← آخری اوور · All episodes

Episode 9

غصے کی قیمت

غصے کی قیمت

دکان کے باہر جیسے ہی ہیڈلائٹس کی روشنی پھیلی، بلال نے احمد کا فون فوراً دراز میں چھپا لیا۔ اس نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر سرگوشی میں کہا، پیچھے والے دروازے سے نکلو۔ کوئی آواز نہیں، کوئی دوڑ نہیں۔ جیسے تم یہاں کبھی آئے ہی نہیں تھے۔

ولید کا دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا۔ گڈو نے رضوان کا ہاتھ پکڑ لیا۔ سلمان کی مٹھیاں اب بھی بند تھیں، مگر کوچ رانا نے اس کے کندھے کو مضبوطی سے تھام رکھا تھا۔ پانچوں دوست ایک ایک کر کے پچھلے دروازے سے تنگ گلی میں نکل گئے۔

کالی گاڑی آہستہ آہستہ گلی کے سرے سے گزری۔ اس کی رفتار اتنی دھیمی تھی کہ وہ چل نہیں رہی تھی، وہ دیکھ رہی تھی۔ سلمان نے مڑ کر دیکھنا چاہا، مگر کوچ رانا نے اس کا بازو پکڑ لیا۔ مت دیکھو، انہوں نے آہستہ سے کہا۔ آج رات ہمیں زندہ رہنا ہے، بہادر بننا نہیں۔

وہ الگ الگ راستوں سے اپنے گھروں کو گئے۔ کوچ رانا نے سمجھایا۔ فون بلال کے پاس ہی رہے گا۔ کوئی اکیلا دکان پر نہیں جائے گا۔

رات کو ولید کو نیند نہیں آئی۔ اس کے کانوں میں احمد کی آواز بار بار گونج رہی تھی۔ میں ٹھیک ہوں۔ میں تم سے نہیں بھاگا، میں ایک فیصلے سے بھاگا ہوں۔ ولید چھت پر جا کر بیٹھ گیا۔ اس نے سوچا، احمد نے کہا تھا کہ ثبوت ایسی جگہ چھپایا ہے جہاں صرف تم۔۔۔ صرف تم کیا؟ صرف تم جانتے ہو؟ صرف تم پہنچ سکتے ہو؟ آدھی بات سب سے زیادہ تکلیف دیتی ہے، کیونکہ وہ امید بھی دیتی ہے اور راستہ نہیں دیتی۔

---

صبح گراؤنڈ پر ہوا میں نمی تھی اور وکٹ پر اوس جمی ہوئی تھی۔ کوچ رانا نے آخری اوور کی مشق شروع کرائی۔ چھ گیندیں، دس رن درکار، تین وکٹیں باقی۔ سلمان گیند لے کر رن اپ پر کھڑا ہوا۔ اس کی آنکھوں میں نیند کی کمی تھی اور اس کے اندر رات کا غصہ اب بھی جل رہا تھا۔

پہلی گیند اس نے اتنی زور سے ڈالی کہ گیند ولید کے سر کے اوپر سے گزر گئی۔ بیمر۔ گڈو وکٹ کے پیچھے سے چلایا، سلمان! یہ مشق ہے، جنگ نہیں! سلمان نے جواب نہیں دیا۔ اس نے دوسری گیند پھر زور سے اور اونچی ڈالی۔ ولید کو جھکنا پڑا۔ تیسری گیند نوبال ہوئی، کیونکہ سلمان کا پاؤں لکیر سے بہت آگے نکل گیا تھا۔

ولید نے بلا نیچے رکھا اور بولا، سلمان، تم گیند نہیں ڈال رہے، تم غصہ ڈال رہے ہو۔ غصے سے نہ یورکر بنتی ہے، نہ سلوور۔ صرف غلطی بنتی ہے۔

سلمان نے گیند کو زور سے زمین پر مارا۔ تو میں کیا کروں؟ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھا رہوں؟ احمد کی آواز سن کر بھی ہم کچھ نہیں کر رہے! وہ آدمی ہماری گلی میں آتا ہے، ہماری دکان پر پوچھتا ہے، اور ہم چھپ کر گلیوں سے بھاگتے ہیں؟

گڈو نے ہنسانے کی کوشش کی، مگر اس بار کسی نے نہیں ہنسا۔ رضوان کو یاد آیا کہ احمد نے ایک دن سلمان کو یہی بات سمجھائی تھی۔ احمد نے اس کے پاس جا کر کہا تھا، سلمان، تیز گیند باز کا سب سے بڑا ہتھیار اس کا ہاتھ نہیں ہوتا، اس کا صبر ہوتا ہے۔ غصہ تمہیں تیز نہیں بناتا، غصہ تمہیں اندھا بناتا ہے۔ اور اندھا گیند باز آخری اوور میں ٹیم کو ہرا دیتا ہے۔ سلمان نے اس دن ہنس کر کہا تھا، ٹھیک ہے استاد، آج سے غصہ جیب میں رکھوں گا۔ آج وہ جیب خالی لگ رہی تھی۔

کوچ رانا نے سیٹی بجائی۔ بس! مشق ختم۔

---

اسی وقت گراؤنڈ کے گیٹ پر ایک آدمی آیا۔ سفید شلوار، صاف ستھری قمیض، اور کلائی پر سنہری گھڑی۔ وہ آہستہ آہستہ چل رہا تھا، جیسے اسے جلدی نہ ہو۔ اس نے کوچ رانا کو سلام کیا اور بولا، کوچ صاحب، میں نے سنا ہے یہاں فائنل کی تیاری ہو رہی ہے۔ محلے کے بچے بہت خوش ہیں۔

ولید کے قدم رک گئے۔ سنہری گھڑی۔ وہی گھڑی جو احمد کے فون کی آخری تصویر میں چمک رہی تھی۔ وہی آدمی جو ریلوے گراؤنڈ میں آدھی رات کو احمد سے ملا تھا۔ ولید کچھ کہتا، اس سے پہلے سلمان اٹھ کھڑا ہوا۔

تم! سلمان کی آواز گراؤنڈ میں گونج گئی۔ تم وہی ہو۔ تم رات کو بلال کی دکان پر فون کے بارے میں پوچھنے آئے تھے۔ تم احمد کے پیچھے ہو!

آدمی نے مسکرا کر ہاتھ اٹھائے، جیسے وہ بے گناہ ہو۔ بیٹا، میں تو صرف۔۔۔ مگر سلمان نے اس کی بات پوری نہیں ہونے دی۔ اس نے آدمی کا گریبان پکڑ لیا۔ بولو، احمد کہاں ہے؟ مامو سکندر نے اسے کہاں چھپایا ہے؟ تین لاکھ کے لیے تم لوگ ایک بچے کی زندگی خراب کر رہے ہو!

محلے کے بچے رک گئے۔ گڈو دوڑا، سلمان، چھوڑو اسے! ولید نے بھی اس کا بازو پکڑا، مگر سلمان نے بازو جھٹک دیا۔ آدمی کی مسکراہٹ اب بھی قائم تھی، مگر اس کی آنکھیں ٹھنڈی تھیں۔ اس نے آہستہ سے کہا، تمہارا دوست خود بھاگ گیا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ فائنل میں وہ ہارنے والا ہے۔ اور تم۔۔۔ تم ابھی ایک بہت بڑی غلطی کر رہے ہو۔

اسی دھکم پیل میں آدمی کی جیب سے ایک کاغذ گر گیا۔ کاغذ ہوا میں اڑ کر ولید کے پاؤں کے پاس آ گرا۔ ولید نے اسے اٹھا لیا۔ وہ ٹورنامنٹ کمیٹی کی شکایت کا فارم تھا۔ اس پر سلمان کا نام پہلے سے لکھا ہوا تھا۔ کھلاڑی کی بدتمیزی اور دھمکی۔ دستخط کی جگہ خالی تھی، مگر باقی سب کچھ تیار تھا۔ ولید کے ہاتھ کانپ گئے۔ یہ فارم آج کا نہیں لگ رہا تھا۔ یہ پہلے سے تیار رکھا گیا تھا۔ یہ جھگڑا اتفاق نہیں تھا۔ یہ جال تھا۔

کوچ رانا نے سلمان کو زور سے پیچھے کھینچا۔ بس کرو، سلمان! انہوں نے آدمی سے کہا، آپ جائیے۔ ہمارا بچہ غصے میں ہے، مگر ہم معافی چاہتے ہیں۔ آدمی نے اپنی قمیض ٹھیک کی، گھڑی کو دیکھا، اور بولا، معافی کمیٹی کو دینی ہوگی، مجھے نہیں۔ آج شام تک شکایت پہنچ جائے گی۔ فائنل کھیلنے سے پہلے سوچ لینا کہ ٹیم کی عزت زیادہ اہم ہے یا ایک غصہ۔

وہ چلا گیا۔ گراؤنڈ پر خاموشی چھا گئی۔

---

پھر وہ ہوا جو ٹیم کو جوڑے رکھتی تھی، ٹوٹ گئی۔ ولید نے کاغذ سلمان کی طرف بڑھایا۔ دیکھو، یہ جال تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ تم یہی کرو۔ اب ہم فائنل سے باہر ہو سکتے ہیں۔ سلمان نے کاغذ دیکھے بغیر کہا، تو کیا میں خاموش کھڑا رہتا؟ تم ہمیشہ خاموش رہتے ہو، ولید۔ تم کپتان ہو یا تماشائی؟

ولید کی آنکھیں بھر آئیں، مگر اس کی آواز مضبوط رہی۔ میں کپتان ہوں، اسی لیے میں احمد کو واپس لانے کے لیے ٹیم کو بچا رہا ہوں۔ تم نے آج ٹیم کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ گڈو نے دونوں کے درمیان آ کر کہا، بس کرو، دونوں! ہم ایک دوسرے سے لڑیں گے تو مامو جیت جائے گا۔ مگر اس کی آواز میں وہ ہنسی نہیں تھی جو ہمیشہ ہوتی تھی۔

رضوان نے آخر کار آہستہ سے کہا، میں نے اس آدمی کو پہلے بھی دیکھا ہے۔ سب اس کی طرف متوجہ ہو گئے۔ رضوان نے کہا، احمد کے غائب ہونے سے ایک شام پہلے، یہی آدمی ماسٹر صادق کی دکان کے باہر کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک لفافہ تھا۔ ماسٹر صادق نے سر ہلایا اور دکان کا شٹر بند کر دیا۔ میں نے اس وقت کچھ نہیں کہا، کیونکہ مجھے لگا کہ یہ کسی گاہک کا کام ہے۔ مگر اب مجھے لگتا ہے کہ وہ لفافہ قرض کی آخری وارننگ تھی۔

ولید نے رضوان کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ تم نے اب بتا دیا۔ یہی کافی ہے۔ مگر سلمان نے اپنا کٹ بیگ اٹھایا اور گراؤنڈ سے باہر نکل گیا۔ اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ گڈو نے آواز دی، سلمان! مگر سلمان رکا نہیں۔

شام کو کوچ رانا کے گھر کے دروازے پر ایک لفافہ چھوڑا گیا۔ اس پر ٹورنامنٹ کمیٹی کی مہر تھی۔ خط میں لکھا تھا کہ ٹیم کو اگلی صبح دس بجے سماعت کے لیے بلایا گیا ہے۔ شکایت ہے کہ کھلاڑی نے مہمان کو دھمکی دی ہے۔ فیصلہ نااہلی بھی ہو سکتا ہے۔

ولید خط پڑھ کر باہر نکلا۔ گلی کے دوسری طرف، سڑک کی روشنی کے نیچے، سلمان کھڑا تھا۔ اس کے سامنے سنہری گھڑی والا آدمی تھا۔ وہ کچھ کہہ رہا تھا، اور سلمان سن رہا تھا۔ وہ نہ جا رہا تھا، نہ بول رہا تھا۔ ولید نے پکارا، سلمان! مگر سلمان نے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اور اسی لمحے، سڑک کے سرے پر کالی گاڑی کی ہیڈلائٹس روشن ہو گئیں۔