قسط 4
تارے کا مسافر
رات کے بارہ بج رہے تھے۔
ماہم اپنے کمرے میں اکیلی بیٹھی تھی۔ اس کے ہاتھ میں فون تھا، اور میز پر وہ نوٹ بک کھلی تھی — وہی صفحہ۔ اس کی اپنی ہینڈ رائٹنگ، لیکن پرانی اور پختہ۔ وہ الفاظ جو اس نے کبھی نہیں لکھے تھے:
"کل رات وہ بلائے گا۔ اور اس بار... وہ اکیلا نہیں آئے گا۔"
اس نے کانپتے ہاتھوں سے زویار کا نمبر ملایا۔
"زویار... تمہیں ابھی آنا ہوگا۔ بلال کو بھی ساتھ لے کر آؤ۔"
"اس وقت؟ کیا ہوا؟ تم ٹھیک ہو؟"
"نہیں،" ماہم نے کہا۔ "میں ٹھیک نہیں ہوں۔ اور شاید... شاید ہم میں سے کوئی بھی ٹھیک نہیں رہے گا۔"
---
آدھے گھنٹے بعد تینوں ماہم کے گھر کی چھت پر تھے۔ چاندنی تھی۔ ماہم نے انہیں نوٹ بک دکھائی۔ زویار نے صفحہ پڑھا، اس کا چہرہ سنجیدہ ہو گیا۔ بلال نے پڑھا اور اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔
"یہ... یہ تم نے لکھا ہے؟" بلال نے پوچھا۔
"میں نے نہیں لکھا،" ماہم نے کہا۔ "میں قسم کھاتی ہوں۔ یہ صفحہ خالی تھا۔ اور یہ ہینڈ رائٹنگ... دیکھو — یہ میری ہے، لیکن... جیسے میں دس سال بعد لکھوں گی۔"
"اور وہ فون کال؟" زویار نے پوچھا۔
"نامعلوم نمبر۔ پانی کی آواز۔ اور وہی سرگوشی — 'کل رات... ہم پھر ملیں گے۔'"
خاموشی چھا گئی۔ دور کہیں کتا بھونکا۔
"کل رات،" زویار نے آہستہ سے کہا۔ "یعنی ہمارے پاس ایک دن ہے۔"
"ایک دن کس لیے؟" بلال نے پوچھا۔ اس کی آواز میں ڈر تھا۔
"تیاری کے لیے،" ماہم نے کہا۔ "اور یہ جاننے کے لیے کہ 'وہ' ہے کون۔ ہم اندھیرے میں نہیں جا سکتے۔"
"اور ہم یہ کیسے جانیں گے؟" بلال نے پوچھا۔
ماہم نے چاند کی طرف دیکھا۔ "دکاندار۔ وہی بوڑھا دکاندار جس نے مجھے ستارے کی کہانی سنائی تھی۔ اسے اور بھی کچھ معلوم ہوگا۔"
---
اگلی صبح ماہم اکیلی بازار گئی۔
دکاندار اپنی دکان پر بیٹھا تھا۔ جب اس نے ماہم کو دیکھا تو اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
"تم پھر آئی ہو،" اس نے کہا۔ یہ سوال نہیں تھا۔
"مجھے سچ جاننا ہے،" ماہم نے کہا۔ "پورا سچ۔ وہ تارا کیا تھا؟ اور 'وہ' کون ہے جو جھیل کے نیچے سوتا ہے؟"
دکاندار نے کچھ دیر اسے دیکھا۔ پھر اس نے دکان کا دروازہ بند کیا اور اسے اندر بٹھایا۔
"سو سال پہلے جو آسمان سے گرا تھا..." اس نے آہستہ سے شروع کیا، "وہ تارا نہیں تھا، بیٹی۔ تارے نہیں گرتے۔"
"تو پھر کیا تھا؟"
"ایک مسافر تھا۔" دکاندار کی آواز سرگوشی میں بدل گئی۔ "کہیں دور سے آیا تھا — جہاں سے تارے آتے ہیں۔ وہ یہاں اترا... اور واپس نہ جا سکا۔"
ماہم کی سانس رک گئی۔ "وہ... زندہ تھا؟"
"ہے۔" دکاندار نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ "وہ سو رہا ہے — جھیل کے نیچے۔ سو سال سے۔ اور اس کے خواب... بیٹی، یہ جھیل اس کے خواب ہیں۔ یہ پانی اس کے خواب ہیں۔"
"اور جنہیں جھیل نے لیا؟"
"وہ اس کے خواب میں شامل ہو گئے۔" دکاندار نے اس کی کلائی پکڑ لی۔ اس کی گرفت مضبوط تھی۔ "سنو، بیٹی۔ تم تینوں نے دروازہ کھول دیا ہے۔ تمہاری آزمائش نے اسے جھنجھوڑ دیا ہے۔ وہ جاگ رہا ہے۔ اور جب وہ پوری طرح جاگے گا تو اس کے ساتھی بھی جاگیں گے۔ تمہاری نوٹ بک میں جو لکھا ہے — 'وہ اکیلا نہیں آئے گا' — اس کا یہی مطلب ہے۔"
"وہ کیا چاہتا ہے؟" ماہم نے پوچھا۔ اس کی آواز کانپ رہی تھی۔
دکاندار نے کھڑکی سے باہر پہاڑوں کی طرف دیکھا۔ "گھر جانا چاہتا ہے۔" ایک طویل خاموشی۔ "لیکن سو سال کے خواب کے بعد... مجھے ڈر ہے کہ اسے یاد نہیں رہا کہ گھر کہاں ہے۔ اور جو مسافر بھٹک جاتا ہے... وہ اپنے ساتھ سب کو لے جانا چاہتا ہے۔"
---
شام کو تینوں پھر چھت پر ملے۔ ماہم نے سب کچھ بتایا۔
"تو وہ ہمیں اپنے خواب میں لینا چاہتا ہے،" زویار نے کہا۔ "ہم اسے ایسا نہیں کرنے دیں گے۔"
"لیکن کیسے روکیں گے؟" بلال نے پوچھا۔ "وہ تو... وہ تو تاروں سے آیا ہے!"
ماہم نے اپنی نوٹ بک کھولی۔ "رحمت بابا نے کہا تھا — 'سچ سے مت ڈرنا۔' شاید... شاید اس مسافر کو بھی کسی سچ کی ضرورت ہے۔ شاید کوئی اس سے کبھی بات کرنے نہیں گیا۔ سب صرف ڈرتے رہے۔"
"تو تم کہہ رہی ہو کہ ہم اس سے بات کریں؟" زویار نے پوچھا۔
"ہاں۔" ماہم نے کہا۔ "آج رات۔ 'کل رات' کا انتظار نہیں کریں گے۔ ہم پہلے جائیں گے۔"
بلال نے گہری سانس لی۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے — لیکن اس نے سر ہلایا۔ "ٹھیک ہے۔ میں... میں تیار ہوں۔"
انہوں نے تیاری کی — ایک مضبوط رسی، تین ٹارچ، اور ماہم کی نوٹ بک۔ انہوں نے رسی سے اپنی کلائیاں باندھ لیں — "ایک دوسرے کا ہاتھ مت چھوڑنا۔"
---
رات کے دو بجے وہ جھیل کے کنارے کھڑے تھے۔
جھیل جاگ رہی تھی۔
نیلی روشنی پہلے سے کہیں تیز تھی — اور وہ دھڑک رہی تھی۔ جیسے دل کی دھڑکن۔ پانی ساکن نہیں تھا — وہ سانس لے رہا تھا۔ اوپر اٹھتا، نیچے گرتا۔ اوپر اٹھتا، نیچے گرتا۔
"یہ... یہ زندہ ہے،" بلال نے سرگوشی کی۔
زویار نے قدم آگے بڑھایا۔ اس کی آواز صاف اور مضبوط تھی — وہ پرانا زویار نہیں تھا جو صرف چیختا تھا۔
"ہم تم سے بات کرنے آئے ہیں!" اس نے بلند آواز میں کہا۔ "مسافر! ہم جانتے ہیں کہ تم وہاں ہو!"
پانی رک گیا۔ بالکل ساکن۔
پھر — ایک آواز آئی۔ یہ جھیل کی وہ نرم آواز نہیں تھی جسے وہ جانتے تھے۔ یہ گہری تھی، پرانی تھی — اور اس میں اتنا دکھ تھا کہ تینوں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
"تین دل..." آواز نے کہا۔ "تم نے دروازہ کھولا۔ تم نے میرے خواب میں دراڑ ڈال دی۔"
"ہمیں معاف کر دو،" ماہم نے کہا۔ اس کی آواز کانپ رہی تھی، لیکن وہ پیچھے نہیں ہٹی۔ "ہمیں نہیں معلوم تھا۔ لیکن... تم کون ہو؟ تم یہاں کیسے آئے؟"
خاموشی۔ پھر آواز آئی — آہستہ، جیسے کوئی بہت دور سے بول رہا ہو:
"میں... یاد نہیں۔ میں تاروں کے پار سے آیا تھا۔ میرا... میرا گھر... وہاں روشنی تھی۔ بہت سی روشنیاں۔ پھر... گرنا۔ پھر نیند۔ لمبی نیند۔"
"تم سو سال سے سو رہے ہو،" ماہم نے کہا۔
"سو سال..." آواز میں حیرت تھی۔ "اتنا وقت؟ میرے خواب... میرے خواب پانی بن گئے۔ اور پانی میں... میں نے ساتھی بنائے۔ تاکہ میں اکیلا نہ رہوں۔"
"لیکن تم نے انہیں زبردستی رکھا،" بلال نے کہا۔ اس کی آواز میں وہ نئی مضبوطی تھی۔ "یہ غلط ہے۔ کسی کو زبردستی خواب میں نہیں رکھا جا سکتا۔"
"اکیلا..." آواز ٹوٹ گئی۔ "میں اکیلا نہیں رہنا چاہتا۔ سو سال کا اکیلا پن... تم نہیں سمجھ سکتے۔"
تینوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ اس آواز میں اتنا دکھ تھا کہ ان کے دل پگھلنے لگے۔
"ہم سمجھتے ہیں،" ماہم نے نرمی سے کہا۔ "لیکن سنو — تمہیں گھر کا راستہ یاد نہیں، ٹھیک ہے؟ تو ہم تمہاری مدد کریں گے۔ ہم مل کر ڈھونڈیں گے۔ لیکن اس کے لیے تمہیں جاگنا ہوگا — اور اپنے ساتھیوں کو چھوڑنا ہوگا۔ انہیں ان کے گھروں واپس جانے دو۔"
"نہیں!" آواز میں پہلی بار غصہ تھا۔ پانی ہلنے لگا۔ "وہ میرے ہیں! وہ میرے خواب ہیں! اگر میں جاگ گیا تو خواب ختم ہو جائیں گے — اور وہ... وہ ختم ہو جائیں گے!"
"نہیں ہوں گے،" ماہم نے جلدی سے کہا۔ "خواب ختم ہونے کا مطلب موت نہیں ہے۔ اس کا مطلب... جاگنا ہے۔ ان کے لیے بھی۔"
پانی ساکن ہو گیا۔
اور پھر — پانی چمکنے لگا۔ تیز، تیز تر۔
"دیکھو!" بلال چیخا۔
پانی کے نیچے سے... شکلیں اوپر آ رہی تھیں۔
انسانی شکلیں۔ درجنوں۔ ان کی آنکھیں نیلی تھیں — وہی نیلا پن۔ وہ آہستہ آہستہ اوپر آ رہے تھے، پانی سے باہر۔ ان میں ایک نوجوان تھا — رحمت بابا جیسا چہرہ۔
"اس کا بھائی،" ماہم نے سرگوشی کی۔
اور پھر — سب سے آخر میں — ایک لڑکی۔
اس کے ہاتھ میں ایک نوٹ بک تھی۔
ماہم کی سانس رک گئی۔
وہ لڑکی... وہ خود تھی۔ لیکن بڑی۔ اس کی آنکھیں نیلی تھیں۔ اس کے چہرے پر ایک اداس مسکراہٹ تھی۔
وہ لڑکی کنارے پر آئی۔ اس نے ماہم کی طرف دیکھا۔ اور ماہم کی اپنی آواز میں کہا:
"ڈرو مت... میں تم ہی ہوں۔"