← آخری اوور · All episodes

Episode 7

کالی گاڑی اور لاکر نمبر ۱۴

کالی گاڑی اور لاکر نمبر ۱۴

کالی گاڑی گیٹ پر رکی رہی۔ انجن چل رہا تھا، مگر کوئی باہر نہیں نکلا۔

پانچوں دوست گراؤنڈ کے بیچ میں کھڑے تھے، اور ان کے ہاتھ میں وہ پرانی تصویر تھی — ایک طرف نوجوان رانا اقبال، دوسری طرف نوجوان مامو سکندر، کلائی پر سنہری گھڑی۔

"یہ گاڑی یہاں کیوں رکی ہے؟" گڈو نے سرگوشی میں پوچھا۔ "یہ ہمیں دیکھ رہی ہے یا... ہم اسے دیکھ رہے ہیں؟"

"دونوں،" سلمان نے دانت پیستے ہوئے کہا، اور ایک قدم آگے بڑھا۔

"سلمان!" کوچ رانا نے اس کا بازو پکڑ لیا۔ "رکو۔ غصہ آج تمہیں نہیں، مجھے آنا چاہیے تھا — اٹھائیس سال پہلے۔ مگر میں نے غصے سے نہیں، خاموشی سے ہار مانی تھی۔ آج تم وہ غلطی مت کرنا۔"

گاڑی کا شیشہ آہستہ سے نیچے ہوا۔ ڈرائیور کی سیٹ پر ایک آدمی بیٹھا تھا — سفید شلوار، صاف ستھرا چہرہ، اور ہونٹوں پر وہی ہلکی سی مسکراہٹ جو تصویر میں مامو سکندر کے چہرے پر تھی۔

"رانا صاحب،" اس نے نرمی سے کہا، "مامو صاحب کا سلام ہے۔ وہ کہتے ہیں — پرانی تصویریں دھول میں ہی اچھی لگتی ہیں۔ نکالو گے تو صرف دھول اڑے گی۔ اور دھول... بچوں کی آنکھوں میں بھی جاتی ہے۔"

"یہ دھمکی ہے؟" ولید نے پوچھا۔

"یہ نصیحت ہے، کپتان صاحب،" آدمی نے مسکرا کر کہا۔ "فائنل قریب ہے۔ ٹیم کو فائنل پر دھیان دینا چاہیے، پرانی کہانیوں پر نہیں۔ ویسے... آپ کا دوست احمد کہاں ہے؟ سنا ہے وہ بھی پرانی کہانیاں بہت پڑھتا تھا۔"

رضوان کا چہرہ سفید پڑ گیا۔

آدمی نے شیشہ اوپر کیا، گاڑی مڑی، اور دھول اڑاتی ہوئی چلی گئی۔

"وہ جانتا ہے،" گڈو نے کہا۔ "وہ جانتا ہے کہ ہم جانتے ہیں۔"

"اور اب وہ یہ بھی جانتا ہے کہ ہم ڈرے نہیں،" کوچ نے کہا، اور ان کی آواز میں وہ سختی واپس آ گئی جو برسوں پہلے ریلوے گراؤنڈ پر کھو گئی تھی۔ "سنو، بچو۔ مامو نے مجھے ۱۹۹۸ میں بھی یہی پیغام بھیجا تھا — چپ رہو، ورنہ۔ آج اس کا آدمی خود آیا ہے۔ مطلب ہم صحیح راستے پر ہیں۔"

---

دوپہر کو نیٹ پر پریکٹس میچ تھا — محلے کی ایک گلی ٹیم کے خلاف۔ کوچ نے کہا تھا: فائنل کی تیاری نہیں رکے گی، چاہے کچھ بھی ہو۔

"احمد کے بغیر ہماری بولنگ آدھی ہے،" سلمان نے گیند کو ٹیپ سے رگڑتے ہوئے کہا۔ "مگر آدھی ٹیم بھی پوری جان لگائے گی۔"

میچ شروع ہوا۔ ولید نے اوپننگ میں دو چوکے لگائے، پھر ایک سلوور پر بولڈ ہو گیا۔ گڈو نے وکٹ کے پیچھے سے سب کو ہنسایا بھی اور سنبھالا بھی — ایک بلے باز کو اسٹمپ کیا، دوسرے کو رن آؤٹ کے لیے للکارا۔ سلمان نے پہلی ہی گیند پر یورکر مارا — بلے باز کا بلا چوکا، ڈاٹ۔ دوسری گیند فل ٹاس ہو گئی، ایک رن۔ تیسری پر سلوور — بلے باز جلدی کھیل گیا، سنگل۔

مگر آخری اوور میں پھر وہی ہوا — رضوان نے ایک آسان کیچ چھوڑ دیا، اور گلی ٹیم نے میچ دو رن سے جیت لیا۔

"ہم ہار گئے،" رضوان نے سر جھکا کر کہا۔

"نہیں،" ولید نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ "ہم نے احمد کے بغیر کھیلا، اور آخری گیند تک لڑے۔ یہ ہار نہیں، تیاری ہے۔"

اور پھر، کٹ بیگ سمیٹتے ہوئے، ولید رک گیا۔

اس کے اپنے کٹ بیگ کے اندر، بلے کے نیچے، ایک چھوٹی سی پرچی رکھی تھی۔ سفید کاغذ، احمد کی لکھائی۔

"ریلوے اسٹیشن۔ لاکر نمبر ۱۴۔ چابی... تم جانتے ہو کہاں ہے۔"

"یہ کب آئی؟" گڈو نے چیخ کر پوچھا۔ "یہ تو صبح نہیں تھی! میں نے تمہارا بیگ صبح کھولا تھا — اس میں صرف بلے اور دستانے تھے!"

"مطلب کوئی ہمارے بیگ تک پہنچا ہے،" سلمان نے کہا۔ "کالی گاڑی والا؟ یا... احمد خود؟"

"چابی تم جانتے ہو کہاں ہے،" ولید نے پرچی دوبارہ پڑھی۔ "احمد کی چابی... اس کی پرانی کٹ بیگ کی جیب میں ہمیشہ ایک چھوٹی سی چابی رہتی تھی۔ وہ بیگ تو گراؤنڈ پر ملا تھا — اس کی جیب میں؟"

کوچ نے سر ہلایا۔ "احمد کا پرانا بیگ ابھی بھی میرے کمرے میں ہے۔ چلو۔"

کمرے میں، بیگ کی اندرونی جیب میں واقعی ایک چھوٹی سی چابی تھی — اور اس کے ساتھ ایک اور پرچی، جس پر صرف ایک لفظ لکھا تھا: "جلدی۔"

---

شام کو ریلوے اسٹیشن پر رش تھا۔ لاکر نمبر ۱۴ ایک کونے میں تھا، زنگ آلود مگر مضبوط۔ ولید کے ہاتھ کانپ رہے تھے جب اس نے چابی گھمائی۔

لاکر کھلا۔

اندر دو چیزیں تھیں۔

ایک — احمد کا موبائل فون، بند، بیٹری ختم۔

دوسرا — بس کا ٹکٹ، پرانے شہر کی طرف کا، آدھا پھٹا ہوا۔

"فون بند ہے،" گڈو نے کہا۔ "اور ٹکٹ... پرانا شہر؟ احمد پرانے شہر کیوں جاتا؟"

"کیونکہ وہاں کوئی اسے نہیں جانتا،" رضوان نے آہستہ سے کہا۔ "چھپنے کے لیے سب سے اچھی جگہ وہی ہوتی ہے جہاں کوئی تمہیں ڈھونڈنے نہ آئے۔"

ولید نے ٹکٹ الٹا۔ پیچھے، احمد کی لکھائی میں، ایک اور جملہ تھا:

"فون میں جواب ہے۔ مگر جواب سننے سے پہلے... یہ یاد رکھنا کہ میں نے تمہیں کیوں نہیں بتایا۔"

"کیوں نہیں بتایا؟" سلمان نے پوچھا۔

کوئی جواب نہیں آیا۔ کیونکہ اسی لمحے گڈو نے کھڑکی کے باہر دیکھا۔

اسٹیشن کی سڑک کے پار، ہیڈلائٹس جلائے، ایک کالی گاڑی کھڑی تھی۔

وہ انہیں دیکھ رہی تھی۔