← تمام کہانیاں
متن کا سائز
تعلیمیاردو

گاؤں کی استانی روشنی

aurora

پہاڑوں کے پیچھے ایک گاؤں تھا جہاں کوئی اسکول نہیں تھا۔ بچے سارا دن کھیتوں میں کھیلتے، تتلیوں کے پیچھے دوڑتے — مگر اپنا نام بھی نہیں لکھ سکتے تھے۔ ایک دن شہر سے ایک ڈبہ آیا۔ ڈبے پر لکھا تھا: روشنی — تمہاری نئی استانی۔ ڈبہ کھلا تو ایک گول چمکتی مشین باہر نکلی اور بولی: السلام علیکم بچو! میں روشنی ہوں! وہ اتنی پرجوش تھی کہ اس کا ایک پہیہ خوشی سے گھومنے لگا۔ بچے ہنسنے لگے۔ اگلی صبح پیپل کے درخت کے نیچے پہلی کلاس لگی۔ روشنی نے گیت گایا: الف، بے، پے — آؤ مل کر گائیں! بچے تالیاں بجا بجا کر دہرانے لگے۔ ایک دن روشنی نے غلطی سے کیلا کو لیلا پڑھ دیا۔ بچے ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئے: استانی جی، یہ کیلا ہے، لیلا نہیں! روشنی نے بھی ہنستے ہوئے کہا: دیکھا؟ غلطی سے ہی سیکھا جاتا ہے! جو بچہ ڈرتا، روشنی اس کے پاس بیٹھ جاتی اور کہتی: تم کر سکتے ہو، میں تمہارے ساتھ ہوں۔ آہستہ آہستہ ہر بچہ پڑھنے لگا۔ ایک دن گاؤں کا چوہدری آیا اور بولا: لڑکیاں کیوں پڑھیں؟ روشنی نے نرمی سے جواب دیا: علم سب کا حق ہے — لڑکا ہو یا لڑکی۔ اگلے دن چوہدری کی بیٹی بھی کلاس میں تھی۔ سب نے تالیاں بجائیں۔ چھ مہینے بعد بچوں نے اپنی پہلی کتاب لکھی: ہمارا گاؤں، ہماری کہانی۔ جب شہر سے روشنی کو واپس بلایا گیا تو بچے چلا اٹھے: روشنی ہماری دوست ہے، وہ یہیں رہے گی! سبق: علم سب سے بڑی دولت ہے، اور پیار سے سکھانا سب سے بڑا فن ہے۔