← زب: دوسری دنیا کا دوست · All episodes

Episode 8

امی کو سچ پتا چل گیا!

امی کو سچ پتا چل گیا!

اسٹور روم میں ایسی خاموشی چھا گئی کہ زِب کی ہلکی سانس بھی سنائی دے رہی تھی۔ امی دروازے پر کھڑی تھیں۔ ان کی نظر پہلے دانش پر تھی، پھر کمبل کے نیچے چمکتی ہوئی چھوٹی سی شکل پر۔ کمبل کے نیچے سے دو بڑی، چمکتی آنکھیں انہیں دیکھ رہی تھیں۔

دانش کا دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا کہ اسے لگا، امی کو بھی سنائی دے رہا ہوگا۔

“امی،” اس نے جلدی سے کہا، “میں سچ بتاتا ہوں۔ یہ… یہ کوئی کھلونا نہیں ہے۔ یہ زِب ہے۔ یہ ایک بچہ ہے۔ آسمان سے گرا ہوا بچہ۔”

امی ایک قدم پیچھے ہٹ گئیں۔ ان کا ہاتھ ان کے منہ پر چلا گیا۔ “نیلا؟ چمکتا ہوا؟ دانش، یہ کیا ہے؟”

“یہ ایلین ہے، امی!” دانش نے کہا۔ “مگر اچھا والا ایلین! یہ ہمیں نقصان نہیں پہنچاتا۔ یہ بیمار ہے!”

اسی وقت کمبل تھوڑا سا ہلا۔ زِب نے اپنا چھوٹا سا نیلا چہرہ باہر نکالا۔ اس کے گالوں پر چمکتی بوندیں تھیں، اور اس کی آنکھیں اتنی بڑی تھیں کہ ان میں پورا اسٹور روم سما جائے۔

“نمسکار، امی صاحبہ،” زِب نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا۔ “میرا نام زِب ہے۔ میں چور نہیں ہوں۔ میں اسکول کا بچہ ہوں۔ میرا گھر… میرا گھر گول مول ہے۔ بہت دور والا گول گھر۔”

پھر اسے ہچکی آئی — “بلپ!” — اور اس کے منہ سے ایک چھوٹا سا چمکتا بلبلہ نکلا جو ہوا میں تیرتا ہوا اوپر گیا اور “پُف!” کر کے غائب ہو گیا۔

امی نے بلبلے کو دیکھا، پھر زِب کو دیکھا۔ ان کے چہرے پر ڈر تھا، مگر ڈر کے پیچھے ممتا بھی تھی۔

“امی، دیکھیں نا!” دانش نے کہا۔ “اسے بخار ہے! چمکتا ہوا بخار! اسے زمینی جراثیم لگ گئے ہیں!”

امی آہستہ آہستہ قریب آئیں۔ انہوں نے ہاتھ بڑھایا اور زِب کی پیشانی کو چھوا۔ پیشانی گرم تھی، بہت گرم۔ زِب ذرا سا سکڑ گیا، مگر بھاگا نہیں۔

“اتنا بخار!” امی نے فکر سے کہا۔ “اور یہ بچہ کانپ رہا ہے!”

زِب کی آنکھوں سے دو چمکتے آنسو گرے۔ “مجھے معاف کریں، امی صاحبہ۔ میں نے آپ کا دودھ پیا۔ میں نے آپ کی روٹی کھائی۔ میں… میں بھوکا تھا۔”

امی رک گئیں۔ ان کی آنکھوں میں اچانک پہچان کی چمک آئی۔ “تو وہ تم تھے!” انہوں نے کہا۔ “دودھ کا گلاس خالی! پراٹھے غائب! رات کو گھنٹی کی آوازیں! میں سمجھتی تھی دانش نے کوئی پالتو جانور چھپایا ہے!”

“میں پالتو نہیں ہوں!” زِب نے جلدی سے کہا۔ “میں… میں مہمان ہوں! گول مہمان!”

“دانش،” امی نے سختی سے کہا، “تم نے مجھ سے اتنے دن جھوٹ بولا؟”

دانش نے سر جھکا لیا۔ “امی، مجھے ڈر تھا کہ آپ ناراض ہوں گی۔ یا… یا آپ اسے کہیں بھیج دیں گی۔ زِب کا جہاز آم کے درخت میں اٹکا ہے۔ اسے گھر جانا ہے۔ گول مول کا دروازہ بند ہونے میں اب صرف چھ دن رہ گئے ہیں۔”

“چھ دن؟” امی نے دہرایا۔

“جی،” دانش نے کہا۔ “اس کے جہاز کو چاند پتر چاہیے، جو ابھی تک چارج نہیں ہوا۔ اور گھنٹی کوائل ہم نے لگا لی ہے، مگر جہاز تبھی اڑے گا جب پورا چاند نکلے گا اور دروازہ کھلا ہوگا۔”

امی نے کیلنڈر دیکھا، پھر کانپتے ہوئے زِب کو دیکھا۔

“پہلے بخار،” امی نے فیصلہ کیا۔ ان کی آواز اب استانی والی نہیں، ماں والی تھی۔ “بیمار بچے کو پہلے آرام چاہیے، کہانی بعد میں۔ دانش، صاف کمبل لاؤ۔ اور تولیہ گیلا کرو۔”

دانش حیران رہ گیا۔ “امی، آپ… آپ ناراض نہیں ہیں؟”

“ناراض بعد میں ہوں گی،” امی نے کہا، مگر ان کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔ “پہلے یہ بچہ ٹھیک ہو جائے۔”

امی صاف کمبل، گرم دودھ اور نرم کھچڑی لے آئیں اور زِب کو سہارا دے کر بٹھایا۔

زِب نے دودھ کا پیالہ دیکھا اور اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ “چاند کا پانی! پھر سے!” اس نے ایک گھونٹ پیا اور پھر کھچڑی کی طرف دیکھا۔ “یہ کیا ہے؟ نرم… نرم بادل؟”

“یہ کھچڑی ہے،” امی نے ہنس کر کہا۔ “بیمار بچوں کا کھانا۔”

“کھچڑی!” زِب نے دہرایا۔ “نرم بادل والی کھچڑی! زمین کا کھانا بہت اچھا ہے!” اس نے چمچ اٹھایا اور کہا، “یہ چھوٹی کشتی ہے! بادل کی کشتی!”

امی ہنس پڑیں اور دانش نے لمبی سانس لی۔

کھاتے کھاتے دانش نے امی کو ساری کہانی سنا دی — آسمان سے گرتی روشنی، آم کے درخت والا جہاز، گھنٹی کوائل اور چاچا رشید۔

“چاچا رشید؟” امی نے سر ہلایا۔ “انہیں تو میں سنبھال لوں گی۔ مگر دانش، ایک بات سمجھ لو۔ اب یہ راز میرا بھی ہے۔ اور راز کے اصول ہوتے ہیں۔”

“اصول؟” دانش نے پوچھا۔

“پہلا اصول،” امی نے انگلی اٹھائی، “چاچا رشید کو کچھ پتا نہیں چلنا چاہیے۔ دوسرا اصول، زِب بخار اترنے تک گھر سے باہر نہیں جائے گا۔ اور تیسرا اصول…” وہ رک گئیں اور مسکرائیں۔ “تیسرا اصول یہ کہ زِب روز ایک صحیح اردو لفظ سیکھے گا۔ استانی کا حکم ہے!”

“میں سیکھوں گا!” زِب نے کہا۔ “آج کا لفظ… مہربانی! کیونکہ آپ مہربان ہیں!”

امی نے زِب کے سر پر ہاتھ پھیرا۔

اسی وقت زِب نے آہستہ سے کہا، “امی صاحبہ، میری امی جان… گول مول میں ہیں۔ جب میں بیمار ہوتا تھا، وہ گول گانا گاتی تھیں۔ مجھے ان کی بہت یاد آتی ہے۔”

اسٹور روم میں پھر خاموشی چھا گئی۔ دانش نے آہستہ سے کہا، “مجھے بھی ابو کی یاد آتی ہے۔ وہ دبئی میں ہیں۔ ویڈیو کال کبھی کبھی ہوتی ہے۔”

امی نے دونوں کو دیکھا — ایک زمینی بیٹا، ایک آسمانی مہمان — دونوں کسی دور بیٹھے اپنے پیارے کو یاد کر رہے تھے۔ انہوں نے دونوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے۔

“سنو، دونوں سنو،” انہوں نے نرمی سے کہا۔ “جب تک تم یہاں ہو، زِب، یہ گھر تمہارا بھی ہے۔ اور دانش، تمہارے ابو تم سے بہت پیار کرتے ہیں، چاہے وہ کتنے ہی دور ہوں۔ پیار فاصلے سے نہیں رکتا۔”

زِب نے سر ہلایا۔ اس کے آنسو اب بھی چمک رہے تھے، مگر اب وہ ڈر کے آنسو نہیں تھے۔ “آپ… آپ بھی امی جان جیسی ہیں،” اس نے سرگوشی کی۔

پھر امی نے وہی پرانی لوری گنگنائی جو وہ دانش کے بچپن میں گاتی تھیں۔ ان کی آواز نرم تھی، اور زِب کی چمک آہستہ آہستہ مدھم ہونے لگی۔ اس کا بخار اب بھی تھا، مگر اس کی سانس پرسکون ہو گئی۔ اس نے ایک اور ہچکی لی — “بلپ!” — اور ایک چھوٹا سا بلبلہ تیرتا ہوا امی کے ہاتھ پر جا کر “پُف!” ہوا۔ امی ہنس پڑیں۔

اسی وقت گلی میں سائیکل کی گھنٹی بجی — “ٹرن ٹرن!”

دانش کھڑکی کی طرف لپکا۔ “چاچا رشید!”

امی نے فوراً بتی مدھم کی اور زِب کو کمبل میں اچھی طرح لپیٹ دیا۔ “چپ! کوئی آواز نہیں!”

باہر چاچا رشید دروازے پر کھڑے تھے۔ “بھابی جی! بھابی جی! آپ نے میری نوٹ بک دیکھی؟ وہ آم کے درخت کی شاخ میں اٹکی ہے! اور آپ نے گھنٹی کی آواز سنی؟ ایلین کی گھنٹی!”

امی دروازے پر گئیں، بالکل پرسکون۔ “رشید بھائی، دانش کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ گھر میں کوئی گھنٹی نہیں بجی۔ شاید آپ کی اپنی سائیکل کی گھنٹی تھی۔ نوٹ بک کل دن میں اتار لینا۔ ابھی اندھیرا ہے، درخت پر مت چڑھنا!”

“مگر میرا ثبوت!” چاچا رشید نے کہا۔

“ثبوت کل بھی وہیں ہوگا،” امی نے مسکرا کر کہا۔ “جائیے، گھر جا کر چائے پیجیے۔”

چاچا رشید بڑبڑاتے ہوئے چلے گئے، مگر جاتے جاتے انہوں نے آم کے درخت کی طرف دیکھا۔ شاخ میں ان کی نوٹ بک ابھی تک اٹکی تھی، اور نیچے میڈم بلی بیٹھی اپنی دم ہلا رہی تھی، جیسے وہ سب کچھ جانتی ہو۔

امی اندر آئیں اور دروازہ بند کر دیا۔ “بچ گئے،” دانش نے سرگوشی کی۔

“ابھی نہیں،” امی نے کہا۔ “کل رات چاند اچھا نکلے گا۔ اگر زِب کا بخار اتر گیا، تو ہم چاند پتر کو چھت پر چارج کرنے کی کوشش کریں گے۔ چھ دن کم نہیں ہوتے، مگر ضائع بھی نہیں کرنے۔”

رات گہری ہو گئی۔ زِب سو گیا، اس کی چمک ہلکی اور پرسکون تھی۔ امی نے بتی بجھائی۔

“امی، شکریہ،” دانش نے کہا۔ “آپ دنیا کی سب سے اچھی امی ہیں۔”

“اور تم دنیا کے سب سے اچھے دوست ہو،” امی نے کہا۔ “زِب خوش قسمت ہے۔”

اسی وقت ایک نرم سی گھنٹی بجی — “ٹیں!” — چھینک نہیں تھی، یہ آواز زِب کی کلائی کی پٹی سے آئی تھی۔

دانش پلٹا۔ کلائی کی پٹی پر ایک چھوٹی سی گول روشنی تیر رہی تھی، اور اس میں چھ چھوٹے چاند بنے تھے۔ ایک چاند ہلکا ہلکا ٹمٹما رہا تھا۔

زِب کی آنکھیں کھل گئیں۔ اس نے سرگوشی کی، “امی جان…؟”

اور اسی وقت باہر گلی میں پھر گھنٹی بجی — “ٹرن ٹرن!” — اور کھڑکی پر ٹارچ کی روشنی گزری۔

چاچا رشید اندھیرے میں واپس آ گئے تھے — ہاتھ میں سیڑھی، سر پر ٹارچ — اور ان کی نظر آم کے درخت کی سب سے اونچی شاخ پر تھی!