔ حاشر بھی ان کے ساتھ کھیلا، اور زویا نے تالیاں بجائیں۔ ماہ نور درخت کے نیچے کھڑی یہ سب دیکھ رہی تھی۔

اسی وقت گلی کے سرے پر انجن کی آواز گونجی۔ مس شیریں کا بڑا ٹرک آ گیا۔ اس بار روشنیوں کا ڈھانچہ پہلے سے بھی اونچا تھا۔ مس شیریں کیمرے کے سامنے کھڑی ہوئیں اور بولیں، "آج رات کوئی اندھیرا نہیں ہوگا! روشنی ساری رات جلے گی!" ایک کے بعد ایک روشنی جلنے لگی۔ گلی دن کی طرح روشن ہو گئی، مگر ماہ نور کے دل میں اندھیرا سا چھا گیا۔

گھر کے اندر، امی نے بچوں کو اپنے پاس بلایا۔ "آج رات میں بھی تمہارے ساتھ جاگوں گی،" انہوں نے کہا۔ "مگر مجھے ایک بات سمجھاؤ۔ یہ آواز… یہ تمہارے دادا کی آواز کیوں ہے؟" دادی نے امی کا ہاتھ تھاما۔ "بیٹی،" انہوں نے کہا، "کریم نے اپنی جوانی میں خبریں پڑھی تھیں۔ اس کی آواز اسی گھر کی دیواروں میں رہ گئی تھی۔ جب شہر سو جاتا ہے، تو وہ آواز پھر بولتی ہے۔" امی نے سر ہلایا، جیسے دل نے بات مان لی ہو۔

رات کے کھانے کے بعد تینوں بچے ماہ نور کے کمرے میں بیٹھ گئے۔ میز پر کاپی کھلی تھی اور ریڈیو خاموش پڑا تھا۔ "کل رات،" ماہ نور نے کہا، "ہم ریڈیو سے سوال پوچھیں گے۔" حاشر نے حیرت سے دیکھا۔ "مگر وہ سوالوں کا جواب نہیں دیتا۔" "جانتے ہیں،" زویا نے کہا۔ "مگر پوچھنا بھی ایک طرح کی الوداع ہے۔ ہم پوچھیں گے، چاہے جواب نہ آئے۔" دادی دروازے پر کھڑی یہ باتیں سن رہی تھیں۔

دادی اندر آئیں اور بچوں کے پاس بیٹھ گئیں۔ "سوال لکھ لو،" انہوں نے کہا۔ "جو دل میں ہے، وہ کاغذ پر لکھ لو۔ میں تمہیں روکوں گی نہیں۔" ماہ نور نے لکھا: دادا، کیا آپ ہمیں دیکھ سکتے ہیں؟ حاشر نے لکھا: کیا ریڈیو پھر کبھی بولے گا؟ زویا نے لکھا: کیا ہم پھر کبھی اسی طرح اکٹھے بیٹھیں گے؟ دادی نے تینوں کاغذ دیکھے اور مسکرائیں، مگر ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

"دادی،" ماہ نور نے پوچھا، "آپ نے کبھی سوال نہیں پوچھا؟" دادی نے ریڈیو کی طرف دیکھا۔ "میں نے برسوں پہلے ایک سوال پوچھا تھا،" انہوں نے کہا۔ "اور جواب مجھے اسی خاموشی میں ملا تھا۔" ماہ نور سمجھ گئی کہ دادی کی کہانی ابھی باقی ہے۔

باہر روشنیاں پوری شدت سے جل رہی تھیں۔ گھڑی گیارہ بجنے والی تھی۔ حاشر کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔ "آپا،" اس نے کہا، "روشنیاں تو بجھنے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔" ماہ نور نے کاپی بند کر لی۔ "انتظار کرو،" اس نے کہا۔ "اندھیرا اپنا وقت خود چنتا ہے۔"

گیارہ بج کر پچاس منٹ پر روشنیاں جھپکنے لگیں۔ پہلے ایک روشنی بجھی، پھر دوسری۔ ٹرک کے پاس جنریٹر کھانسنے لگا، جیسے اس کا سانس رک رہا ہو۔ ڈرائیور نے چیخ کر کہا، "جنریٹر گرم ہو گیا ہے! اسے ٹھنڈا ہونا پڑے گا!" مس شیریں نے غصے سے کہا، "ابھی ٹھیک کرو!" مگر جنریٹر نے دو بار کھانسا اور پھر خاموش ہو گیا۔ ایک کے بعد ایک روشنی بجھ گئی۔

گلی میں شور مچ گیا۔ ڈرائیور نے کہا کہ جنریٹر کو آدھے گھنٹے تک ٹھنڈا ہونا پڑے گا اور تیل بھی ختم ہو گیا ہے۔ مس شیریں ٹرک میں بیٹھ کر تیل لینے چلی گئیں۔ ان کے جانے کے بعد کیمرہ والا بھی وین میں بیٹھ گیا۔ گلی نمبر چار آہستہ آہستہ مکمل اندھیرے میں ڈوب گئی۔ کوئی بلب نہیں جلا، کوئی ٹارچ نہیں جلی۔

تینوں بچے، امی اور دادی ماہ نور کے کمرے میں جمع ہو گئے۔ ریڈیو میز پر تھا۔ حاشر نے اپنا فون اٹھایا، پھر رکھ دیا۔ فون کی بیٹری کب کی ختم ہو چکی تھی۔ ماہ نور نے کاپی کھولی اور قلم پکڑ لیا۔ "ابھی بارہ نہیں بجے،" اس نے سرگوشی کی۔ "ریڈیو صرف بارہ بجے بولتا ہے۔" کمرے میں ایسی خاموشی تھی کہ سب کی سانسیں سنائی دے رہی تھیں۔

بارہ بجے، کھرکھراہٹ ہوئی۔ ریڈیو کا ڈائل نرم، گرم روشنی سے جل اٹھا۔ وہی پرسکون آواز آئی، بالکل جوان دادا کی آواز جیسی۔ "کل کی خبریں،" آواز نے کہا۔ ماہ نور نے قلم مضبوطی سے پکڑ لیا۔ کوئی گھنٹی نہیں بجی۔ "پہلی خبر: کل صبح، زویا اپنا بستر لپیٹے گی، اور ماہ نور اسے دادا کی ایک پرانی کتاب دے گی۔ دوسری خبر: کل شام، دادی اپنی کہانی سنائیں گی، وہ کہانی جو انہوں نے برسوں سے کسی کو نہیں سنائی۔ تیسری خبر: پرسوں صبح، بجلی واپس آئے گی، اور ریڈیو خاموش ہو جائے گا۔" پھر آواز رک گئی۔ ڈائل کی روشنی بجھ گئی۔

کمرے میں گہری خاموشی چھا گئی۔ امی نے ماہ نور کا ہاتھ تھام لیا۔ زویا کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ حاشر نے سرگوشی کی، "صرف دو دن؟" ماہ نور نے کاپی میں آخری سطر لکھی: بجلی پرسوں آئے گی۔ ریڈیو خاموش ہو جائے گا۔ اس نے قلم رکھ دیا اور ریڈیو کی طرف دیکھا۔ "دادا،" اس نے آہستہ کہا، "کیا آپ ہمیں سن سکتے ہیں؟" کوئی جواب نہیں آیا۔ ڈائل اندھیرے میں تھا۔

دادی نے ماہ نور کے سر پر ہاتھ رکھا۔ "آواز نے اپنا کام کر دیا، بیٹی،" انہوں نے کہا۔ "اب ہماری باری ہے۔ کل رات ہم سوال پوچھیں گے، چاہے جواب نہ آئے۔" زویا نے آنسو پونچھ کر کہا، "اور میں پرسوں صبح جاؤں گی، مگر کل رات میں یہیں ہوں گی۔" ماہ نور نے سر ہلایا۔ اس کے دل میں ایک عجیب سا درد تھا، جیسے کوئی پیاری چیز ہاتھ سے چھوٹ رہی ہو۔

بارہ بج کر دس منٹ پر دور سے انجن کی آواز آئی۔ مس شیریں تیل لے کر واپس آ رہی تھیں۔ گلی کے سرے پر ٹرک کی ہیڈ لائٹس دکھائی دینے لگیں۔ ماہ نور نے کھڑکی سے دیکھا اور کاپی میں ایک اور سطر لکھی: کل رات اندھیرا بچانا سب سے مشکل ہوگا، کیونکہ مس شیریں اب تیار ہو کر آئیں گی۔ اس نے کاپی بند کی۔ دو دن باقی تھے۔ صرف دو دن۔ اور کل رات، سوالوں کی رات تھی۔