← ریڈیو خاموشی · All episodes

Episode 7

ایک گھنٹے کا اندھیرا

ایک گھنٹے کا اندھیرا

صبح ماہ نور کی آنکھ کھلی تو سب سے پہلے اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ گلی نمبر چار ویران پڑی تھی، مگر اس کے دل میں کل رات کی خاموشی اب بھی گونج رہی تھی۔ ریڈیو نے نہیں بولا تھا۔ آدھی رات گزر گئی تھی، اور ریڈیو خاموش رہا تھا۔

وہ آہستہ سے اٹھی اور کاپی کھولی۔ رات والی سطر اب بھی وہیں تھی: ریڈیو خاموش ہے۔ کیا ہم نے اسے ہمیشہ کے لیے کھو دیا ہے؟

دادی صحن میں بیٹھی چائے پی رہی تھیں۔ ماہ نور ان کے پاس جا کر بیٹھ گئی۔

"دادی،" اس نے آہستہ کہا، "اگر آج رات بھی روشنی ہوئی تو…؟"

دادی نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ "بیٹی،" انہوں نے کہا، "تم نے کل رات خود دیکھا۔ روشنی نے ریڈیو کو نہیں مارا، صرف چپ کرا دیا۔ جو چیز محبت سے بنی ہو، وہ انتظار کرتی ہے۔ آج رات، اندھیرا واپس لانا ہوگا۔"

"مگر کیسے؟" حاشر نے پوچھا، جو سیڑھیوں سے اتر رہا تھا۔ "مس شیریں نے کہا تھا، وہ اس سے بھی بڑی روشنی لائیں گی۔"

زویا نے مسکرا کر کہا، "تو ہم ان سے روشنی چھینیں گے نہیں۔ ہم ان سے ایک سودا کریں گے۔"

"کیسا سودا؟" ماہ نور نے پوچھا۔

"سچا سودا،" زویا نے کہا۔ "ہم ان سے کہیں گے: آپ سچ چاہتی ہیں نا؟ تو سچ کو آزمائیں۔ ایک گھنٹے کے لیے سب کچھ بند کر دیں — نہ بلب، نہ کیمرے کی روشنی، نہ جنریٹر۔ اگر اس ایک گھنٹے میں کچھ نہ ہوا تو آپ کہہ سکتی ہیں کہ یہ افواہ تھی۔ اور اگر کچھ ہوا… تو وہ آپ کی آنکھوں کے سامنے ہوگا۔"

ماہ نور نے سوچا۔ یہ سودا خطرناک تھا۔ اگر ریڈیو بولا اور مس شیریں نے اسے دیکھ لیا تو؟ مگر زویا نے اس کا ہاتھ دبا کر کہا، "ریڈیو گھر کے اندر بولے گا۔ چھت پر نہیں۔ مس شیریں گلی میں دیکھتی رہیں گی، اور ریڈیو ہمارے کمرے میں بولے گا۔"

دوپہر کو ابو گھر واپس آئے — تھکے ہوئے، مگر صحیح سلامت۔ ماہ نور نے ان کا ہاتھ تھاما اور دل ہی دل میں شکر ادا کیا۔ کل رات کا خطرہ ٹل گیا تھا۔ مگر آگے والی رات کا خطرہ اب بھی باقی تھا۔ کاپی میں لکھا ٹکڑا اسے یاد تھا: تار ٹوٹے گی۔

شام کو گلی میں پھر انجن کی آواز گونجی۔ اس بار وین کے ساتھ ایک چھوٹا ٹرک بھی تھا، جس پر روشنیوں کا ایک بڑا ڈھانچہ لگا تھا۔ مس شیریں اتریں اور اعلان کیا، "آج رات یہ گلی دن کی طرح روشن ہوگی!"

گلی کے بچے تالیاں بجانے لگے۔ بڑے حیران تھے۔ مگر ماہ نور آگے بڑھی۔

"مس شیریں،" اس نے صاف آواز میں کہا، "آپ سچ کی تلاش میں ہیں۔ تو ایک سچی آزمائش کیجیے۔"

مس شیریں نے بھنویں اٹھائیں۔ "کیسی آزمائش؟"

"ایک گھنٹے کا اندھیرا،" ماہ نور نے کہا۔ "ساڑھے گیارہ سے ساڑھے بارہ تک، اس گلی میں کوئی روشنی نہیں ہوگی۔ نہ آپ کی، نہ ہماری۔ اگر اس گھنٹے میں کچھ نہ ہوا تو آپ سب کے سامنے کہہ دیجیے گا کہ یہ افواہ تھی، اور ہم آپ کی بات مان لیں گے۔"

گلی میں خاموشی چھا گئی۔ مس شیریں نے مائیک نیچے کیا اور سوچنے لگیں۔ پھر وہ مسکرائیں — وہی مسکراہٹ جو ہار نہیں مانتی۔

"ٹھیک ہے، بیٹی،" انہوں نے کہا۔ "ایک گھنٹے کا اندھیرا۔ مگر میرا کیمرہ چلے گا، اندھیرے میں بھی۔ اگر کچھ ہوا تو دنیا دیکھے گی۔ اور اگر کچھ نہ ہوا تو… کل سے یہ کہانی ختم۔"

ماہ نور کا دل زور سے دھڑکا، مگر اس نے سر ہلا دیا۔ سودا ہو گیا تھا۔

رات کو، ساڑھے گیارہ بجے سے کچھ پہلے، تینوں بچے خاموشی سے ماہ نور کے کمرے میں جمع ہو گئے۔ ریڈیو میز پر رکھا تھا، اس کا ڈائل اندھیرے میں مدھم سا چمک رہا تھا۔ باہر گلی میں، مس شیریں کا کیمرہ چھت کی طرف اٹھا ہوا تھا — مگر چھت خالی تھی۔

حاشر نے سرگوشی کی، "انہیں لگ رہا ہے کہ ریڈیو چھت پر ہوگا۔"

"اور وہ یہیں ہے،" زویا نے مسکرا کر کہا، "ہماری آنکھوں کے سامنے۔"

گیارہ بج کر تیس منٹ پر، گلی کی ساری روشنیاں ایک ساتھ بجھ گئیں۔ جنریٹر کی گھنگھناہٹ رک گئی۔ گلی نمبر چار پھر سے مکمل اندھیرے میں ڈوب گئی — ایسا اندھیرا جیسا پہلی رات تھا۔

ماہ نور نے کاپی کھولی اور لکھا: گیارہ بج کر تیس منٹ۔ مکمل اندھیرا۔ سودا پورا ہوا۔

پھر وہ تینوں سانس روک کر بیٹھ گئے۔

گیارہ بج کر اٹھاون منٹ۔

گیارہ بج کر انسٹھ منٹ۔

بارہ بجے۔

ایک لمحے کے لیے کچھ نہ ہوا۔ پھر — کھرکھراہٹ۔

ریڈیو کا ڈائل جل اٹھا، نرم، گرم روشنی سے۔ اور اس میں سے وہی پرسکون آواز آئی، بالکل جوان دادا کی آواز جیسی۔

"کل کی خبریں،" آواز نے کہا۔

ماہ نور کا ہاتھ کانپنے لگا، مگر اس نے قلم مضبوطی سے پکڑ لیا۔

"پہلی خبر: کل صبح، گلی نمبر چار کے آخری مکان کی چھت پر، ایک کبوتر واپس آئے گا جو تین دن سے لاپتا تھا۔"

حاشر نے خوشی سے زویا کی طرف دیکھا۔ ایک نرم خبر۔ ایک اچھی خبر۔

"دوسری خبر: کل رات، گرڈ اسٹیشن پر ایک تار ٹوٹ کر گر جائے گی۔"

ماہ نور کا قلم رک گیا۔ یہی وہ بات تھی۔ وہی ٹکڑا جو آدھی رات سے پہلے آیا تھا، اب پوری خبر بن کر آ گیا تھا۔ اس سے پہلے کوئی گھنٹی نہیں بجی تھی۔ اس کا مطلب تھا — اس خبر کو روکا جا سکتا تھا۔ ابو کو خبردار کیا جا سکتا تھا۔

"تیسری خبر: کل شام، گلی کے بچوں کو نیم کے درخت کے نیچے ان کی گمشدہ پتنگ مل جائے گی۔"

پھر آواز رکی۔ ڈائل کی روشنی مدھم ہوئی اور بجھ گئی۔ کمرے میں پھر اندھیرا تھا — مگر یہ اندھیرا اب خوفناک نہیں تھا۔ یہ اندھیرا زندہ تھا۔

تینوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ حاشر کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر اس بار خوشی کے۔

"وہ زندہ ہے!" اس نے سرگوشی کی۔ "آپا، وہ زندہ ہے! وہ صرف اندھیرے کا انتظار کر رہا تھا!"

ماہ نور نے ریڈیو کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔ "دادی نے سچ کہا تھا،" اس نے کہا، اس کی آواز بھر آئی۔ "جو چیز محبت سے بنی ہو، وہ ایک رات کی روشنی سے نہیں مرتی۔"

دروازے کے پاس، دادی کھڑی تھیں۔ وہ خاموشی سے سن رہی تھیں۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے، اور ہونٹوں پر ایک ایسی مسکراہٹ تھی جو ماہ نور نے برسوں سے نہیں دیکھی تھی۔

"بیٹی،" دادی نے آہستہ کہا، "تم نے آج رات اندھیرا واپس لایا ہے۔ اور اندھیرے نے تمہیں تمہاری آواز واپس دی ہے۔"

ماہ نور نے کاپی میں خبریں لکھیں، لفظ بہ لفظ۔ پھر اس نے ایک اور سطر لکھی: کل رات تار ٹوٹے گی۔ ابو گرڈ اسٹیشن پر ہوں گے۔ ہمیں انہیں بتانا ہوگا — بغیر یہ بتائے کہ ہمیں کیسے پتا چلا۔

مگر اسی وقت، باہر گلی سے مس شیریں کی آواز آئی۔ جنریٹر پھر چل پڑا تھا، اور روشنیاں واپس آ گئی تھیں۔

"کچھ نہیں ہوا!" مس شیریں کیمرے سے کہہ رہی تھیں۔ "اندھیرے میں بھی کچھ نہیں ہوا! مگر ہم ہار نہیں مانتے۔ کل رات ہم پوری گلی کو روشن کر دیں گے — اتنی روشنی کہ اندھیرا کہیں چھپ نہ سکے!"

تینوں بچوں کے دل ایک ساتھ ڈوب گئے۔ کل رات دو خطرے ایک ساتھ آ رہے تھے: گرڈ اسٹیشن پر ٹوٹنے والی تار، اور مس شیریں کی اس سے بھی بڑی روشنی۔

اور ابو کل رات پھر اپنی شفٹ پر ہوں گے۔

ماہ نور نے کاپی بند کی، مگر اس کا ہاتھ اب بھی کانپ رہا تھا۔ اس نے آخری سطر لکھی:

ریڈیو واپس آ گیا ہے۔ مگر کل رات، ہمیں ابو کو بھی بچانا ہے، اور اندھیرے کو بھی۔