Episode 9
خراج کا دروازہ

مہران جنگل کے کنارے کھڑا تھا اور اس کا دل دو طرف کھنچ رہا تھا۔ ایک طرف کوہِ سیاہ کی سیاہ سڑک تھی، جہاں پانچواں ٹکڑا قہر شاہ کے خزانے میں بند تھا۔ دوسری طرف زرناباد تھا، جہاں اس کی امی اور چھوٹی بہن ایک جاسوس کے سامنے اکیلی تھیں۔ تھیلی میں چار سنہرے ٹکڑے تھے۔
“میں دونوں طرف نہیں جا سکتا،” اس نے آہستہ کہا۔
“تو اس طرف جاؤ جہاں ابّا ہیں،” ساحل نے کہا، اور اس کی آواز کانپ رہی تھی، مگر وہ مہران کے ساتھ کھڑا تھا۔ “امی اور نور اکیلی نہیں ہیں۔ پورا شہر ان کے ساتھ ہے۔ اور شاہین ہے۔”
شاہین ان کے اوپر چکر لگا رہا تھا، بے چین اور تیز۔ مہران نے زمین سے مور کا گرا ہوا ایک سنہرا پر اٹھایا۔ اس نے پر شاہین کی چونچ کے قریب کیا اور نرمی سے کہا، “گھر جاؤ، دوست۔ یہ پر نور کے پاؤں کے پاس گرا دینا۔ وہ سمجھ جائے گی۔ باورچی خانے کے اوپر تین چکر لگانا، تاکہ امی جان جائیں کہ ہم زندہ ہیں اور آگے بڑھ رہے ہیں۔”
شاہین نے پر چونچ میں لیا، ایک تیز چیخ ماری، اور صبح کے آسمان میں زرناباد کی طرف اڑ گیا۔ مہران اسے دیکھتا رہا۔ “امی، باورچی خانہ کھلا رکھیں۔ میں واپس آؤں گا۔”
سبز نے اس کے کندھے پر سر ہلایا اور زار کی سرد آواز میں دہرایا، “شوربے کے کتنے پیالے… شوربے کے کتنے پیالے…” پھر اس نے اپنی ہی آواز میں، جلدی سے، زینب بی بی کے لفظ دہرائے، “مشکل میں سخاوت ہی سب سے بڑی تلوار ہے…” جیسے وہ خود کو تسلی دے رہا ہو۔
“چلو،” مہران نے کہا۔ “کوہِ سیاہ ہمارا انتظار کر رہا ہے۔”
سڑک بدل گئی۔ درخت کم ہو گئے اور زمین سیاہ پتھروں سے بھر گئی۔ ہر موڑ پر پہاڑ بڑا ہوتا جا رہا تھا۔ طوفان آہستہ چلا، جیسے وہ بھی ڈرتا ہو۔
دوپہر تک وہ خراج کی سڑک پر پہنچ گئے۔ یہ سڑک رتھوں اور گاڑیوں کے پہیوں سے کٹی ہوئی تھی۔ ہر گاڑی پر اناج، کپڑے اور تانبے کے برتن لدے تھے، اور ہر گاڑی کے ساتھ ایک تھکا ہوا آدمی چل رہا تھا، سر جھکائے ہوئے۔ سڑک کے کنارے ایک موٹا لکڑی کا دروازہ تھا، اور اس پر قہر شاہ کے سپاہی کھڑے تھے۔ وہ ہر گاڑی روک کر گنتے تھے، “ایک بوری کم ہے… دو بوری کم ہیں… قہر شاہ کو سب چاہیے۔”
ساحل نے سرگوشی کی، “مہران، یہاں سے اندر جانا ناممکن ہے۔ وہ ہر چہرہ دیکھتے ہیں۔”
“پھر ہم چہرہ نہیں دکھائیں گے،” مہران نے کہا۔ “ہم مدد کریں گے۔”
اسی لمحے سڑک پر شور ہوا۔ ایک پرانی گاڑی کا پہیہ کیچڑ میں پھنس گیا، اور اس کا خچر لڑکھڑا کر گرنے لگا۔ گاڑی پر ایک بوڑھا آدمی تھا، سفید داڑھی، پھٹی ہوئی چادر، اور اس کے پاس ایک چھوٹی سی بچی بیٹھی تھی، جو ٹھنڈ سے کانپ رہی تھی۔ سپاہی نے کوڑا اٹھایا۔ “چلو! قہر شاہ انتظار نہیں کرتا!”
مہران نے سوچا نہیں۔ وہ آگے بڑھا، اپنا کمان کندھے سے اتارا، اور خچر کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔ “بھائی، اسے مت مارو۔ خچر تھکا ہوا ہے، بیمار نہیں۔ پہیہ پھنسا ہے، جانور نہیں۔”
سپاہی نے اسے گھورا۔ “تم کون ہو؟”
“ایک مسافر،” مہران نے کہا۔ “جس کے ہاتھ خالی نہیں ہیں۔” اس نے اپنی رسی کھولی، پہیے کے گرد لپیٹی، اور طوفان کی لگام ساحل کو تھمائی۔ “طوفان، آہستہ… کھینچو۔” طوفان نے زور لگایا، ساحل نے دھکیلا، بوڑھے آدمی نے پہیہ اٹھایا، اور گاڑی کیچڑ سے نکل آئی۔
سپاہی نے کوڑا نیچے کر لیا اور بڑبڑاتا ہوا آگے چلا گیا۔ اسے اس بات کی پروا نہیں تھی کہ گاڑی کس نے نکالی، بس یہ کہ گاڑی چل پڑی۔
بوڑھے آدمی کی آنکھیں بھر آئیں۔ “بیٹا، میرا نام کاکا رحیم ہے۔ یہ میری پوتی آمنہ ہے۔ ہم تین دن سے سفر کر رہے ہیں۔ قہر شاہ کو خراج دینا ہے، ورنہ ہمارا گاؤں بھوکا رہے گا۔” اس نے بچی کی طرف دیکھا، جو مہران کو بڑی بڑی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔ “اس نے صبح سے کچھ نہیں کھایا۔”
مہران کے پاس صرف دو روٹیاں بچی تھیں، جو ساحل نے صبح بچا کر رکھی تھیں۔ ساحل نے مہران کی طرف دیکھا، پھر بچی کی طرف، اور آہ بھری۔ “دے دو،” اس نے کہا۔ “ہم… ہم بعد میں کچھ ڈھونڈ لیں گے۔”
مہران نے روٹیاں بچی کو دیں۔ آمنہ نے ایک روٹی فوراً کھائی، اور دوسری آدھی کر کے اپنے دادا کو دے دی۔ “دادا، آپ بھی کھائیں۔” کاکا رحیم نے روٹی لی، اور اس کی داڑھی آنسوؤں سے بھیگ گئی۔ “اللہ تمہیں سلامت رکھے، بیٹا۔ اس سڑک پر کوئی کسی کو کچھ نہیں دیتا۔ سب ڈرتے ہیں۔”
سبز نے سپاہی کی نقل اتاری، جس پر آمنہ ہنس پڑی۔
کاکا رحیم نے گاڑی کے پاس بیٹھ کر آہستہ کہا، “بیٹا، تم اچھے آدمی لگتے ہو۔ اس لیے ایک بات سن لو۔ قہر شاہ کا خزانہ پہاڑ کے اندر ہے، مگر اس کا دروازہ صرف شام کی گھنٹی پر کھلتا ہے، جب خراج گنا جاتا ہے۔ خراج لانے والے اندر جاتے ہیں اور خالی ہاتھ باہر آتے ہیں۔ خزانے کا رکھوالا ہر سونے کی چیز ایک کتاب میں لکھتا ہے۔ اور…” اس کی آواز اور دھیمی ہو گئی، “کل ایک کوّا میری گاڑی پر بیٹھا تھا۔ وہ آدمیوں کی طرح بولا۔ اس نے کہا، وزیر جانتا ہے کہ چار ٹکڑوں والا لڑکا آ رہا ہے۔”
مہران کا دل زور سے دھڑکا، مگر اس نے چہرہ پرسکون رکھا۔ “پھر ہمیں جلدی کرنی ہوگی۔”
“اور ایک بات،” کاکا رحیم نے کہا۔ “خزانے کے پیچھے نوکروں کا ایک چھوٹا سا راستہ ہے، جہاں سے باورچی خانے کا سامان جاتا ہے۔ وہاں کوئی سپاہی نہیں کھڑا ہوتا، کیونکہ قہر شاہ کو یقین ہے کہ کوئی نوکر اس کی چیز نہیں چرائے گا۔” اس نے مہران کی آنکھوں میں دیکھا۔ “تم نوکر نہیں لگتے، بیٹا۔ مگر کبھی کبھی دروازہ وہیں کھلتا ہے جہاں کوئی دیکھتا نہیں۔”
اسی وقت دور زرناباد میں شاہین باورچی خانے کے اوپر پہنچا۔
نور روٹی بانٹ رہی تھی جب اس نے تین چکر لگاتے ہوئے شاہین کی چیخ سنی۔ وہ صحن میں بھاگی، اور شاہین نے سنہرا پر اس کے پاؤں کے پاس گرا دیا۔ نور نے پر اٹھایا، سینے سے لگایا، اور آنکھیں بند کر لیں۔ “وہ زندہ ہے، امی! وہ آگے بڑھ رہا ہے!”
زینب بی بی نے پر کو دیکھا اور مسکرائیں، حالانکہ ان کی آنکھیں نم تھیں۔ “تو آج رات باورچی خانہ پوری رات کھلا رہے گا۔ کوئی بھوکا نہیں سوئے گا، اور کوئی جاسوس اکیلا نہیں بیٹھے گا۔”
اسی شام نور نے دروازے کی چوکھٹ پر ایک چھوٹا سا کالا نشان دیکھا — کوّے کے پنجے جیسا۔ کسی نے چپکے سے نشان لگایا تھا، تاکہ رات کو جاسوس دروازہ پہچان سکے۔ نور نے نشان کو پانی سے دھویا، چوکھٹ پر ایک لالٹین لٹکائی، اور دروازے کے سامنے بیٹھ گئی۔ “آج رات یہاں سے کوئی راز نہیں گزرے گا،” اس نے شاہین سے کہا، جو چھت پر بیٹھا تھا۔ “اور مہران کو بتا دینا — گھر محفوظ ہے۔”
کوہِ سیاہ کی وادی میں شام ہو گئی۔ کاکا رحیم نے مہران اور ساحل کو دو پرانی چادریں دیں، جیسی خراج لانے والے پہنتے ہیں، اور کہا، “سر جھکائے رکھنا۔ کچھ مت کہنا۔ جب گھنٹی بجے، تو گاڑی کے پیچھے چلنا۔” سبز ساحل کی پگڑی میں چھپ گیا اور سرگوشی میں دہرایا، “کچھ مت کہنا… کچھ مت کہنا…” جس پر ساحل کو ہنسی آ گئی، اور اس نے فوراً منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔
گھنٹی بجی — ایک گہری، بھاری آواز، جو پہاڑ کی چھاتی میں گونجی۔ بڑا دروازہ کھلا۔ گاڑیاں اندر جانے لگیں۔ مہران اور ساحل گاڑی کے پیچھے چلے، سر جھکائے، دل زور سے دھڑکتے ہوئے۔ اندر اندھیرا تھا، اور ہوا میں سونے اور دھوئیں کی بو تھی۔
اور پھر مہران نے اسے دیکھا۔
خزانے کے دروازے کے اوپر، ایک لوہے کے پنجرے میں، پتھر کا مور بند تھا۔ اس کی دم بند تھی، اس کی آنکھیں آدھی کھلی تھیں، اور اس کا سونا مدھم پڑ گیا تھا۔ وہ گانا نہیں گا رہا تھا۔ وہ خاموش تھا، جیسے کسی نے اس کی موسیقی پر ہاتھ رکھ دیا ہو۔
مہران کے قدم رک گئے۔ ساحل نے اس کا بازو پکڑا۔ “چلتے رہو،” اس نے سرگوشی کی۔ “ابھی نہیں۔”
مور نے ایک آنکھ کھولی۔ اس نے مہران کو دیکھا۔ ایک لمحے کے لیے، اس کی آنکھ میں وہی پرانی روشنی جھلکی — جنگل کی روشنی، گیت کی روشنی۔ پھر آنکھ پھر بند ہو گئی۔
اور پیچھے سے گھنٹی دوسری بار بجی، اور بڑا دروازہ ان کے پیچھے ایک ایسی آواز کے ساتھ بند ہو گیا جیسے کسی پتھر کی قبر کا دروازہ بند ہو۔ مہران سمجھ گیا: وہ اب کوہِ سیاہ کے اندر تھے، اور واپس جانے کی کوئی سڑک نہیں تھی — سوائے خزانے کے دروازے کے۔