Science & Natureاردو
مالی روبوٹ اور صبر کا بیج
aurora
شہر کے بیچ ایک روبوٹ مالی رہتا تھا — بیجو۔ وہ ہر کام بجلی کی رفتار سے کرتا تھا: جھاڑو، پانی، کھاد، سب کچھ سیکنڈوں میں! ایک دن اس نے سیب کا بیج بویا، مٹی ڈالی، پانی دیا... اور اگلے ہی لمحے چلایا: درخت کہاں ہے؟!
بوڑھی دادی ہنسنے لگیں: بیجو! درخت پزا نہیں جو دو منٹ میں تیار ہو جائے! بیجو نے حیرت سے پوچھا: تو پھر؟ دادی نے کہا: اسے پانی چاہیے، دھوپ چاہیے، اور سب سے بڑھ کر — صبر۔ صبر؟ بیجو نے سر کھجایا۔ یہ کون سی کھاد ہے؟
دادی نے سمجھایا: صبر کا مطلب ہے روز محنت کرو اور انتظار کرو۔ بیجو نے ہر صبح پودے کو پانی دیا، نرم مٹی ڈالی، اور اس سے باتیں بھی کیں: بڑے ہو جاؤ، ننھے دوست! بچے ہنستے: بیجو تو پودے سے بھی باتیں کرتا ہے!
ایک دن تیز آندھی آئی اور ننھی کونپل جھک گئی۔ بیجو گھبرایا، مگر دادی نے کہا: گھبراؤ نہیں، سہارا دو۔ بیجو نے لکڑی کا سہارا باندھا۔ پودا پھر سیدھا کھڑا ہو گیا — جیسے کہہ رہا ہو: شکریہ دوست!
مہینے گزرے۔ پتے آئے، پھول کھلے، اور ایک سال بعد... ٹہنیوں پر لال لال سیب! بیجو خوشی سے ناچنے لگا: میرے سیب! میرے سیب! اس نے پہلا سیب دادی کو دیا اور کہا: آج میں نے سیکھا — جلدی سے نہیں، صبر سے پھل ملتا ہے۔
پیارے بچو، کیا تم نے کبھی کوئی بیج بویا ہے؟ تو صبر کرو — فطرت اپنا کام جانتی ہے۔
سبق: محنت اور صبر سے ہر بیج درخت بنتا ہے۔