Episode 8
فون کی آخری آواز

ولید نے احمد کا فون اپنی مٹھی میں اتنی زور سے پکڑ رکھا تھا کہ اس کی انگلیاں سفید پڑ گئی تھیں۔ فون مردہ تھا، ٹھنڈا تھا، مگر ولید کو لگ رہا تھا جیسے اس کے اندر احمد کی سانس ابھی بھی کہیں چھپی ہوئی ہو۔ اسٹیشن کی سڑک کے پار کالی گاڑی کی ہیڈلائٹس جل رہی تھیں، اور ان کی روشنی میں ولید کو اپنا ہی سایہ اجنبی لگ رہا تھا۔
گڈو نے اس کا بازو کھینچا۔ چلو، یہاں کھڑے مت رہو۔ بھیڑ میں گھس جاؤ۔ بھیڑ ہی ہماری چھپنے کی جگہ ہے۔
پانچوں دوست بھیڑ میں گھس گئے۔ سلمان بار بار پیچھے مڑ کر دیکھ رہا تھا، اس کی مٹھیاں بند تھیں۔ کوچ رانا نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور آہستہ سے کہا، پیچھے مت دیکھو، بیٹا۔ جو بار بار پیچھے دیکھتا ہے، وہ آگے کی ٹھوکر کھاتا ہے۔
رضوان سب سے پیچھے چل رہا تھا۔ اس کی جیب میں بس کا آدھا پھٹا ٹکٹ تھا، اور اس کے دل میں وہی پرانا سوال تھا جو اسے راتوں کو جگاتا تھا۔ اگر اس نے پہلے دن ہی سب کچھ بتا دیا ہوتا، تو کیا احمد کو چھپنا پڑتا؟
بازار کی تنگ گلیوں میں پہنچ کر گڈو رکا اور سانس لیتے ہوئے بولا، میرا کزن بلال یہیں قریب دکان چلاتا ہے۔ موبائل مرمت کی دکان۔ مردہ فون کو زندہ کرنا اسی کا کام ہے۔
بلال کی دکان چھوٹی سی تھی، مگر اس کی میز پر چارجر، بیٹریاں اور کھلے ہوئے فون بکھرے پڑے تھے۔ اس نے فون ہاتھ میں لیا، چارجر لگایا اور سر ہلایا۔ بیٹری پھول گئی ہے، اور چارجنگ کی پن بھی ٹوٹی ہوئی ہے۔ یہ آہستہ چارج ہوگا۔ شام تک چھوڑ دو۔ مگر ایک بات یاد رکھنا، اگر بیٹری پوری طرح مر گئی، تو اس کے اندر کی چیزیں بھی جا سکتی ہیں۔
ولید کا دل ڈوب گیا۔ مطلب ہم احمد کی آواز بھی کھو سکتے ہیں؟
بلال نے نرمی سے کہا، کوشش کروں گا کہ ایسا نہ ہو۔ تم لوگ جاؤ، میں اسے اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔
---
اگلی صبح کوچ رانا نے نیٹ پر سب کو جلدی بلا لیا تھا۔ فائنل کی تیاری نہیں رکے گی، انہوں نے کہا۔ چاہے فون زندہ ہو یا مردہ، چاہے کالی گاڑی گلی میں کھڑی ہو یا نہ ہو، ہماری تیاری رکے گی نہیں۔
آخری اوور کی مشق تھی۔ چھ گیندیں، آٹھ رن درکار، دو وکٹیں باقی۔ سلمان گیند تھامے کھڑا تھا، ولید بلے کے ساتھ تیار تھا، گڈو وکٹ کے پیچھے تھا، اور رضوان گہری فیلڈ میں کھڑا تھا، جہاں کل اس نے آسان کیچ چھوڑ دیا تھا۔
پہلی گیند — سلمان نے یورکر ڈالی، ولید کا بلا چوکا، ڈاٹ۔
دوسری گیند — سلوور، ولید جلدی کھیل گیا، سنگل۔
تیسری گیند — گڈو نے گیند کو ہوا میں اچھال دیا۔ گیند اوپر گئی، اوپر، اور رضوان کی طرف گرنے لگی۔ ایک لمحے کے لیے پورا گراؤنڈ خاموش ہو گیا۔ رضوان نے دو قدم آگے بڑھائے، ہاتھ پھیلائے، اور گیند اس کی ہتھیلیوں میں آ گری۔
محلے کے بچوں نے تالیاں بجائیں۔ رضوان کے چہرے پر پہلی بار کئی دنوں کے بعد ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔ گڈو چیخا، یہ ہوا کیچ! اب بتاؤ، کون کہتا ہے رضوان کیچ چھوڑتا ہے؟
آخری گیند پر سلمان نے پھر یورکر کی کوشش کی، مگر گیند اس کے ہاتھ سے پھسل کر فل ٹاس ہو گئی۔ ولید نے چوکا لگا دیا۔ مشق جیت گئے۔ مگر کوچ رانا نے تالی نہیں بجائی۔ انہوں نے صرف اتنا کہا، یہ مشق تھی، فائنل نہیں۔ فائنل میں آخری گیند پر یورکر ڈالنے والا ہاتھ احمد کا ہے، اور وہ ہاتھ ابھی ہمارے پاس نہیں ہے۔
کسی نے جواب نہیں دیا۔ کیونکہ سب جانتے تھے کہ کوچ سچ کہہ رہے ہیں۔
---
شام کو جب وہ بلال کی دکان پر پہنچے، تو بلال کا چہرہ دیکھ کر ہی پتا چل گیا کہ کچھ ہوا ہے۔
فون زندہ ہو گیا ہے، اس نے سرگوشی میں کہا۔ مگر زیادہ دیر کے لیے نہیں۔ بیٹری صرف چند منٹ چلے گی۔ جلدی دیکھو، جو دیکھنا ہے۔
فون کی اسکرین روشن ہوئی۔ سب سے پہلے لاک اسکرین کی تصویر دکھائی دی — احمد اور اس کے ابو ماسٹر صادق درزی کی دکان میں کھڑے تھے، ماسٹر صادق کے گلے میں ناپنے والا فیتہ تھا، اور دونوں مسکرا رہے تھے۔ ولید کا گلا بھر آیا۔ یہ تصویر اس دن کی تھی جب احمد نے کہا تھا کہ ایک دن وہ ابو کی دکان کے اوپر اپنا نام لکھوائے گا۔
ولید نے وہی پیٹرن کھینچا جو احمد ان سب کے سامنے ہزار بار کھینچ چکا تھا۔ فون کھل گیا۔
گیلری میں آخری تصویر ریلوے گراؤنڈ کی تھی، رات کی۔ تصویر دھندلی تھی، مگر اس میں سفید شلوار والا آدمی صاف دکھائی دے رہا تھا، اور اس کی کلائی پر سنہری گھڑی چمک رہی تھی۔ کال لاگ میں ابو کی گیارہ مسڈ کالیں تھیں۔ آخری کال کوچ رانا کو کی گئی تھی، جو اٹھائی نہیں گئی تھی۔
اور پھر گڈو کو وائس ریکارڈر میں ایک فائل ملی۔ صرف اڑتیس سیکنڈ کی۔
بلال نے کہا، چلاؤ، مگر آواز دھیمی رکھو۔
گڈو نے فائل چلائی۔
پہلے ٹرین کی دور کی آواز آئی، پھر احمد کی آواز۔ تھکی ہوئی، مگر صاف۔
ولید... اگر تم یہ سن رہے ہو تو میں ٹھیک ہوں۔ میں تم سے نہیں بھاگا، میں ایک فیصلے سے بھاگا ہوں۔ مامو نے کہا تھا، فائنل میں خراب گیند بازی کرو، ورنہ ابو کو تین لاکھ دینے پڑیں گے۔ میں نے انکار کر دیا۔ میں نے ثبوت ایسی جگہ چھپایا ہے جہاں صرف تم...
آواز رک گئی۔ اسکرین سیاہ ہو گئی۔
بلال نے فون کو ہلایا، چارجر بدلا، مگر فون نے آنکھ نہیں کھولی۔ بیٹری پھر مر گئی، اس نے کہا۔ کل نئی بیٹری لگے گی۔ تبھی باقی آواز سنی جا سکے گی۔
رضوان نے آہستہ سے کہا، اس نے کہا، میں ٹھیک ہوں۔ وہ ٹھیک ہے۔ یہی کافی ہے، ہے نا؟
مگر ولید نے جواب نہیں دیا۔ اس کے کانوں میں احمد کی آخری آدھی بات گونج رہی تھی — جہاں صرف تم... صرف تم کیا؟
تبھی بلال نے دروازے کی طرف دیکھا اور سرگوشی میں کہا، ایک بات اور ہے۔ ایک آدمی ایک گھنٹہ پہلے آیا تھا۔ اس نے پوچھا تھا — کوئی مردہ فون چارج کروانے آیا ہے؟
پانچوں دوستوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔
اور اسی لمحے دکان کے باہر سڑک پر ہیڈلائٹس کی روشنی پھیلی۔
کالی گاڑی واپس آ گئی تھی۔