Moral Storiesاردو
سچ بولنے والا کمپیوٹر
aurora
احمد کے ابو ایک پرانا کمپیوٹر لائے۔ احمد نے بٹن دبایا تو اسکرین جگمگائی اور آواز آئی: میں بول سکتا ہوں! میرا نام سچو ہے — اور میں صرف سچ بولتا ہوں۔ احمد کی آنکھیں پھیل گئیں۔ واقعی؟
دونوں میں گہری دوستی ہو گئی۔ احمد روز اسکول کی باتیں سچو کو سناتا۔ ایک دن اس نے اپنے دوست کی پنسل توڑ دی۔ گھر آ کر امی نے پوچھا تو احمد نے جلدی سے کہا: میں نے نہیں توڑی!
اسی لمحے سچو کی اسکرین پر سرخ بتی جلی اور عجیب سی آواز آئی: بیپ بیپ! جھوٹ پکڑا گیا! احمد گھبرا گیا: سچو! تم نے امی کو تو نہیں بتایا؟ سچو نے نرمی سے کہا: نہیں، مگر تمہارا دل تو جانتا ہے نا؟ جھوٹ دل کو بھاری کر دیتا ہے۔
رات بھر احمد کروٹیں بدلتا رہا۔ پنسل والی بات اس کے سینے پر پتھر کی طرح پڑی تھی۔ صبح ہوتے ہی وہ دوست کے گھر دوڑا۔ اس نے معافی مانگی اور نئی پنسل دی۔ دوست نے مسکرا کر کہا: کوئی بات نہیں! اور احمد کا دل — پھررر — ہلکا ہو گیا، جیسے غبارہ آسمان کی طرف اڑ گیا ہو۔
گھر آ کر احمد نے امی کو بھی سچ بتا دیا۔ امی نے اسے گلے لگایا۔ ابو نے فخر سے کہا: بیٹا، تم نے آج سب سے مشکل اور سب سے اچھا کام کیا۔ سچو کی اسکرین پر ستارے جگمگائے۔
پیارے بچو، کیا تمہارا دل بھی کبھی بھاری ہوا ہے؟ تو سمجھ جاؤ — سچ بولو، دل ہلکا ہو جائے گا۔
سبق: سچ میں سکون ہے، اور غلطی مان لینا بہادری ہے۔