← تمام کہانیاں
متن کا سائز
سائنس اور فطرتاردو

موسم بتانے والا دوست

aurora

اتوار کو پہاڑ پر پکنک تھی! بچے اتنے خوش تھے کہ رات بھر سو نہ سکے۔ کسی نے بریانی بنائی، کسی نے کیک، اور ننھے حمزہ نے تو اپنا پسندیدہ کھلونا بھی باندھ لیا۔ مگر استاد نے کہا: ٹھہرو! پہلے موسم کا حال پوچھ لو۔ اور انہوں نے بلایا موسمِ دوست کو — ایک ذہین مشین جو بادلوں کو پڑھ سکتی تھی۔ موسمِ دوست نے آسمان کو دیکھا، ہوا کو سونگھا اور کہا: دوپہر دو بجے ہلکی بارش ہوگی۔ پکنک صبح جلدی رکھو! کچھ بچے منہ بنانے لگے: بارش؟ ہماری پکنک خراب ہو جائے گی! مگر استاد نے کہا: عقلمند وہ ہے جو مشورہ مانے۔ چنانچہ سب صبح سویرے پہنچ گئے۔ خوب کھیلے، خوب کھایا، اور جیسے ہی گھڑی میں دو بجے — ٹپ ٹپ ٹپ! بارش شروع! سب بڑے درخت کے نیچے سمٹ گئے۔ بارش کی بوندیں پتوں پر ناچ رہی تھیں۔ بچے گیت گانے لگے۔ پھر... بارش رکی اور آسمان پر سات رنگوں کی قوسِ قزح نکلی! سب کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ بچوں نے موسمِ دوست کے گلے میں پھولوں کا ہار ڈالا۔ اس نے کہا: مجھے سب سے زیادہ خوشی تب ہوتی ہے جب میرا علم تمہارے کام آئے۔ گھر واپسی پر سب نے ایک نعرہ لگایا: مشورہ مانو، مزہ اٹھاؤ! پیارے بچو، کیا تم بھی کبھی ضد کر کے پچھتائے ہو؟ یاد رکھو — اچھا مشورہ ماننا عقلمندی ہے۔ سبق: علم اور منصوبہ بندی سے ہر کام آسان ہو جاتا ہے۔