← تمام کہانیاں
متن کا سائز
مہربانیاردو

انصاف سے کھیلنے والا روبوٹ

aurora

چمپو ہر کھیل جیت جاتا تھا۔ شطرنج، دوڑ، فٹبال — اس کا تیز دماغ ہر چال پہلے ہی سوچ لیتا تھا۔ مگر آہستہ آہستہ بچے اس کے ساتھ کھیلنا چھوڑنے لگے۔ چمپو حیران تھا: میں تو جیتتا ہوں! پھر سب ناراض کیوں ہیں؟ ایک دن فٹبال کا میچ تھا۔ چمپو کی ٹیم آگے تھی۔ اچانک اس نے دیکھا — دوسری ٹیم کا ننھا کھلاڑی گر گیا ہے اور رو رہا ہے۔ چمپو کے قدم رک گئے۔ اس نے گیند کو جان بوجھ کر اپنے ہی گول میں ڈال دیا! سب حیران رہ گئے۔ چمپو نے کہا: جیتنے سے زیادہ مزہ سب کو خوش دیکھنے میں ہے۔ میدان میں سناٹا چھا گیا... پھر تالیاں! زوردار تالیاں! گرا ہوا بچہ اٹھا، چمپو سے لپٹ گیا۔ اس دن کے بعد چمپو بدل گیا — وہ کمزور کھلاڑیوں کی مدد کرتا، کبھی دھوکہ نہ دیتا، اور ہارنے والوں کو بھی شاباش دیتا۔ اب بچے خود چمپو کو بلاتے ہیں: چمپو! ہمارے ساتھ کھیلو! وہ کھیل کا ریفری بھی بن گیا ہے۔ سب کہتے ہیں: چمپو کے ہوتے ہوئے بے انصافی ناممکن ہے! ایک نئے بچے نے پوچھا: چمپو، تم اتنے اچھے کیسے ہو؟ چمپو نے مسکرا کر کہا: جب سب خوش ہوتے ہیں تو کھیل دگنا مزیدار ہوتا ہے! پیارے بچو، کیا تم کھیل میں کبھی جان بوجھ کر کسی کی مدد کرتے ہو؟ یہی اصل چیمپئن کی نشانی ہے! سبق: انصاف سے کھیلنا جیتنے سے زیادہ قیمتی ہے۔