← زب: دوسری دنیا کا دوست · All episodes

Episode 9

چھت پر چاند کی روشنی!

چھت پر چاند کی روشنی!

صبح کی پہلی روشنی اسٹور روم کی چھوٹی سی کھڑکی سے اندر آئی تو زِب کی آنکھیں کھل گئیں۔ اس کا بخار رات سے کچھ کم تھا، مگر اس کا دل اب بھی بھاری تھا۔ اس نے اپنی کلائی کی پٹی کو دیکھا اور بہت آہستہ سے کہا، “امی جان، میں ٹھیک ہو رہا ہوں۔ آپ فکر نہ کریں۔”

اس کی آواز میں اتنی یاد تھی کہ دانش کا دل بھر آیا۔ دانش نے بھی اپنے ابو کو یاد کیا۔ دبئی بہت دور تھا، اور ویڈیو کال کا کوئی وعدہ آج نہیں تھا۔

“زِب، دیکھو!” دانش نے کہا اور کلائی کی پٹی کی طرف اشارہ کیا۔

پٹی پر اب پانچ چھوٹے چاند چمک رہے تھے۔ ایک چاند رات کو بجھ گیا تھا۔

“پانچ دن رہ گئے ہیں،” دانش نے آہستہ سے کہا۔ “گول مول کا دروازہ بند ہونے میں پانچ دن رہ گئے ہیں۔”

زِب نے سر ہلایا۔ “پانچ چاند۔ پانچ راتیں۔ پھر… پھر دروازہ بند۔” اس نے اپنی چھوٹی سی چار انگلیوں والی مٹھی بند کی۔ “آج چاند پتر کو چارج ہونا ہی ہوگا۔”

امی ناشتے کے لیے بلانے آئیں۔ انہوں نے زِب کی پیشانی کو چھوا اور مسکرائیں۔ “بخار کم ہے۔ شاباش، میرے بہادر مہمان! مگر اصول یاد ہیں نا؟”

“جی، امی صاحبہ!” زِب نے سیدھا کھڑے ہو کر کہا، جیسے وہ اسکول میں کھڑا ہو۔ “چاچا رشید کو کچھ نہیں بتانا۔ گھر سے باہر نہیں جانا۔ اور روز ایک صحیح اردو لفظ سیکھنا!”

“آج کا لفظ ہے روشنی،” امی نے کہا۔ “روشنی کا مطلب ہے وہ چمک جو اندھیرے کو ہرا دیتی ہے۔”

زِب نے لفظ کو منہ میں گھمایا۔ “روشنی! روشنی! میری کلائی کی پٹی میں بھی روشنی ہے! دانش کی مسکراہٹ میں بھی روشنی ہے! اور آپ کی کھچڑی میں بھی… روشنی ہے!”

امی ہنس پڑیں۔ “کھچڑی میں روشنی نہیں ہوتی، زِب۔”

“ہوتی ہے!” زِب نے کہا۔ “جب میں بیمار تھا، آپ کی کھچڑی نے مجھے گرم رکھا۔ وہی روشنی ہے!”

دانش ہنسا، مگر اس کی ہنسی کے پیچھے فکر تھی۔ چاند پتر ابھی تک چارج نہیں ہوا تھا۔ گھنٹی کوائل جہاز میں لگی ہوئی تھی، مگر جہاز تبھی اڑ سکتا تھا جب چاند پتر میں چاند کی روشنی بھر جائے۔

دن بہت آہستہ گزرا۔ زِب نے روشنی لفظ کو ہر چیز پر لگایا۔ اس نے بلی میڈم کو دیکھا جو کھڑکی کے پاس بیٹھی اپنی دم ہلا رہی تھی، اور کہا، “میڈم، تمہاری آنکھوں میں بھی روشنی ہے۔ مگر تم میری روشنی چوری نہ کرنا!”

میڈم نے اسے گھورا، پھر ایک دم چھلانگ لگا کر اسٹور روم سے باہر نکل گئی، جیسے وہ کہہ رہی ہو کہ اسے زِب کی باتوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

دوپہر کو امی نے دانش کو پاس بلایا۔ “سنو،” انہوں نے آہستہ سے کہا، “آج رات چاند صاف نکلے گا۔ میں نے موسم دیکھا ہے۔ ہم چاند پتر کو چھت پر رکھیں گے۔ مگر احتیاط سے۔ زِب چھت پر جا سکتا ہے، گلی میں نہیں۔ اور کوئی شور نہیں۔”

“امی، چاند پتر جہاز میں ہے،” دانش نے کہا۔ “وہ آم کے درخت میں اٹکا ہے۔”

“پھر ہم اسے شام کو اتاریں گے، جب چاچا رشید گھر چلے جائیں گے،” امی نے کہا۔ “اور ان کی نوٹ بک کو ہاتھ بھی نہیں لگانا۔ وہ شاخ میں اٹکی رہے گی۔”

شام ڈھلتے ہی دانش آم کے درخت کے پاس گیا۔ جہاز شاخوں کے درمیان چھپا ہوا تھا، گول اور چھوٹا، جیسے درخت نے اسے اپنی گود میں رکھ لیا ہو۔ دانش نے احتیاط سے ہاتھ بڑھایا اور چاند پتر کو نکالا۔ وہ ایک چپٹی، گول پلیٹ تھی، ٹھنڈی اور بھاری، اور اس کا رنگ بجھا ہوا سرمئی تھا۔ اس میں روشنی کی ایک کرن بھی نہیں تھی۔

“تم بالکل خالی ہو،” دانش نے سرگوشی کی۔ “مگر آج رات چاند تمہیں بھر دے گا۔”

زِب چھت کی سیڑھیوں پر چپ چاپ کھڑا تھا، کمبل اوڑھے ہوئے۔ جیسے ہی دانش نے چاند پتر اسے دیا، اس کی چار انگلیوں نے پلیٹ کو چھوا اور پلیٹ ہلکی سی گرم ہو گئی۔

“یہ مجھے پہچانتی ہے!” زِب نے حیرت سے کہا۔ “یہ گول مول کی چیز ہے۔ یہ میری انگلیوں کی روشنی کو جانتی ہے!”

رات کو چاند نکلا۔ پہلے وہ ایک ہلکی سی کرن تھا، پھر پورا چاند صاف آسمان میں چمکنے لگا۔ امی نے چھت پر ایک صاف ٹرے رکھی اور دانش نے چاند پتر کو اس پر رکھ دیا۔ تینوں چپ چاپ بیٹھ گئے۔

پہلے کچھ نہیں ہوا۔ پلیٹ ویسی ہی بجھی ہوئی رہی۔ دانش کا دل ڈوبنے لگا۔

“صبر کرو،” امی نے کہا۔ “روشنی کو وقت چاہیے۔”

زِب نے اپنی آنکھیں بند کیں اور بہت آہستہ سے گول مول کا گانا گنگنانا شروع کیا۔ وہ گانا گول تھا، نرم تھا، اور اس میں اس کی امی جان کی آواز کی یاد تھی۔ جیسے ہی اس نے گانا گایا، چاند پتر کے کنارے پر ایک ہلکی سی نیلی لکیر چمکی۔ پھر ایک اور لکیر۔ پھر پوری پلیٹ ہلکی ہلکی چمکنے لگی، جیسے چاند نے اس میں اپنا عکس ڈال دیا ہو۔

“دیکھو!” دانش نے سرگوشی کی۔ “چارج ہو رہا ہے!”

امی نے زِب کے سر پر ہاتھ رکھا۔ زِب نے آنکھیں کھولیں۔ اس کی آنکھوں میں چمکتی بوندیں تھیں۔

“امی جان،” اس نے کہا، “آپ سن رہی ہیں؟ میں گھر آ رہا ہوں۔”

دانش نے آسمان کی طرف دیکھا اور اپنے ابو کو یاد کیا۔ “ابو،” اس نے دل میں کہا، “کاش آپ بھی یہ روشنی دیکھ سکتے۔”

اسی وقت گلی میں ایک آواز آئی — “کھٹ! کھٹ!”

دانش نے نیچے جھانکا۔ چاچا رشید واپس آ گئے تھے! ان کے ہاتھ میں سیڑھی تھی، سر پر ٹارچ تھی، اور گلے میں کیمرا لٹکا تھا۔

“آج میری نوٹ بک بھی ملے گی،” چاچا رشید بڑبڑائے، “اور ایلین کی تصویر بھی! چاند کی روشنی میں ایلین ضرور باہر آئے گا!”

انہوں نے سیڑھی کو آم کے درخت سے لگایا اور اوپر چڑھنے لگے۔ ان کی ٹارچ کی روشنی شاخوں میں گھوم رہی تھی۔

“چپ!” امی نے سرگوشی کی اور چاند پتر کو کمبل سے ڈھانپنے لگیں، مگر دیر ہو چکی تھی۔ چاچا رشید نے چھت کی طرف دیکھا اور ان کی آنکھیں پھیل گئیں۔

“روشنی!” وہ چلائے۔ “چھت پر نیلی روشنی! ایلین! ایلین آ گیا!”

انہوں نے کیمرا اٹھایا۔ اسی وقت سیڑھی ہل گئی۔

“اوئے!” چاچا رشید چلائے۔ سیڑھی ایک طرف جھک گئی۔ ان کا ایک پاؤں ہوا میں رہ گیا۔ ٹارچ گر گئی۔ کیمرا ان کے گلے میں جھولنے لگا۔

دانش نے چیخ روک لی۔ چاچا رشید گرنے والے تھے!

زِب نے ایک لمحہ بھی نہیں سوچا۔ اس نے کمبل پھینکا، چھت کے کنارے کی طرف بھاگا، اور اپنے دونوں چھوٹے نیلے ہاتھ آگے بڑھائے۔ اس کے ہاتھوں سے نیلی روشنی نکلی اور سیڑھی کو تھام لیا، جیسے روشنی کی رسی نے سیڑھی کو باندھ دیا ہو۔

چاچا رشید ہوا میں لٹکے رہے، پھر آہستہ آہستہ نیچے آئے اور زمین پر بیٹھ گئے۔ ان کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ ان کا کیمرا ان کے ہاتھ میں تھا۔

سب خاموش ہو گئے۔

چاچا رشید نے اوپر دیکھا۔ چاند کی روشنی میں انہوں نے زِب کو دیکھا — چھوٹا، نیلا، چمکتے ہاتھوں والا بچہ، چھت پر کھڑا۔

“تم…” چاچا رشید نے ہکلاتے ہوئے کہا۔ “تم واقعی ہو؟ تم… تم نے مجھے بچایا؟”

زِب نے اپنے ہاتھ پیچھے چھپا لیے، مگر اس کی چمک چھپ نہیں سکی۔

“میں… میں زِب ہوں،” اس نے کہا۔ “میں برا ایلین نہیں ہوں۔ میں اسکول کا بچہ ہوں۔”

چاچا رشید نے اپنے کیمرے کو دیکھا۔ اس کی چھوٹی سی اسکرین پر تصویر تھی — نیلی روشنی، چمکتے ہاتھ، اور زِب کا چہرہ، بالکل صاف۔

انہوں نے کیمرا اوپر اٹھایا اور ان کی آواز کانپ رہی تھی۔ “ثبوت! مجھے ثبوت مل گیا! کل صبح پورا محلہ دیکھے گا! پورا شہر دیکھے گا! میں مشہور ہو جاؤں گا!”

دانش کا دل ڈوب گیا۔ “چاچا، رک جائیں! پلیز!”

مگر چاچا رشید نے سنا نہیں۔ وہ سیڑھی سمیٹ کر گلی میں بھاگنے لگے، کیمرا سینے سے لگائے ہوئے۔

اور اسی وقت چاند کے سامنے ایک بادل آ گیا۔ چھت پر چاند پتر کی نیلی چمک ٹمٹمائی، پھر مدھم ہو گئی، پھر بجھ گئی۔

زِب نے خالی پلیٹ کو دیکھا، پھر بھاگتے ہوئے چاچا رشید کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں چمکتی بوندیں بھر آئیں۔

“چاند پتر آدھا چارج ہوا ہے،” اس نے سرگوشی کی۔ “اور راز… راز اب چاچا رشید کے کیمرے میں ہے!”

امی نے دانش کا ہاتھ تھام لیا۔ دانش نے زِب کا ہاتھ تھاما۔

نیچے گلی میں میڈم بلی بیٹھی تھی، اپنی دم ہلا رہی تھی، جیسے وہ جانتی ہو کہ اصل مشکل ابھی شروع ہوئی ہے۔ اور چاچا رشید کے گھر کی کھڑکی سے کیمرے کی روشنی بار بار چمک رہی تھی — “کلک! کلک! کلک!”