Episode 7
مٹتا ہوا نام

جاوید انور کی مسکراہٹ کے بعد والی صبح، ماہا نے عمر کو لابی میں دیکھا، عمارت کا رجسٹر ریسپشن کاؤنٹر پر کھلا ہوا تھا، اور وہ اس صفحے کو اس طرح گھور رہا تھا جیسے کوئی اس دروازے کو گھورتا ہے جس سے وہ ساری زندگی گزرتا آیا ہو اور اچانک اسے اینٹوں سے بند پایا ہو۔
"عمر؟" اس نے کہا۔
اس نے نظریں نہیں اٹھائیں۔ "ابو کا نام،" اس نے کہا۔ "یہ یہیں تھا۔ عملے کی فہرست میں۔ رفیق فاروقی، لفٹ مین، 1972 سے ملازم۔ میں نے اسے سو بار دیکھا ہے۔ تارا، تم نے اس صفحے کی تصویر کھینچی تھی۔"
اس نے تصویر ڈھونڈی، کھلی کتاب کے ساتھ رکھ کر دکھائی — اور خاموش ہو گئی۔ اس کی تصویر میں وہ سطر موجود تھی، مدھم نیلی روشنائی میں: رفیق فاروقی۔ کاؤنٹر پر کھلی کتاب میں وہی سطر غائب تھی۔ کاٹی ہوئی نہیں۔ مٹی ہوئی نہیں۔ غائب، جیسے ریت پر قدموں کے نشان جوار کے بعد مٹ جاتے ہیں، اور باقی صفحہ بالکل سلامت رہتا ہے۔
راہداری میں، پرانی عملے کی تصویر ابھی دیوار پر لگی تھی — چالیس آدمی ہوٹل کی وردی میں، 1972 میں۔ اس کے نیچے پیتل کی تختی پر ان کے نام کندہ تھے۔ ماہا نے انگلی پھیرتے ہوئے وہ جگہ ڈھونڈی جہاں رفیق کا نام ہونا چاہیے تھا۔ تختی وہاں ہموار تھی۔ خالی۔
"یہ حادثہ نہیں ہے،" ماہا نے سرگوشی کی۔ "یہ لہر ہے۔"
---
انہوں نے جاوید انور کو ٹاور کے نیچے چائے کے ڈھابے پر پایا، سائے میں بیٹھا، سامنے چائے کی پیالی، اتنا مطمئن جیسے کوئی آدمی اس بس کا انتظار کر رہا ہو جس کے آنے کا اسے پہلے سے یقین ہو۔
"یہ تم نے کیا ہے،" عمر نے کہا۔ "تم لفٹ میں نیچے گئے اور تم نے کچھ بدل دیا۔"
جاوید نے انکار کی زحمت نہیں کی۔ "میں نے وہی کیا جو میرے آقا نے کہا، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ کل ڈرلنگ کے دوران بتیاں جھلکیں، اور میں نے لابی سے لفٹ بلائی، جیسے اصول کہتا ہے۔" وہ باریک سی مسکراہٹ کے ساتھ مسکرایا۔ "میں 2001 میں گیا، وہ سال جب تمہاری عمارت ہوٹل سے فلیٹ بنی۔ اور میں نے تبدیلی کے کلرک سے بات کی۔ میں نے اسے بتایا کہ عملے کے ریکارڈ میں غلطی ہوئی ہے — کہ رفیق فاروقی نام کا کوئی لفٹ مین مرینا میں کبھی کام نہیں کرتا تھا۔ ایک چھوٹی سی درستی۔ ایک سطر۔ کلرک نے مان لیا۔ "
"ایک سطر،" عمر نے دہرایا۔
"ایک سطر،" جاوید نے کہا۔ "اور اب، تمہارے حال میں، تمہارے والد کا نام خاموشی سے عمارت کو چھوڑ رہا ہے۔ پہلے رجسٹر۔ پھر تصویریں۔ پھر —" اس نے کندھے اچکائے، جیسے باقی بات کہنے کی زحمت نہ ہو۔ "لہریں ایسی ہی ہوتی ہیں، بچو۔ چھوٹی تبدیلی، چھوٹی لہر۔ مگر لہریں چلتی ہیں۔ وہ اجازت نہیں مانگتیں۔"
ماہا کی مٹھیاں پہلو میں بند ہو گئیں۔ "کیوں؟ قریشی کو ایک لفٹ مین کو مٹانے سے کیا ملے گا؟"
"دباؤ،" جاوید نے سادگی سے کہا۔ "مسٹر قریشی چاہتے ہیں کہ تم سمجھو ان کی پہنچ کہاں تک ہے۔ وہ تاریخ کو اس طرح صاف کر سکتے ہیں جیسے کوئی آدمی کمرہ صاف کرتا ہے۔ آج کتاب میں ایک نام ہے۔ کل کسی لیز پر ایک نام ہو سکتا ہے۔ کسی دستاویز پر ایک نام۔" وہ کھڑا ہوا، پیالی نرم سی ٹک کے ساتھ رکھ دی، اور تقریباً مہربانی سے بولا، "ڈبہ ڈھونڈنا چھوڑ دو، اور صفائی رک جائے گی۔"
---
رفیق چاچا لفٹ کے جالے کو تیل دے رہے تھے جب وہ اوپر واپس آئے، بے سرا گنگنا رہے تھے، جیسے چالیس سال سے گنگناتے آئے تھے۔ ماہا نے بولنے سے پہلے انہیں ایک لمحہ دیکھا۔
"چاچا،" عمر نے کہا، اور اس کی آواز ٹوٹ گئی۔ "آپ کو یاد ہے — آپ کو یاد ہے کہ آپ نے یہاں کب شروع کیا تھا؟"
رفیق نے اپنے بیٹے کو دیکھا، اور ایک خوفناک لمحے کے لیے ان کی آنکھیں دھندلی ہو گئیں، جیسے کسی آدمی کی آنکھیں ہو جاتی ہیں جب وہ کسی گیت کے الفاظ یاد کرنے کی کوشش کر رہا ہو جو پھسل گئے ہوں۔ پھر وہ مسکرائے، اور دھند چھٹ گئی۔ "1972، بیٹا۔ افتتاحی رات۔ میں اسی لفٹ میں مہمانوں کے سوٹ کیس اوپر لے جاتا تھا۔ وہ ہنسے، اور وہ ہنسی پوری طرح ان کی اپنی تھی۔ "کیوں پوچھ رہے ہو؟"
عمر نے تھوک نگلا۔ "کوئی وجہ نہیں، ابو۔ بس — بس جانچ رہا تھا۔"
مگر جب رفیق جالے کی طرف مڑے، ماہا نے دیکھا: ان کا ہاتھ لفٹ کے دروازوں کے پاس لگی چھوٹی پیتل کی تختی پر رکا۔ تختی اب خالی تھی۔ اور رفیق کی انگلیاں اس خالی جگہ کو آہستہ سے ٹٹول رہی تھیں۔
تارا نے ماہا کو ایک طرف کھینچا، آواز دھیمی اور غصے سے بھری۔ "لہر ابھی چل رہی ہے۔ اگر جاوید کا جھوٹ قائم رہا، تو یہ رجسٹر پر نہیں رکے گی۔ جس آدمی کو عمارت بھول جائے، اس کا کیا ہوتا ہے؟"
"تیسرا اصول،" ماہا نے کہا، اور الفاظ راکھ جیسے لگے۔ "بڑی تبدیلی، اور حال میں کوئی بھلا دیا جاتا ہے۔ جاوید سمجھتا ہے کہ اس نے چھوٹی تبدیلی کی ہے۔ مگر کسی آدمی کی پوری عملی زندگی چھوٹی نہیں ہوتی۔"
---
اس شام، شہباز قریشی خود مرینا ہائٹس آیا۔
وہ ڈرلوں یا وکیلوں کے ساتھ نہیں آیا۔ وہ سفید شلوار قمیض میں آیا، اور اس نے چوکیدار سے بہت ادب سے کہا کہ وہ ان نوجوانوں سے ملنا چاہتا ہے جو عمارت کی تاریخ کے بارے میں سوال پوچھ رہے ہیں۔
"مس صدیقی،" اس نے ماہا سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا، جیسے وہ کسی شادی میں مل رہے ہوں۔ "میں تمہارے کام کی تعریف کرتا ہوں۔ سچ میں۔ اپنے گھر کے لیے لڑتی ہوئی نوجوان لڑکی — یہ ایسی کہانی ہے جس کی کوئی بھی تعریف کرے گا۔" اس کی نظریں عمر پر، تارا پر، اور ان کے پیچھے پرانی لفٹ پر گھومیں۔ "مگر مجھے تم سے سچ کہنا ہے۔ میں نے دیکھ لیا ہے کہ تمہاری لفٹ کیا کر سکتی ہے۔ میرا آدمی اس میں سوار ہو چکا ہے۔ اور میں نے ایک بات سیکھی ہے جو شاید تم نہیں جانتیں: ماضی جس کے ہاتھ میں ہو، کاغذات بھی اسی کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔"
اس نے جیب سے پیتل کی چابی نکالی — گرم، پرانی، پہچانی ہوئی — اور دو انگلیوں کے درمیان اٹھا کر دکھائی۔ "جانتے ہو یہ کیا کھولتی ہے؟ کوئی دروازہ نہیں۔ کوئی تجوری نہیں۔" اس نے لفٹ کی طرف اشارہ کیا۔ "یہ لفٹ کا اپنا پیتل کا پینل کھولتی ہے۔ وہ پینل جسے تمہارا لفٹ مین چالیس سال سے سنبھالتا آیا ہے۔ اس کے ساتھ، کوئی آدمی لفٹ کو جہاں چاہے، جتنی دیر چاہے، لہر کے دوران روک سکتا ہے۔ اسی طرح میرا آدمی تمہارے لفٹ مین کی اجازت کے بغیر سوار ہوا۔ اور اسی طرح، جب ڈرلیں اس عمارت کو پھر ہلائیں گی، میں خود سوار ہوں گا۔"
ماہا کو لگا کہ لابی اس کے قدموں تلے ہلکی سی جھک گئی ہے۔ "تم نہیں کر سکتے،" اس نے کہا۔ "لفٹ کے اصول ہیں۔"
"اصول،" قریشی نے نرمی سے کہا، "ان لوگوں کے لیے ہوتے ہیں جنہوں نے کبھی وہ عمارت نہیں خریدی جس کے اصول لکھے گئے ہوں۔" اس نے چابی واپس جیب میں ڈال لی۔ "میں ظالم آدمی نہیں ہوں، مس صدیقی۔ میں تمہیں ایک پیشکش کرتا ہوں، اور یہ اگلی لہر تک قائم رہے گی: ڈی میلو کا ڈبہ ڈھونڈنا چھوڑ دو۔ مسماری ہونے دو، اور ہر رہائشی کو اچھی قیمت ملے گی اور اچھا گھر ملے گا۔ انکار کرو — اور میرا آدمی صفائی جاری رکھے گا۔ ایک وقت میں ایک سطر۔ اور ہم دیکھیں گے کہ ڈرلیں ختم ہونے تک تمہاری عمارت کی یاد کا کتنا حصہ بچتا ہے۔"
وہ جس طرح آیا تھا، اسی طرح چلا گیا، بغیر جلدی، لابی کے دروازوں سے، کراچی کی شام میں، جہاں رکشے اپنے ہارن بجانے لگے تھے اور ڈھابے کی بتیاں جل رہی تھیں۔
---
وہ لابی میں اس کے جانے کے بہت بعد تک کھڑے رہے، تینوں اور پرانی لفٹ، اور کوئی نہیں بولا۔
پھر لابی کی بتیاں جھلکیں — ایک بار، دو بار — اور پیتل کی گھنٹی نے اپنی چھوٹی سی، مہذب سی ٹنکار دی۔
کسی نے بلانے کا بٹن نہیں چھوا تھا۔ مگر لفٹ ویسے بھی جاگ رہی تھی، اور ماہا نے ٹھنڈک کے ساتھ سمجھا کہ پیتل کی چابی نے سودا بدل دیا ہے۔
اور پھر عمر نے ایسی آواز نکالی جیسے کسی کو چوٹ لگی ہو۔
"ماہا،" اس نے سرگوشی کی۔ "دیکھو۔"
اس کی اسکرین پر، اس کے والد کا رابطہ — ابو، جس کے ساتھ جب سے اس کے پاس فون تھا، لفٹ کی چھوٹی سی علامت لگی تھی — مدھم ہو رہا تھا۔ نام کناروں سے پتلا ہو رہا تھا، حرف بہ حرف۔ اور اس کے نیچے، جہاں اس کے والد کا نمبر ہوتا تھا، اب صرف خالی جگہ تھی۔
عمر نے اپنے والد کو دیکھا، جو لفٹ کے جالے کے پاس، ہاتھ میں تیل کی کنستری لیے، خالی پیتل کی تختی کو گھور رہے تھے۔
"ابو،" عمر نے بہت آہستہ سے کہا۔ "کیا آپ کو میرا نام یاد ہے؟"
رفیق چاچا اپنے بیٹے کی طرف مڑے — اور ہچکچائے۔ صرف اتنی دیر کہ دل ڈوب جائے۔