Episode 8
تار ٹوٹنے والی رات

صبح جب ماہ نور کی آنکھ کھلی تو اس کا دل ابھی سے دھڑک رہا تھا۔ آج وہ رات تھی جس کا ذکر ریڈیو نے کیا تھا۔ آج رات گرڈ اسٹیشن پر تار ٹوٹے گی، اور ابو اپنی شفٹ پر ہوں گے۔ اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ گلی نمبر چار پر صبح کی نرم روشنی تھی، مگر اس روشنی میں بھی اسے رات کا اندھیرا یاد آ رہا تھا۔ اس نے کاپی کھولی اور رات والی سطر پڑھی: کل رات تار ٹوٹے گی۔ ابو گرڈ اسٹیشن پر ہوں گے۔
چھت سے پرندوں کی آواز آئی۔ ماہ نور دوڑ کر چھت پر گئی۔ وہیں، آخری مکان کی چھت پر، ایک کبوتر بیٹھا تھا — وہی کبوتر جو تین دن سے لاپتا تھا۔ وہ دھوپ میں پر پھیلا رہا تھا، جیسے گھر واپس آ کر خوش ہو۔ حاشر خوشی سے چلایا، "آپا، وہ آ گیا!" زویا نے مسکرا کر کہا، "پہلی خبر سچ ہو گئی۔ ریڈیو جھوٹ نہیں بولتا۔" ماہ نور نے کبوتر کو دیکھا اور دل میں شکر ادا کیا۔ اگر پہلی خبر سچ تھی، تو دوسری خبر بھی سچ ہوگی — اور اس کا مطلب تھا کہ ابو کو بچانا ہوگا۔
دوپہر کو ابو شفٹ پر جانے کی تیاری کرنے لگے۔ ماہ نور ان کے پاس گئی اور ان کا ہاتھ تھام لیا۔ "ابو،" اس نے کہا، اس کی آواز کانپ رہی تھی، "آج رات ایک وعدہ کریں۔" ابو نے حیرت سے اسے دیکھا۔ "کیسا وعدہ، بیٹی؟" "آج رات، اگر کچھ بھی ہو، تو آپ کھلے صحن میں نہیں جائیں گے۔ چیک کرنے کے لیے کنٹرول والے کمرے کی کھڑکی سے دیکھیں گے، اور جانا پڑا تو ڈھکی ہوئی راہ سے جائیں گے۔ وعدہ کریں۔" ابو مسکرائے۔ "یہ کیسا وعدہ ہے؟" "مجھے رات کو ایک برا خواب آیا تھا،" ماہ نور نے کہا۔ خواب کی بات سچ تھی، بس خواب کی جگہ کچھ اور تھی۔ "خواب میں تار ٹوٹ رہی تھی۔ بس یہ وعدہ کر دیں۔"
ابو نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ "ٹھیک ہے، بیٹی۔ میں وعدہ کرتا ہوں۔ آج رات میں کھلے صحن میں نہیں جاؤں گا۔" ماہ نور نے ان کے گلے لگ کر رونا روک لیا۔ دروازے کے پاس دادی کھڑی تھیں۔ انہوں نے کچھ نہیں کہا، مگر ان کی آنکھوں میں ایک ایسی سمجھ تھی جو لفظوں سے زیادہ بولتی تھی۔ وہ جانتی تھیں کہ بیٹی خواب کی بات نہیں کر رہی۔
شام سے پہلے، گلی کے بچے نیم کے درخت کے نیچے کھیل رہے تھے۔ اچانک ایک بچہ چلایا، "پتنگ! ہماری پتنگ!" درخت کے نیچے، خشک پتوں میں، ان کی گمشدہ پتنگ پڑی تھی — اسی جگہ جہاں ریڈیو نے کہا تھا۔ بچے خوشی سے ناچنے لگے۔ زویا نے ماہ نور کی طرف دیکھا اور آہستہ کہا، "تیسری خبر سچ ہو گئی۔ اب صرف ایک خبر باقی ہے — اور وہ سب سے مشکل ہے۔" ماہ نور نے سر ہلایا۔ تار والی خبر رات کو پوری ہوگی۔
شام ڈھلتے ہی گلی میں انجن کی آواز گونجی۔ اس بار وین کے ساتھ ایک بڑا ٹرک بھی تھا، جس پر روشنیوں کا ایک اونچا ڈھانچہ لگا تھا۔ مس شیریں اتریں اور کیمرے کی طرف دیکھ کر اعلان کیا، "آج رات یہ گلی سورج کی طرح روشن ہوگی! کوئی اندھیرا نہیں، کوئی افواہ نہیں!" ایک کے بعد ایک روشنی جلنے لگی۔ گلی نمبر چار دن کی طرح چمکنے لگی۔ بچے تالیاں بجانے لگے، مگر ماہ نور کا دل ڈوب گیا۔ اتنی روشنی میں ریڈیو کبھی نہیں بولے گا۔
زویا آگے بڑھی۔ "مس شیریں،" اس نے کہا، "آپ سچ چاہتی ہیں نا؟ تو سچ کو پوری طرح آزمائیں۔ اگر آپ ساری رات روشنی جلائے رکھیں گی، تو لوگ کہیں گے کہ روشنی نے ہی سب کچھ روک دیا۔ مگر اگر آپ پندرہ منٹ کے لیے مکمل اندھیرا کر دیں — گیارہ بج کر پچپن منٹ سے بارہ بج کر دس منٹ تک — اور کیمرہ اندھیرے میں چلتا رہے، تو آپ کا ثبوت مکمل ہوگا۔ اندھیرے میں کچھ نہ ہوا، تو کہانی ختم۔" مس شیریں نے سوچا، پھر مسکرائیں۔ "پندرہ منٹ؟ ٹھیک ہے۔ پندرہ منٹ کا اندھیرا، کیمرہ اندھیرے میں چلے گا۔ مگر اس کے بعد، کوئی سودا نہیں۔" ماہ نور نے زویا کا ہاتھ دبا دیا۔ پندرہ منٹ کافی تھے — اگر اندھیرا سچ میں مکمل ہوا۔
رات کو گھر میں سب جاگ رہے تھے۔ امی صحن میں بیٹھی ابو کے لیے دعا کر رہی تھیں۔ انہیں نہیں پتا تھا کہ بچے کیا جانتے ہیں، مگر ماں کا دل خطرے کو پہچان لیتا ہے۔ حاشر کھڑکی کے پاس کھڑا تھا۔ اچانک، دور سے ایک زور کی آواز آئی — جیسے کچھ ٹوٹا ہو — اور چھتوں کے پار ایک نیلی چمک دکھائی دی۔ گرڈ اسٹیشن کی طرف سے۔ ماہ نور کا دل رک سا گیا۔ "ابو!" حاشر نے سرگوشی کی۔ دادی نے دونوں کو اپنے پاس بلا لیا۔ "گھبراؤ نہیں،" انہوں نے آہستہ کہا۔ "وعدہ یاد رکھو۔ تمہارے ابو نے وعدہ کیا تھا۔"
گیارہ بج کر پچپن منٹ پر، گلی کی روشنیاں ایک ساتھ بجھ گئیں۔ جنریٹر کی آواز رک گئی۔ گلی نمبر چار پھر مکمل اندھیرے میں ڈوب گئی۔ تینوں بچے ماہ نور کے کمرے میں جمع ہو گئے۔ ریڈیو میز پر رکھا تھا۔ حاشر نے اپنا فون اٹھایا، پھر رکھ دیا — فون کی بیٹری کب کی ختم ہو چکی تھی، اور ویسے بھی ماہ نور نے سر ہلا کر منع کر دیا تھا۔ اس آواز کو سننا تھا، قید نہیں کرنا تھا۔ دروازے کے پاس، امی کھڑی تھیں۔ وہ بچوں کو دیکھنے آئی تھیں، مگر اندھیرے اور خاموشی کو دیکھ کر وہیں رک گئیں۔
بارہ بجے، کھرکھراہٹ ہوئی۔ ریڈیو کا ڈائل نرم، گرم روشنی سے جل اٹھا۔ اور وہی پرسکون آواز آئی، بالکل جوان دادا کی آواز جیسی۔ "کل کی خبریں،" آواز نے کہا۔ ماہ نور نے قلم پکڑ لیا۔ کوئی گھنٹی نہیں بجی۔ "پہلی خبر: کل صبح، گلی نمبر چار کے دوسرے مکان کے چھوٹے بچے کو اس کی گمشدہ نیلی چپل چھت پر مل جائے گی، جہاں ہوا اسے لے گئی تھی۔ دوسری خبر: کل دوپہر، پڑوس والی خالہ اپنی پرانی صندوق کھولیں گی، اور اس میں سے اپنے بچپن کی ایک تصویر نکلے گی۔ تیسری خبر: کل شام، گلی کے بچے نیم کے درخت کے نیچے پھر کھیلیں گے، اور ان کی ہنسی تین دن بعد پہلی بار گونجے گی۔" پھر آواز رک گئی۔ ڈائل کی روشنی بجھ گئی۔
کمرے میں خاموشی تھی۔ پھر دروازے سے ایک آواز آئی — امی کی آواز، کانپتی ہوئی۔ "یہ… یہ کس کی آواز تھی؟" ماہ نور نے مڑ کر دیکھا۔ امی کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ "امی،" اس نے آہستہ کہا، "یہ دادا کی آواز ہے۔ جوان دادا کی۔" امی نے ریڈیو کی طرف دیکھا، پھر دادی کی طرف۔ دادی نے آ کر امی کو گلے لگا لیا۔ "بیٹی،" دادی نے کہا، "اب تم بھی جان گئی ہو۔ یہ ہمارے گھر کا راز ہے — اور اب تم بھی اس راز کا حصہ ہو۔" امی نے ماہ نور کا ہاتھ تھام لیا۔ "میں کسی کو نہیں بتاؤں گی،" انہوں نے کہا۔ "مگر کل رات، میں بھی تمہارے ساتھ جاگوں گی۔"
بارہ بج کر دس منٹ پر، جنریٹر پھر چل پڑا اور روشنیاں واپس آ گئیں۔ باہر، مس شیریں کیمرے سے کہہ رہی تھیں، "اندھیرے میں بھی کچھ نہیں ہوا! مگر کل رات کوئی سودا نہیں ہوگا۔ کل میں ایک بڑا ٹرک لاؤں گی، اور روشنی ساری رات جلے گی — اتنی روشنی کہ اندھیرا کہیں چھپ نہ سکے!" ماہ نور نے کاپی بند کی۔ کل رات کی جنگ ابھی باقی تھی۔
آدھی رات کے کچھ بعد، دروازہ کھلا۔ ابو اندر آئے — تھکے ہوئے، مٹی سے بھرے کپڑوں میں، مگر صحیح سلامت۔ امی دوڑ کر ان کے گلے لگ گئیں۔ بچے بھی ان کے گرد جمع ہو گئے۔ "ابو، تار؟" حاشر نے پوچھا۔ ابو نے سر ہلایا۔ "تار ٹوٹ گئی، بیٹا۔ کھلے صحن میں گری، جہاں میں ہر رات چیک کے لیے کھڑا ہوتا ہوں۔ مگر آج میں تمہارے وعدے کی وجہ سے کنٹرول والے کمرے میں تھا، اور ڈھکی ہوئی راہ سے گیا تھا۔ تار خالی زمین پر گری، چنگاریاں اڑیں، مگر کسی کو کچھ نہیں ہوا۔" ابو نے ماہ نور کی طرف دیکھا۔ "تمہارے خواب نے آج مجھے بچا لیا، بیٹی۔" ماہ نور نے کچھ نہیں کہا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر اس کے دل میں شکر تھا۔
جب گھر خاموش ہو گیا، تو ماہ نور نے کاپی کھولی اور آخری سطر لکھی: تار ٹوٹی، مگر ابو بچ گئے۔ ریڈیو بولا، اور امی نے سن لیا۔ مگر کل رات مس شیریں کوئی سودا نہیں کریں گی — اور کل رات ہمیں پھر اندھیرے کو بچانا ہوگا۔ اس نے کاپی بند کی اور کھڑکی سے باہر دیکھا۔ گلی روشنی سے بھری تھی، مگر اسے پتا تھا کہ اصل جنگ اندھیرے کی ہے۔ اور وہ جنگ کل رات پھر لڑنی ہوگی۔