← مہران: سخاوت کا سفر · All episodes

Episode 7

پتھر کے پرندوں کا جنگل

پتھر کے پرندوں کا جنگل

طوفان آنکھ جھپکنے میں گزر گیا تھا، مگر جو دنیا اس نے پیچھے چھوڑی تھی، وہ وہی دنیا نہیں لگ رہی تھی۔ جہاں کل شام تک ریت کا سمندر پھیلا ہوا تھا، وہاں اب ایک جنگل کھڑا تھا — اونچے، گھنے درخت، اور ہر شاخ پر پتھر کا ایک پرندہ۔

سینکڑوں پرندے — چڑیاں، کبوتر، بلبل، عقاب — سب سرمئی پتھر کے، سب خاموش، سر جھکائے ہوئے، جیسے کسی دور کی آواز سن رہے ہوں۔

مہران جنگل کے کنارے کھڑا تھا، والد کی تلوار کمر پر، اور انگوٹھی کے تین سنہرے ٹکڑے تھیلی میں محفوظ۔ ایسا جنگل جہاں کوئی پرندہ گا نہ سکے، اسے ایسے دربار جیسا لگا جہاں کوئی انسان بول نہ سکے۔

"ابّا ان سب پرندوں کو دانہ ڈالتے،" اس نے آہستہ کہا۔

ساحل کی پگڑی سے سبز نے دھیرے سے دہرایا: "دانہ ڈالتے… دانہ ڈالتے…"

شاہین درختوں کے اوپر چکر کاٹ رہا تھا اور خبردار کرنے والی چیخ مار رہا تھا۔ وہ شاخوں کے درمیان نہیں اڑ رہا تھا۔

"شاہین بھی ڈر رہا ہے،" ساحل نے کہا، ہنسنے کی کوشش کرتے ہوئے، حالانکہ اس کی آواز کانپ رہی تھی۔ "اور مجھے بہادر ہونا چاہیے؟ مہران، میرے گھٹنے تو پہلے ہی بیٹھنے کو کہہ رہے ہیں۔"

"تو انہیں بعد میں بیٹھنے دینا،" مہران نے مسکرا کر کہا۔ "چلو۔ آہستہ آہستہ۔"

طوفان سب سے پہلے جنگل میں داخل ہوا، کان جھکائے، خاموش قدم رکھتے ہوئے۔ درختوں کے نیچے روشنی سبز اور مدھم تھی۔ کوئی پرندہ نہیں گا رہا تھا، کوئی پتہ نہیں ہل رہا تھا۔ یہ مہران کی زندگی کی سب سے خاموش جگہ تھی۔

پھر، ایک بہت پرانے درخت کی جڑوں کے پاس، مہران رک گیا۔

ایک چھوٹی سی پتھر کی چڑیا شاخ سے گر گئی تھی۔ وہ کائی میں ایک پہلو پر پڑی تھی، ایک پر ٹوٹا ہوا، ایک آنکھ آسمان کی طرف کھلی ہوئی۔ وہ پورے جنگل کی سب سے چھوٹی چڑیا تھی، اور سب سے زیادہ تنہا لگ رہی تھی۔

"اوہ،" ساحل نے آہ بھری۔ "دیکھو اسے۔ یہ گر گئی، اور کسی نے اسے اٹھایا نہیں۔"

مہران گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔ وہ جانتا تھا کہ چڑیا پتھر کی ہے، پھر بھی اس نے وہی کیا جو امی جان نے سکھایا تھا: اسے نرمی سے سیدھا کر کے نرم کائی میں بٹھایا، ٹوٹے ہوئے پر کو ایک مڑے ہوئے پتے سے سہارا دیا، اور مشکیزے سے تھوڑا سا پانی اس کے ارد گرد ڈال دیا، تاکہ اس کے نیچے کی زمین ٹھنڈی رہے۔

"یہ لو،" اس نے آہستہ کہا۔ "تم پی نہیں سکتیں، تو بھی دھول میں نہیں پڑی رہو گی۔"

پھر اپنی کھجوروں کی چھوٹی سی تھیلی سے — اگلے گاؤں تک ان کا آخری کھانا، جو جانے کب آئے — اس نے تین کھجوریں نکالیں اور چڑیا کے سامنے قطار میں رکھ دیں۔

"تمہارے لیے،" اس نے کہا۔ "تم نے کبھی کوئی گیت گایا ہو گا۔ یہ اس گیت کے لیے ہے۔"

ساحل نے اسے گھور کر دیکھا۔ "مہران! یہ تو ہماری آخری کھجوریں تھیں! اور یہ چڑیا پتھر کی ہے! یہ کھا نہیں سکتی!"

"میں جانتا ہوں،" مہران نے کہا۔ "مگر دینا کوئی سودا نہیں ہے۔ امی کہتی ہیں، مشکل میں سخاوت ہی سب سے بڑی تلوار ہے — اور وہ تب استعمال ہوتی ہے جب ضرورت ہو، چاہے کوئی دیکھے یا نہ دیکھے۔"

سبز مہران کے کندھے پر آ بیٹھا اور پوری سنجیدگی سے اعلان کیا: "کھجوریں! کھجوریں!"

اور پھر جنگل بدل گیا۔

یہ زور سے نہیں بدلا۔ یہ اس طرح بدلا جیسے فجر آسمان کو بدلتی ہے — آہستہ، اور ایک دم۔ سب سے اونچے درخت سے ایک آواز اٹھی، جیسے کوئی بڑا پنکھا کھل رہا ہو: پتھر پر پتھر کی رگڑ۔ رات والا پتھر کا مور — جس نے سر گھما کر انہیں دیکھا تھا — اپنی دم پھیلائے سب سے اونچی شاخ سے نیچے اترا اور ان کے سامنے زمین پر آ گیا۔

اس کی دم مہران کی دیکھی ہوئی سب سے خوبصورت چیز تھی، پتھر میں بھی: سو تراشی ہوئی آنکھیں، ہر ایک کامل، ہر ایک بند۔ اور دم کے بیچ میں، دو پروں کے درمیان آدھی چھپی ہوئی، کوئی چیز سنہری چمک رہی تھی — پر کی شکل کی، باریک اور روشن۔

چوتھا ٹکڑا۔

مہران کی سانس رک گئی۔ ساحل نے اس کا بازو پکڑ لیا۔

"ابھی اسے مت چھونا،" مور نے کہا۔

اس کی آواز گہری اور دھیمی تھی، جیسے بہت پرانا یاد کیا ہوا گیت۔ اس کی آنکھیں زندہ تھیں — اداس، باوقار، اور زندہ۔

"میں اس جنگل کا گلوکار تھا،" مور نے کہا۔ "جب قہر شاہ آیا، تو اس نے حکم دیا کہ میں اس کے لیے گاؤں، تاکہ اس کے سپاہی میرے سنگیت پر چلیں۔ میں نے انکار کر دیا۔ تو اس نے میرا سارا جنگل پتھر بنا دیا، اور تمہارے ابّا کی انگوٹھی کا چوتھا ٹکڑا میری دم میں چھپا دیا۔"

"تو آپ اس کے نگہبان ہیں،" مہران نے سر جھکا کر کہا۔ "میں مہران ہوں، زرناباد کے سردار امان خان کا بیٹا۔ میں چرانے نہیں آیا۔ میں مانگنے آیا ہوں۔"

مور نے اسے دیر تک دیکھا۔ پھر اس نے چھوٹی سی پتھر کی چڑیا کو دیکھا، جو کائی میں سیدھی بیٹھی تھی اور اس کے سامنے تین کھجوریں رکھی تھیں۔

"تم نے اسے دیا جو تمہیں کچھ لوٹا نہیں سکتی،" اس نے کہا، اور اس کی آواز اب نرم تھی۔ "اسی لیے میں بول رہا ہوں۔ یہاں تلواروں اور رسیوں کے ساتھ بہت سے شکاری آئے ہیں۔ ان میں سے کسی نے بھی کبھی کسی پتھر کے پرندے کو کچھ نہیں دیا۔"

"مجھے کیا کرنا ہو گا؟" مہران نے پوچھا۔

"فجر کے وقت،" مور نے کہا، "جنگل تم سے وہ چیز مانگے گا جو تمہیں سب سے زیادہ عزیز ہے — اور تمہیں اسے دے دینا ہو گا، بغیر کسی بدلے کی امید کے۔ اگر تمہارا دل لالچی ہوا، تو ٹکڑا تمہارا ہاتھ جلا دے گا۔ اگر تمہارا دل سچا ہوا، تو دم کھل جائے گی۔ مگر پہلے میری خبرداری سن لو: جس لمحے دم کھلے گی، پتھر کے سپاہی جاگ جائیں گے۔"

"پتھر کے سپاہی؟" ساحل نے سرگوشی کی۔

"قہر شاہ کی فوج اس جنگل کے کنارے سو رہی ہے،" مور نے کہا۔ "وہ وہ آدمی ہیں جنہیں اس نے بہت پہلے پتھر بنا دیا تھا۔ وہ اس وقت جاگتے ہیں جب ٹکڑا ہلتا ہے۔"

سبز، جو بہت دیر سے خاموش تھا، اچانک سرگوشی میں بولا — بالکل اسی لہجے میں جو اس نے کبھی کسی سے سنا تھا، دھیما اور کھردرا: "پتھر کے سپاہی… چل رہے ہیں… پتھر کے سپاہی… چل رہے ہیں…"

درختوں کے پرے، زمین کی گہرائی میں، کچھ لرزا — جیسے کوئی دیو نیند میں کروٹ بدل رہا ہو۔

اور دور، زرناباد میں، ایک اور طرح کا خطرہ بازار سے گزر رہا تھا۔

ایک خوش گفتار سوداگر، جس کی پگڑی میں کوّے کا ایک پر لگا ہوا تھا، سردار کے گھر اناج کی ٹوکری لے کر آیا تھا، اور میٹھی زبان میں دربار کی چابیوں اور گوداموں کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔ نور، جو چودہ سال کی تھی اور اپنے بھائی کو شدت سے یاد کرتی تھی، اسے شائستہ مسکراہٹ کے ساتھ سن رہی تھی، اور اس کی آنکھیں کچھ بھی نہیں چھوڑ رہی تھیں۔

"سفر سے تھک گئے ہوں گے،" اس نے کہا، اور اسے دربار کی طرف نہیں، بلکہ امی جان کے مفت باورچی خانے کی طرف لے گئی، جہاں ہر مسافر کے لیے دسترخوان بچھا تھا۔ اس نے اپنے ہاتھوں سے اسے کھانا کھلایا، اور سڑک اور موسم کی باتوں میں اسے لگائے رکھا — ہر چیز کے بارے میں، سوائے دربار کے — یہاں تک کہ شام کی اذان ہو گئی، جب اس نے اسے روٹیوں کی گٹھڑی کے ساتھ رخصت کر دیا، کچھ دکھائے بغیر۔

جاتے ہوئے اس نے اس کی پگڑی میں کوّے کا پر دیکھ لیا۔ اس نے کچھ نہیں کہا۔ مگر دروازہ بند ہوتے ہی وہ سیدھی امی جان کے پاس گئی اور بولی: "امی، وہ سوداگر سوداگر نہیں تھا۔ اور کل وہ پھر آئے گا۔ ہمیں تیار رہنا ہو گا۔"

شام اتر رہی تھی۔ مور اپنی دم سمیٹ کر سب سے اونچے درخت پر واپس چڑھ گیا، مگر اس کے آخری الفاظ مہران کے ساتھ رہے:

"فجر کے وقت، نوجوان مسافر۔ جنگل مانگے گا۔ اور سپاہی پہلے ہی کروٹ بدل رہے ہیں۔"

مہران چھوٹی سی پتھر کی چڑیا کے پاس بیٹھ گیا، والد کی تلوار گھٹنوں پر رکھے، اور فجر کا انتظار کرنے لگا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ جنگل اس سے کیا مانگے گا۔ اس کی تلوار؟ اس کا گھوڑا؟ تین ٹکڑوں کی تھیلی؟ یا کوئی ایسی چیز جو اسے ان سب سے زیادہ عزیز ہو؟

پھر سبز، اس کے کندھے پر آدھا سویا ہوا، وہ الفاظ بڑبڑایا جو اس نے بہت پہلے کہیں سنے تھے، ایسے الفاظ جن سے مہران کا دل تیز دھڑکنے لگا:

"اندھا فقیر… انگوٹھی جانتا ہے… اندھا فقیر… انگوٹھی جانتا ہے…"

اور جنگل کے کنارے پر، زمین پھر لرز اٹھی — اور قریب ترین پتھر کا سپاہی، آدھا دبا ہوا، آہستہ سے اپنا سر اٹھا کر اپنی خالی آنکھیں ساحل کی طرف کر لیں۔

اس کا پتھر کا ہاتھ ساحل کے ٹخنے کے گرد بند ہو گیا۔