پریوں کی کہانیاںاردو
سننے والا جادوئی ڈبہ
aurora
پرانی حویلی میں ایک جادوئی موسیقی کا ڈبہ رہتا تھا — سرگم۔ وہ اتنا بولتا تھا، اتنا بولتا تھا کہ کسی کو بولنے کا موقع ہی نہ ملتا! چڑیاں کہتیں: چیں چیں! اور سرگم کہتا: میں تم سے اچھا گاتا ہوں! بچے ہنستے: سرگم چپ ہی نہیں ہوتا!
ایک رات ننھی پری آئی۔ اس نے کہا: سرگم، تمہاری موسیقی پیاری ہے، مگر تم کبھی کسی کی سنتے نہیں۔ سرگم حیران ہوا: سننا؟ یہ کیا ہوتا ہے؟ کیا یہ کھانے کی چیز ہے؟ پری ہنسنے لگی۔
پری نے اسے جادوئی چھڑی دی اور کہا: کل سے تم صرف سنو گے — بولو گے نہیں۔ سرگم کا منہ کھلا رہ گیا! صرف... سنوں؟ مگر اس نے وعدہ کر لیا۔
اگلے دن سرگم نے چپ رہ کر سنا: چڑیوں کا چہچہانا — چیں چیں! ہوا کی سرسراہٹ — سررر! بچوں کی ہنسی — کھلکھل! اس کے دل میں نئی دھنیں اترنے لگیں۔ وہ حیران تھا: اتنی پیاری آوازیں! میں نے پہلے کیوں نہ سنیں؟
اس رات اس نے ایسی موسیقی بجائی کہ پوری حویلی جھوم اٹھی۔ پری نے مسکرا کر کہا: دیکھا؟ سننے والا ہی سچا فنکار بنتا ہے۔ سرگم نے سر جھکایا: آج سے میں پہلے سنوں گا، پھر بولوں گا!
پیارے بچو، کیا تم بھی کبھی کسی کی بات کاٹ دیتے ہو؟ تو سرگم کو یاد کرو — پہلے سنو، پھر بولو!
سبق: غور سے سننا بھی ایک فن ہے۔