Episode 7
زِب بیمار ہو گیا!

چاچا رشید کی سائیکل کی گھنٹی گلی میں گونجی — "ٹرن ٹرن!"
"ایلین کی گھنٹی بج گئی! میں آ رہا ہوں!" ان کی آواز آم کے درخت تک پہنچ رہی تھی۔
دانش کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ جہاز ابھی تک ہلکا ہلکا گنگنا رہا تھا — "ٹیں… ٹن… ٹیں!" — جیسے وہ اپنی خوشی میں گانا گا رہا ہو۔
"زِب! جہاز کو خاموش کرو!" دانش نے سرگوشی کی۔ "چاچا رشید آ رہے ہیں!"
زِب نے اپنی کلائی کی پٹی پر چاروں انگلیاں رکھیں اور دبایا۔ جہاز کی روشنیاں ایک ایک کر کے مدھم ہونے لگیں، مگر گنگناہٹ بند نہ ہوئی۔ زِب نے پھر دبایا۔ پھر پھر دبایا۔
"یہ… یہ رک کیوں نہیں رہا؟" زِب نے پریشانی سے کہا۔ "گھنٹی کوائل نئی ہے، اسے گانا پسند آ گیا ہے!"
دانش نے جلدی سے جہاز کا ڈھکن بند کیا اور اس پر خشک پتے ڈال دیے۔ مگر گانا پتوں کے نیچے سے بھی سنائی دے رہا تھا۔
اسی وقت چاچا رشید درخت کے نیچے پہنچ گئے۔ ان کی سائیکل کی ٹارچیں چمک رہی تھیں، نوٹ بک کھلی ہوئی تھی، اور سر پر ابھی تک وہ پرانا جوتا تھا جو کباڑی دکان میں ان کے سر پر آ گرا تھا۔
"درخت کے اندر!" وہ چیخے۔ "آواز درخت کے اندر سے آ رہی ہے!"
انہوں نے ٹارچ کی روشنی شاخوں میں گھمائی۔ روشنی جہاز کے چھپنے کی جگہ کے قریب سے گزری — اور اچانک ایک چھوٹی سی نیلی چمک دکھائی دی!
دانش نے سانس روک لی۔
مگر وہ نیلی چمک جہاز کی نہیں تھی — وہ میڈم بلی کی آنکھیں تھیں! میڈم شاخ پر بیٹھی اپنی آنکھیں چمکا رہی تھی، جیسے وہ چاچا رشید کو چِڑا رہی ہو۔
"میاؤں!" میڈم نے زور سے کہا۔
چاچا رشید اچھل پڑے۔ "بلی! تم یہاں کیا کر رہی ہو؟ کیا تم نے ایلین کو دیکھا؟"
میڈم نے اپنی دم ہلائی اور چھلانگ لگا کر نیچے اتر گئی۔ چاچا رشید اس کے پیچھے بھاگے، اور ان کا پاؤں ایک جڑ سے ٹکرا گیا — "دھڑام!" وہ گھاس پر گر گئے اور ان کی نوٹ بک اڑ کر درخت کی شاخ میں جا اٹکی۔
"میری نوٹ بک! میرا ثبوت!" وہ چیخ رہے تھے۔
دانش نے یہ موقع نہ گنوایا۔ اس نے زِب کا ہاتھ پکڑا اور دونوں چپکے سے گلی کی طرف بھاگے۔ پیچھے سے چاچا رشید کی آواز آ رہی تھی: "میں کل پھر آؤں گا! ایلین مجھ سے نہیں بچ سکتا!"
گھر پہنچ کر دانش نے اسٹور روم کا دروازہ بند کیا اور لمبی سانس لی۔ "بچ گئے!"
مگر زِب نے جواب نہ دیا۔ وہ ایک کونے میں سکڑ کر بیٹھ گیا تھا۔ اس کی بڑی آنکھیں آدھی بند تھیں، اور اس کے نیلے گالوں پر ہلکی ہلکی چمکتی بوندیں تھیں — جیسے چھوٹے چھوٹے ستارے۔
"زِب؟" دانش نے قریب جا کر پوچھا۔ "تم ٹھیک ہو؟"
زِب نے سر ہلایا، پھر زور سے چھینکا — "آہ… چھیں… ٹیں!"
چھینک کے ساتھ ایک چھوٹی سی گھنٹی کی آواز نکلی! اور چھینک کی پھوار میں چھوٹے چھوٹے چمکتے ذرے تھے، جیسے کسی نے ہوا میں چمکدار پاؤڈر بکھیر دیا ہو۔
"زِب! تمہاری چھینک بج رہی ہے!" دانش حیران رہ گیا۔
"مجھے… مجھے زمینی جراثیم لگ گئے ہیں،" زِب نے کمزور آواز میں کہا۔ "کباڑی دکان کی دھول… اور رات کی ٹھنڈی ہوا… گول مول میں ہمارے جراثیم گول ہوتے ہیں اور ہنستے ہیں۔ یہاں کے جراثیم… یہ چبھتے ہیں!"
اس نے پھر چھینکا — "چھیں… ٹن!" — اور اس بار اس کے ہاتھ بھی ہلکے ہلکے چمکنے لگے۔
دانش نے اس کی پیشانی کو چھوا۔ وہ گرم تھی — بہت گرم، اور اس کی چمک بڑھتی جا رہی تھی۔
"تمہیں بخار ہے، زِب!" دانش نے فکر سے کہا۔ "چمکتا ہوا بخار!"
زِب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے — اور وہ آنسو بھی چمک رہے تھے۔ "دانش… اگر میں بیمار رہا تو… تو کیا میں گھر نہیں جا سکوں گا؟ گول مول کا دروازہ…"
"بند ہونے میں اب سات دن رہ گئے ہیں،" دانش نے آہستہ سے کہا۔ کیلنڈر کی طرف دیکھتے ہوئے اس کا دل ڈوب گیا۔ سات دن — اور چاند پتر ابھی تک پوری طرح چارج نہیں ہوا تھا، اور اب زِب بیمار تھا۔
"فکر مت کرو،" دانش نے زِب کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ "ہم تمہارا خیال رکھیں گے۔ پہلے بخار، پھر چاند پتر۔ ایک ایک کر کے سب ہو جائے گا۔"
زِب نے کمزور سی مسکراہٹ دی۔ "تم… تم میرے زمینی ڈاکٹر ہو؟"
"ہاں!" دانش نے کہا۔ "اور ڈاکٹر کا پہلا حکم ہے — گرم دودھ اور کمبل!"
وہ باورچی خانے سے ایک گلاس گرم دودھ اور ایک پرانا کمبل لایا۔ زِب نے دودھ کو دیکھا اور کہا، "یہ سفید… یہ چاند کا پانی ہے!" پھر اس نے ایک گھونٹ پیا اور اس کی مونچھوں پر دودھ لگ گیا۔ "مزیدار چاند کا پانی!"
دانش ہنس پڑا، مگر اس کی ہنسی جلدی رک گئی — کیونکہ زِب نے پھر چھینکا، اور اس بار چھینک اتنی زور سے تھی کہ اسٹور روم کی کھڑکی ہل گئی — "چھیں… ٹیں… ٹن!"
اسی وقت باہر گلی میں امی کی آواز آئی۔ "دانش؟ بیٹا، اسٹور روم میں یہ کیسی آوازیں آ رہی ہیں؟"
دانش کا دل حلق میں آ گیا۔ "امی! کچھ… کچھ نہیں! میں… میں کھلونوں سے کھیل رہا ہوں! ایک نئی گھنٹی والا کھلونا ہے!"
"گھنٹی والا کھلونا؟" امی کی آواز قریب آتی گئی۔ "دانش، دروازہ کھولو۔"
زِب نے کمبل اپنے اوپر کھینچ لیا، مگر اس کی چمک کمبل کے نیچے سے بھی نظر آ رہی تھی — جیسے کمبل کے نیچے کوئی چھوٹا سا چراغ جل رہا ہو۔
دانش نے دروازہ تھوڑا سا کھولا۔ "امی، میں ٹھیک ہوں، بس—"
مگر امی نے دروازہ پورا کھول دیا۔ ان کی نظر پہلے دانش پر پڑی، پھر کمبل کے نیچے چمکتی ہوئی شکل پر۔
اسٹور روم میں خاموشی چھا گئی۔ صرف زِب کی ہلکی سی سانس اور ایک اور چھوٹی سی چھینک سنائی دی — "چھیں… ٹیں!"
امی نے آہستہ سے کہا، "دانش… یہ… یہ کون ہے؟"
اور کمبل کے نیچے سے دو بڑی، چمکتی آنکھیں ان کو دیکھ رہی تھیں۔