اخلاقی کہانیاںاردو
دادی کا ترجمان دوست
aurora
علی کی دادی اردو بولتی تھیں، اور ان کی نئی پڑوسن انگریزی۔ دونوں کی کھڑکیاں آمنے سامنے تھیں۔ دونوں مسکراتیں، ہاتھ ہلاتیں — مگر بات نہ ہو پاتی۔ زبان بیچ میں دیوار بنی تھی۔
علی کے پاس ایک ننھا آلہ تھا — ترجمان۔ وہ اردو سن کر انگریزی میں بولتا، اور انگریزی سن کر اردو میں! علی نے اسے دادی کی ہتھیلی پر رکھا: دادی، یہ آپ کا نیا دوست ہے۔
اگلے دن دادی نے ترجمان اٹھایا اور پڑوسن سے کہا: آپ کیسی ہیں؟ ترجمان نے فوراً انگریزی میں کہا: How are you? پڑوسن خوشی سے چلا اٹھی! پھر دونوں کی باتیں شروع ہوئیں — چائے، پرانے زمانے، بچوں کی شرارتیں۔ ایک بار ترجمان نے سموسہ کو سمسون کہہ دیا۔ دونوں ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئیں!
علی نے دیکھا — ایک ننھی مشین نے دو تنہا دلوں کو جوڑ دیا تھا۔ اس نے فیصلہ کیا: یہ ترجمان محلے کے ہر بزرگ کے پاس جائے گا!
عید کے دن دادی نے پڑوسن کو اپنے ہاتھ کے بنے کپڑے دیے۔ پڑوسن کی آنکھیں بھر آئیں۔ ترجمان نے ترجمہ کیا: تم میری بہن جیسی ہو۔ دونوں گلے مل گئیں۔
پیارے بچو، تمہارے آس پاس بھی کوئی تنہا بزرگ ہے؟ ایک مسکراہٹ، ایک بات — کبھی کبھی یہی سب سے بڑا تحفہ ہوتا ہے۔
سبق: بزرگوں کی خدمت سب سے بڑی نیکی ہے۔